شیخ زید کی پینٹنگ خوش قسمتی کیسے؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے درالحکومت لاہور میں جوڑا پل کے پاس ائیر پورٹ روڈ پر شوکت علی پینٹنگز اور سکیچ بنانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی عمر 40 سال ہے اور وہ گذشتہ 20 سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔
ویسے تو وہ لوگوں کی مرضی کے مطابق ان کے پورٹریٹ بنا کر دیتے ہیں لیکن جب کبھی ان کے پاس گاہک نہیں ہوتے تو وہ بڑی شخصیات کی پینٹنگز بنا کر اپنا وقت گزارتے ہیں۔
لاہور کے علاقے جوڑا پل میں اپنے چھوٹے سے مکان کے ایک حصے کو بھی انہوں نے اپنے کام کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ویسے تو سڑک کنارے بیٹھ کر ہی اپنے فن کے جوہر دکھاتے ہیں لیکن جب گاہک میسر نہ ہوں تو گھر میں بیٹھ کر ہی اپنے برش کو حرکت میں رکھتے ہیں۔
آج کل ان کے کینوس پر ابو ظہبی کے سابق حکمران شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کا پورٹریٹ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا مرکز ہے۔


اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ’میں نے تقریباً سبھی بڑی شخصیات کے پوسٹر بنائے ہیں، قائداعظم سے لے کر موجودہ سیاستدانوں تک۔‘
انہوں نے کہا کہ شیخ زاید کے بارے میں بہت سنا تھا کہ وہ بہت خدا ترس تھے اسی خیال سے میں نے ان کے پورٹریٹ بنانا شروع کیے۔ یہ میں ان کا دوسرا پورٹریٹ بنا رہا ہوں۔ اگر بڑی شخصیات کی پینٹنگز بنا کر اڈے (کام کی جگہ) پر رکھی ہوں تو گاہک متوجہ ہوتے ہیں اور کام اچھا چلتا ہے۔‘
شوکت علی زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، انہوں نے صرف چھٹی جماعت تک ہی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد وہ آئل پینٹ اور سکیچنگ کی طرف ایسے مائل ہوئے کہ یہ ہنر سیکھ کر ہی دم لیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’مجھے 15 سال لگے یہ فن سیکھنے میں اور اب اللہ کا شکر ہے میں مشکل سے مشکل سکیچ بھی بنا لیتا ہوں۔ میرے زیادہ تر گاہک فوجی افسر یا جوان ہیں کیونکہ میں کینٹ کے علاقے میں رہتا ہوں تو لوگ اپنے پورٹریٹ بنوانے کے لیے رابطہ کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک سے باہر جانے والے بھی ارجنٹ پورٹریٹ بنوانے کے لیے رابطہ کرتے ہیں۔‘

لوگ شیخ زاید کے پورٹریٹ بطور گفٹ لے کر جاتے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

تو کیا آپ کے پاس اتنے گاہک ہو جاتے ہیں کہ آپ اپنے چار بچوں کا پیٹ آسانی سے پال سکیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میں ایک سکیچ کے دو ہزار روپے لیتا ہوں جبکہ پینٹنگ کے پانچ ہزار تک۔ کبھی کبھار ہفتہ اچھا لگ جاتا ہے، کبھی بہت سست رہتا ہے۔ اوسطاً میں مہینے کے 20 ہزار روپے تک کما لیتا ہوں میرے دو بیٹے میٹرک کے بعد کام کر رہے ہیں جبکہ دو بیٹیاں پڑھ رہی ہیں۔‘
شوکت علی اپنے کام کے اتنے ماہر ہیں کہ مختصر وقت میں مشکل سے مشکل سکیچ یا پورٹریٹ بنا لیتے ہیں لیکن شاید ان کے فن کے قدر شناس زیادہ نہیں کیونکہ ایک دہائی سے وہ اتنے پیسے جمع نہیں کر سکے کہ اپنی چھوٹی سی دکان ہی بنا لیں۔
اپنی کہانی سناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں شام کو اپنا سامان کسی کی دکان میں رکھتا ہوں، صبح نکال کر سڑک کنارے رکھ لیتا ہوں اور شام کو ویسے ہی دوبارہ اسی دوکان میں رکھ لیتا ہوں لیکن اس ساری تگ و دو میں ذہن کافی منتشر رہتا ہے، ابھی دیکھیں یہ قائد اعظم کی قد آدم پورٹریٹ میں نے بہت عرصہ پہلے شروع کی تھی لیکن ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔‘

شوکت علی کئی بڑی شخصیات کے پورٹریٹ اور سکیچ بنا چکے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

شوکت علی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ شیخ زاید کا پورٹریٹ بنا کر اپنے اڈے پر رکھنے کا خیال اس لیے بھی آیا تھا کہ پاکستان سے لوگ بڑی تعداد میں دبئی وغیرہ کام کے لیے جاتے ہیں تو کوئی کسی کے لیے تحفہ لے کر جانا چاہے تو پورٹریٹ لے جائے۔
ان کے بقول اسی طرح انہوں نے مریم نواز اور عمران خان کے پورٹریٹ بھی بنائے جو لوگوں نے خریدے۔
تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ لوگ ہاتھ سے کی گئی محنت کے زیادہ پیسے نہیں دیتے ہیں ’ایک درمیانے سائز کے پورٹریٹ پر اگر پوری دل جمعی سے کام کیا جائے تو لگاتار آٹھ گھنٹے سے بھی زیادہ کا وقت لگتا ہے اور لوگ اس محنت کے حساب سے پیسے دینے کے لیے راضی نہیں ہوتے۔‘
شوکت علی کا کہنا ہے کہ ’ساری زندگی اسی شوق میں گزر گئی اب اس کے علاوہ مجھے کوئی دوسرا کام نہیں آتا۔‘ 

شیئر: