بالآخر سری لنکن ٹیم پاکستان آرہی ہے

سری لنکا کے دورے کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں. فوٹو: اے ایف پی
سری لنکن کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ ٹیم کا اس ماہ کے آخر سے شروع ہونے والا دورہ پاکستان شیڈول کے مطابق ہوگا۔
’سری لنکن کرکٹ‘ کے سیکریٹری موہن ڈی سلوا نے اے ایف پی کو بتایا کہ وزارت دفاع کی جانب سے ٹیم کو کلیرنس مل گئی۔ 
ان کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے سری لنکا کی ٹیم کو سربراہ مملکت کے برابر سکیورٹی دینے کے وعدے کے اعادے کے بعد ٹیم کے دورہ پاکستان کی اجازت دے دی گئی ہے۔ موہن ڈی سلوا نے کہا سری لنکا میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے سری لنکن حکومت کو حکومت پاکستان کے موقف کا اعادہ کرایا کہ ٹیم کو سربراہ مملکت کے برابر سکیورٹی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور دوسرے عہدے دار دورہ پاکستان کے دوران ٹیم کے ساتھ ہوں گے۔ 
خیال رہے جمعرات کے دن بھی موہن ڈی سلوا نے امید ظاہر کی تھی کہ قومی کرکٹ ٹیم کا اس ماہ کے آخر سے شروع ہونے والا دورہ پاکستان شیڈول کے مطابق ہو گا۔
موہن ڈی سلوا نے کہا تھا کہ وہ دورے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے سکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہیں۔

داسن شناکا دورہ پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت کریں گے، فوٹو: اے ایف پی

تاہم ان کے مطابق گذشتہ ہفتے دورہ پاکستان کے دوران ممکنہ حملے کے حوالے سے رپورٹ سامنے آنے کے بعد رپورٹس وزارت دفاع کو بھجوا دی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ سری لنکا رواں ماہ کی 27 تاریخ سے 9 اکتوبر کے درمیان پاکستان کے خلاف کراچی اور لاہور میں تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گا۔
اس سے پہلے  سری لنکا کے 10 کھلاڑیوں بشمول ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان لسیتھ ملنگا اور سابق کپتان انجیلو میتھیوز اور تھیسارا پریرا نے ’سکیورٹی وجوہات‘ کی بنا پر پاکستان جانے سے انکار کر دیا تھا۔
سینیئر کھلاڑیوں کے انکار کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ نے گذشتہ ہفتے دورہ پاکستان کے لیے جونیئر کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کا اعلان کیا تھا، تاہم ٹیم کے اعلان کے باوجود سری لنکا کے دورہ پاکستان کے حوالے شکوک و شبہات اس وقت پیدا ہو گئے جب گذشتہ ہفتے وزیراعظم کے آفس نے بورڈ کو ٹیم پر ممکنہ حملے سے متعلق رپورٹس سے آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں کچھ مہمان کرکٹر زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے اب تک اہم ٹیمیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان آنے سے انکار کرتی رہی ہیں اور ابھی تک ملک میں بین الاقوامی کرکٹ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے، تاہم  سری لنکا کی ٹیم نے 2017 میں لاہور میں ایک ٹی 20 میچ کھیلا تھا۔
موہن ڈی سلوا نے اے ایف پی کو بتایا کہ رواں ماہ کے شروع میں انہوں نے سکیورٹی کنسلٹنٹ کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران وہ سکیورٹی انتظامات سے مطمئن تھے۔
ٹکٹوں کے نرخ نہایت مناسب رکھے ہیں
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کر دیا ہے، ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز 20 ستمبر سے ہو گا۔ 27 ستمبر سے 2 اکتوبر تک ون ڈے سیریز کے لیے ٹکٹ کی قیمت 500 سے 3000 روپے تک ہو گی۔
 پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹکٹ کی قیمت فیملیز کی سہولت اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی ہے۔اقبال قاسم، نسیم الغنی، وسیم باری، محمد برادرز اور انتخاب عالم انکلوژرزکے ٹکٹ 500 روپے جبکہ آصف اقبال، وقار حسن اور ماجد خان انکلوژرز کے ٹکٹ 1000روپے میں فروخت ہوں گے۔
 قائد، وسیم اکرم، عمران خان اور ظہیر عباس انکلوژرز 2000 جبکہ حنیف محمد، جاوید میانداد اور فضل محمود انکلوژرز کے ٹکٹ 3000 روپے میں فروخت کیے جائیں گے۔
قذافی سٹیڈیم لاہور میں ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے انضمام الحق، نذر محمد، قائد، امتیاز احمد، ظہیرعباس، حنیف محمد، ماجد خان، عبدالقادر، سعید احمد اور سرفراز نواز انکلوژرز کے ٹکٹ کی قیمت 500 جبکہ عبدالحفیظ کاردار، راجاز، جاوید میانداد اور سعید انور انکلوژرز کے ٹکٹ 1500 روپے کے ہوں گے۔
 عمران خان اور فضل محمود انکلوژرز  3000جبکہ وسیم اکرم اور وقار یونس انکلوژرز کے لیے ٹکٹ کی قیمت 5000 روپے رکھی گئی ہے۔
 پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے شراکت دار کے تعاون سے ٹکٹ کی تیاری میں ایک مخصوص ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے جسے دوبارہ تیار کرنا ممکن نہیں۔ڈائریکٹر کمرشل پی سی بی بابر حامد کا کہنا ہے کہ شائقین کرکٹ کی کھیل میں دلچسپی پاکستان کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح ہے۔ وہ سٹیڈیم کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ فیملیز کی بڑی تعداد کو میچز دیکھنے سٹیڈیمز آنے کی دعوت د ی جا رہی ہے۔

شیئر: