ٹرمپ کے مشیر جان بولٹن ’برطرف‘

امریکی صدر نے جان کو 23 مارچ 2018 کو قومی سلامتی کا مشیر بنایا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
منگل کو ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’انتظامیہ کے دیگر افراد کی طرح مجھے بھی جان کی بہت سی تجاویز سے سخت اختلاف تھا لہذا میں نے ان سے استعفیٰ مانگا تھا جو انہوں نے آج صبح مجھے دے دیا ہے۔ میں نے جان کو بتایا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں ان کی مزید خدمات درکار نہیں ہیں۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جان بولٹن کے متبادل کا اعلان اگلے ہفتے کریں گے۔
دوسری طرف جان بولٹن نے کہا ہے کہ انہیں برطرف نہیں کیا گیا بلکہ انہوں نے خود استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’میں نے کل رات صدر ٹرمپ کو استعفے کی پیش کش کی لیکن انہوں نے کہا کہ اس پر کل بات کریں گے۔‘
ٹرمپ نے بولٹن کی برطرفی کا اعلان اس وقت کیا جب تھوڑی ہی دیر پہلے وائٹ ہاؤس پریس آفس کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ جان بولٹن کچھ ہی دیر پر دہشت گردی کے مسائل پر بات کرنے کے لیے سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کے ہمراہ پریس کانفرنس کریں گے۔
خیال رہے کہ جان بولٹن افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے سخت مخالف تھے۔ رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ مخالف پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ طالبان بات چیت سے انہیں الگ کر دیا تھا۔
اب ان کا استعفی ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صرف دو روز قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ افغان امن مذاکرات کی معطلی کا اعلان کیا ہے اور مذاکرات کو مردہ قرار دیا ہے جبکہ دوسری طرف طالبان نے بھی کہا ہے کہ وہ لڑنے کے لیے تیار ہیں اور مذاکرات معطل کرنے کا زیادہ نقصان خود امریکہ ہی کو ہوگا۔

جان بولٹن کہتے ہیں کہ انہوں نے خود استعفیٰ دیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

امریکی صدر نے جان کو 23 مارچ 2018 کو قومی سلامتی کا مشیر بنایا تھا۔ وہ اس سے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں۔ 
اقوام متحدہ میں بطور سفیر جان بولٹن روس کے خلاف سخت موقف رکھنے اور ایران اور شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے حامی تھے۔ وہ اپنے جارحانہ اور سخت گیر رویے کی وجہ سے قدامت پسند شخص کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔

شیئر: