تب لا الہ الا اللہ بلڈنگ کے بعد جدہ ختم تھا 

بڑے بوڑھوں کے ساتھ گپ شپ کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ جہاں کہیں بھی کسی مجلس میں مجھے بزرگ نظر آتے ہیں تو ان کے ساتھ گفتگو کرنے میں بڑا لطف آتا ہے۔ ہمارا پسندیدہ موضوع پچھلے زمانے کی یادیں رہتا ہے۔ میں طرح طرح کے سوالات کر کے انہیں ماضی میں لے جاتا ہوں اور معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ گزشتہ زمانہ کیسا تھا۔
یہ تمہید اس لیے باندھ رہا ہوں کہ جدہ کی ایک قدیم اور تاریخی عمارت گرانے کی خبر یہاں گردش کر رہی ہے۔ میری مراد معروف زمانہ ’’لاالہ الا اللہ بلڈنگ ‘‘سے ہے جو شہر کے عین وسط میں دو بڑی شاہراہوں مدینہ اور فلسطین کے سنگم پر ہے۔
یقین کریں کہ مجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ جدہ کی اس یادگار عمارت کو گرا کر اس کی جگہ جدید طرز کا ٹاور تعمیر کرنے کا اعلان ہوا ہے۔
مگر ٹھہریں، پہلے میں آپ کو آج سے 50 سال پہلے کے زمانے میں لے جاتا ہوں۔
یہ جدہ شہر ہے جو قدیم فصیل سے نکل کر شمال کی سمت اپنی باہیں تیزی کے ساتھ پھیلا رہا ہے۔ اس کے مشرق میں مکہ مکرمہ کے پہاڑ اور مغرب میں بحیرہ احمر ہے اور دونوں طرف سے اس کا پھیلنا اس وقت ممکن نہیں ۔ 
50 سال پہلے کا جدید جدہ پھیل کر شارع فلسطین تک پہنچ جاتا ہے۔ اس شاہراہ کے بعد بنجر زمین ہے جہاں ویرانے کے سوا کچھ نہیں۔ شارع فلسطین کے ساتھ یہاں الرویس محلہ ہے جو اس وقت نیا تعمیر ہوا تھا۔

معروف زمانہ ’لاالہ الا اللہ‘ بلڈنگ جدہ کے عین وسط میں دو بڑی شاہراہوں مدینہ اور فلسطین کے سنگم پر واقع ہے۔

بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے، جب کوئی صبح گھر سے نکل کر الرویس کا رخ کرتا تھا تو گھر والے سمجھ جاتے تھے کہ یہ شام سے پہلے واپس نہیں آئے گا۔ اس زمانے میں الرویس بہت دور سمجھا جاتا تھا۔
جدہ کی معروف تاجر فیملی الدخیل نے بھی اسی چیز کو محسوس کیا کہ شہر شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس نے کاروباری دماغ لڑاتے ہوئے طریق مدینہ اور فلسطین کے سنگم پر ایک اونچی اور عالی شان عمارت تعمیر کرلی۔ تاریخ تعمیر شاید صحیح طرح سے کسی کو معلوم نہیں البتہ اس عمارت کی طرز تعمیر بڑی منفرد تھی۔ ایک اونچی اور بہت چوڑی عمارت جس کا رخ شمال کی جانب تھا۔ 
الدخیل فیملی نے اپنی نئی بلڈنگ کے دونوں کونوں پر شاید برکت کے لیے ’لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ لکھوا دیا۔ بس پھر کیا تھا بلڈنگ ہی اسی نام سے معروف ہوگئی۔
اب الرویس محلہ کا کوئی نام نہیں لیتا، فلاں کہاں گیا ہے، وہ لا الہ الا اللہ بلڈنگ والے محلے میں گیا ہوا ہے۔ اس پر جواب ملتا ’اوہ، تب تو شام سے پہلے واپس نہیں آئے گا۔‘ 
میرے والد صاحب مرحوم بھی جدہ کے پرانے باسیوں میں سے تھے بلکہ جدہ کو بنتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔ ایک مرتبہ مجھ سے کہا ’لا الہ الا اللہ بلڈنگ کے بعد کچھ نہیں تھا، آگے شہر ختم تھا، ویرانہ تھا بس، جب بلڈنگ بنی تو لوگ دور دور سے آتے اور اسے دیکھتے۔‘
لا الہ الا اللہ بلڈنگ صرف اسی حوالے سے مشہور نہیں کہ یہ جدہ کی قدیم عمارتوں میں سے ایک ہے بلکہ اس کی ایک اور دلچسپ کہانی بھی ہے جو شاید لوگوں کو نہیں معلوم ۔

جدہ کی اس یادگار عمارت کو گرا کر اس کی جگہ جدید طرز کا ٹاور تعمیر کرنے کا اعلان ہوا ہے۔

جدہ کے باسی جانتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ بلڈنگ اس وجہ سے بھی مشہور ہے کہ یہاں مشہور زمانہ البیک ریستوران بھی ہے۔ وہی البیک جو حجاز کی پہچان بن گیا ہے۔ یہاں حج وعمرہ اور وزٹ ویزے پر کوئی بھی آتا ہے تو البیک کھائے بغیر واپس نہیں جاتا اور جو ایک مرتبہ البیک کھالے تو اس کا ذائقہ زندگی بھر نہیں بھولتا۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ لا الہ الا اللہ بلڈنگ میں البیک کی اولین برانچ ہے۔ میں نے پہلی برانچ نہیں کہا، اولین کہا ہے۔ اس کی بھی کہانی سناتا ہوں۔
1974 میں جب البیک کے بانی شکور ابو غزالہ نے مختلف تجربات کرنے کے بعد حجاز میں بروسٹ کو متعارف کروایا تو البیک کے نام سے اپنی پہلی برانچ کھولنے کا سوچنے لگے۔ اس وقت لا الہ الا اللہ بلڈنگ نئی نئی تعمیر ہوئی تھی اور شہر شمال کی جانب تیزی کے ساتھ پھیل رہا تھا۔
شکور ابوغزالہ نے الدخیل فیملی سے اسی بلڈنگ میں دکان کرایہ پر حاصل کی مگر ایک مسئلہ یہ ہوگیا کہ طے شدہ وقت پر بلڈنگ کو بجلی کنکشن نہیں مل سکا۔
بجلی کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ عمارت شہر سے بہت دور ہے اور وہاں تک بجلی پہچانے میں ابھی وقت لگے گا۔ شکور ابوغزالہ البیک کی پہلی برانچ کا افتتاح کرنے میں جلدی کر رہے تھے اور مزید انتظار کے متحمل نہیں تھے۔ مجبوراً انہوں نے شرفیہ محلے میں پرانے ایئرپورٹ روڈ پر واقع ایک ورکشاپ کرائے پر لے لی اور اس کی مرمت کرنے کے بعد البیک کا افتتاح کردیا۔
شرفیہ کے علاقہ سے واقف لوگوں کو معلوم ہے کہ میں کون سے البیک کی بات کر رہاہوں۔ یہ وہی برانچ ہے جو شرفیہ میں اولڈ ایئرپورٹ روڈ پر اور پرانے ترحیل کے سامنے ہے۔ 

نئی بلڈنگ میں تاریخی عمارت کی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس پر لا الہ الا اللہ لکھا جائے گا۔

جی ہاں، یہ البیک کی پہلی برانچ تھی مگر البیک کے بانی شکور ابوغزالہ کو شہر کے شمال کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ جیسے ہی لا الہ الا اللہ بلڈنگ میں بجلی کی سپلائی ہوئی تو انہوں نے وہاں دوسری برانچ کھول لی۔ یہ وہی برانچ ہے جو آج بھی وہاں قائم ہے۔
لا الہ الا اللہ بلڈنگ سے وابستہ کئی یادیں اہل جدہ کے دلوں میں نقش ہیں۔ جب ایسا ہوتاہے تو یہ محض عمارت نہیں رہتی بلکہ اس کے ساتھ ایک جذباتی سا تعلق ہوجاتاہے۔
اب 50 سال کے بعد لا الہ الا اللہ بلڈنگ کی ملکیت اصل مالکان کی وفات کے بعد وارثوں کو منتقل ہوگئی ہے جنہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے گراکر یہاں جدید طرز کا ٹاور تعمیر کیا جائے۔ 
بلڈنگ کے مالک عبد العزیز الدخیل نے پہلے ٹویٹر پر اور بعد ازاں میڈیا کو بتایا کہ لا الہ الا اللہ بلڈنگ مرور زمانہ کے ساتھ کافی بوسیدہ ہوگئی ہے۔ اس کی مرمت کرنے پر غور کیا گیا مگر ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اس کی مرمت کا فائدہ نہیں۔ سو فیصلہ ہوا کہ اسے گرا کر اس کی جگہ جدید طرز کا ٹاور تعمیر کیا جائے گا۔ 
انہوں نے کہا کہ ایک سال کے عرصے میں بلڈنگ کو خالی کروالیا جائے گا۔ یہاں ایک 4 اسٹار ہوٹل قائم ہوگا۔ اس کے ڈیزائن پر غور کیا جارہا ہے۔
انہوں نے اہل جدہ کو اطمینان دلاتے ہوئے کہا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ لا الہ الا اللہ بلڈنگ سے اہل جدہ کا جذباتی تعلق ہے۔ اس کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ ہم کسی ایسے ڈیزائن کا جائزہ لے رہے ہیں جو تاریخی عمارت کی شناخت برقرار رکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ نئے ٹاور پر بھی لا الہ الا اللہ اسی طرح لکھا جائے گا جس طرح پرانی عمارت پر لکھا تھا۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: