جنیوا میں کشمیر سے کرفیو ہٹانے کا مطالبہ

مشترکہ اعلامیے میں تمام ممالک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ فوٹو اے ایف پی
جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پچاس سے زائد رکن ممالک نے کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاقے سے کرفیو اٹھانے اور حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے انسانی حقوق کونسل میں خطاب کے بعد سامنے آیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان نے مشترکہ اعلامیہ 50 سے زائد ممالک کی جانب سے پیش کیا۔ 
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اینادولو‘ کے مطابق ترکی اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی اعلامیے کی ہمایت کی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انڈیا عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو کشمیر کے دورے کی اجازت دے، انسانی حقوق کا احترام کیا جائے، علاقے میں طاقت خصوصاً پیلٹ گنز کا استعمال بند کیا جائے اور ذرائع مواصلات بحال کیے جائیں۔
اعلامیے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کا کہا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں تمام ممالک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی انڈیا سے کشمیر میں کرفیو ہٹانے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اعلامیے کے نکات ٹویٹ کرتے ہوئے کونسل سے ان پر جلد عمل درآمد کرنے کا کہا۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انسانی حقوق کونسل کے 42 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کونسل میں کشمیر کے عوام کی استدعا اور مقدمہ لے کر آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، انڈیا نے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو چھ ہفتوں سے قید کر رکھا ہے۔ ’انڈیا نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے۔‘
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا نے حریت قیادت کو بھی چھ ہفتوں سے نظر بند رکھا ہوا ہے اور انڈین فورسز کشمیر میں نوجوانوں پر بہیمنانہ تشدد کر ر ہی ہیں۔
وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ انڈیا کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ کشمیر اس کا اندورنی معاملہ ہے۔ عالمی قوانین کے تحت انڈیا کی جانب سے یک طرفہ طور پر کشمیر کی حثیت تبدیل کرنا غیر آئینی اقدام ہے۔ جنیوا کنونشن کشمیر میں کسی دوسری ریاست کی آبادی کو لا کر بسانے کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جان بچانے والی ادویات اور کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے۔ انڈیا اپنے اقدامات کے ذریعے کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے اور وہاں لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا کی جانب سے پانچ اگست کو اپنے زیرانتظام کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنےکے بعد سے علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے اور وہاں کرفیو نافذ ہے۔
کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد سے پاکستان اور اںڈیا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی محدود کر رکھے ہیں۔

شیئر: