اعضا کی پیوند کاری کے قانون کا مسودہ منظور

انسانی اعضا کے عطیہ قانون کا مسودہ 28 دفعات پر مشتمل ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
مجلس شوریٰ نے اعضا کی پیوند کاری کے قانون کی مسودے کی منظوری دیدی ہےجسے حتمی منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
پیر کو ریاض میں شیخ ڈاکٹر عبد اللہ آل الشیخ کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں منظور ہونے والے مسودے میں اعضا کے عطیات کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو منظم کیا گیا ہے۔ 
سعودی خبر رساں ادارے (ایس پی اے) کے مطابق انسانی اعضا کے عطیہ قانون کا مسودہ 28 دفعات پر مشتمل ہے۔ ان کے ذریعہ اعضا کی منتقلی، پیوند کاری اور تحفظ کے قاعدے ضابطے مقرر کیے گئے ہیں۔

مسودے میں اعضا کے عطیات کو منظم کیا گیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)

مسودے میں اعضا عطیہ کرنے والے اور جنہیں عطیہ کیا گیا دونوں فریقوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اعضا کی پیوند کاری میں دلچسپی رکھنے والے اداروں کو لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔ قانون میں لائسنس کے ضوابط اور شرائط بھی متعین کردیئے گئے ہیں۔
مسودے میں اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ نہ تو کوئی مریض کی ضرورت سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور نہ ہی اعضا عطیہ کرنے والے کو مشکلات میں ڈالا جائے۔ انسانی اعضا کے کاروبار پر پابندی بھی لگادی گئی ہے۔
واضح رہے سعودی عرب نے اعضا کے عطیے کے خواہشمند حضرات کے لئے ایک ویب سائٹ قائم کر رکھی ہے۔ جو لوگ اپنی موت کے بعد اپنے اعضا عطیہ کرنا چاہتے ہیں وہ ویب پر اندراج کراسکتے ہیں۔ 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: