’تشدد ہوا مگر یہ موت کی وجہ نہیں‘

صلاح الدین کو اے ٹی ایم مشینوں سے کارڈ چرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فوٹو: فائل
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں میں پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے صلاح الدین کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔
رپورٹ رحیم یار خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال نے جاری کی ہے۔
اردو نیوز کو موصول ہونے والی دو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں فرانزک لیب سے حاصل شدہ حقائق کی روشنی میں صلاح الدین کے جسم پر تشدد کی تصدیق کی گئی ہے۔
رحیم یار خان کے ضلعی ہسپتال کے سربراہ غلام ربانی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا ’ہم نے جسم کے مختلف اعضا فرانزک لیب کو بھجوائے تھے اور اب اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ موت سے قبل صلاح الدین پر تشدد کیا گیا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جس حد تک تشدد رپورٹ میں آیا ہے اس سے کسی کی جان نہیں جا سکتی، دوسرے لفظوں میں صلاح الدین کی موت محض تشدد کی وجہ سے نہیں ہوئی۔‘

گرفتاری کے بعد ایسی ویڈیوز سامنے آئی تھیں جن میں پولیس بظاہر صلاح الدین پر تشدد کر رہی تھی۔ فوٹو: ٹویٹر

انہوں نے بتایا کہ صلاح الدین پر تشدد ایسی چیز سے کیا گیا تھا جو کہ تیز دھار نہیں تھی۔
ڈاکٹر غلام ربانی کے مطابق صلاح الدین کے پھیپھڑوں سے ایسے شواہد ملے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سونگھنے والی کسی چیز جیسا کہ صمد بانڈ کا نشہ بھی کرتے تھے۔
جس کی وجہ سے ان کے دماغ کے کچھ حصے بھی متاثر تھے۔ اس کے علاوہ وہ جگر کی بیماری میں بھی مبتلا تھے۔ تاہم ان میں سے کسی ایک چیز کو بھی موت کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس سوال کے جواب میں کہ پھر صلاح الدین کی موت کیسے ہوئی؟ ڈاکٹر غلام ربانی نے بتایا ’اگر ہم ان تمام عوامل کو اکھٹا کریں اور ایک چیز جس کو لیبارٹری میں پرکھا نہیں جا سکتا وہ ہے صدمے کی کیفیت۔‘
ان کے بقول ’ان سب چیزوں جن میں تشدد اور پولیس حراست کا خوف بھی شامل ہے کے ہوتے ہوئے شدید صدمہ لاحق ہونے سے موت واقع ہو سکتی ہے، دوسرے لفظوں میں صلاح الدین کی موت ایک پورے عمل کے نتیجے میں ہوئی۔‘
ڈاکٹر غلام ربانی نے کہا کہ میڈیا پر جو تشدد زدہ نشانات دکھائے گئے وہ پوسٹ مارٹم کے لیے جانے والے جسمانی اعضا کے تھے، یہ بات بھی اب واضع ہو گئی ہے کہ صلاح الدین کو کسی تیز دھار آلے سے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا جیسا کہ ان تصاویر میں ظاہر کیا گیا تھا۔

پنجاب پولیس پر الزام ہے کہ تھانوں میں زیر حراست ملزموں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

واضح رہے کہ صلاح الدین نامی شخص کی اگست کے مہینے کے آخری ہفتے میں مقامی میڈیا پر ایسی تصاویر نشر کی گئی تھیں جن میں وہ ایک اے ٹی ایم مشین سے چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمرے کی طرف دیکھ کر منہ بھی چڑا رہے ہیں۔
ان تصاویر کے ساتھ ان کے  اے ٹی ایم مشین سے اے ٹی ایم کارڈ چرانے کی خبریں نشر کی گئیں۔
صلاح الدین جن کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے ہے، کو ایک دوسرے شہر رحیم یار خان میں اے ٹی ایم مشینوں سے کارڈ چرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
گرفتاری کے بعد پولیس حراست میں صلاح الدین کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنا شروع ہوئیں جن میں بظاہر پولیس ان پر تشدد کر رہی ہے۔ 31 اگست کو یہ خبر چلی کہ وہ دوران حراست ہلاک ہو چکے ہیں۔
آئی جی پولیس نے تھانے کے ایس ایچ او سمیت تین اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا تھا جس میں وہ ابھی تک عبوری ضمانت پر ہیں جبکہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری بھی جاری ہے۔ 
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: