Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کھلاڑیوں کے ذاتی ریکارڈز نہیں، ٹرافیاں اہم ہیں: انڈین ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر

گوتم گمبھیر کے مطابق انفرادی ریکارڈز کے بجائے اب جیت اور ٹرافیوں کو ترجیح دی جائے گی۔تصویر: اے ایف پی
انڈین کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے کہا ہے کہ ٹیم میں اب زیادہ توجہ انفرادی کارناموں کے بجائے ٹیم کی جیت اور ٹرافیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ 
ان کے مطابق ٹیم اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ اصل کامیابی ذاتی ریکارڈ نہیں بلکہ عالمی اعزازات جیتنا ہے۔
کرک انفو کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پریس کانفرنس میں گوتم گمبھیر نے کہا کہ ماضی میں ہمارے ہاں انفرادی ریکارڈز پر بہت زیادہ بات ہوتی رہی ہے تاہم اب اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
’بہت عرصے تک ہم صرف انڈین کرکٹ کے انفرادی ریکارڈز پر بات کرتے رہے ہیں۔‘
’میری خواہش ہے کہ جب تک میں یہاں ہوں، ہم انفرادی سنگ میلوں کی بات نہ کریں۔ ہمیں ٹرافیوں کو سراہنا چاہیے کیونکہ ٹیم سپورٹ کا اصل مقصد جیتنا ہوتا ہے۔‘
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ میچوں میں سنجو سیمسن نے 97 ناٹ آؤٹ، 89 اور 89 رنز کی اننگز کھیلیں۔  ’اگر سیمسن اپنی سنچری کے بارے میں سوچتے تو شاید ٹیم 250 سے زیادہ کا مجموعہ نہ بنا پاتی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیمسن نے سیمی فائنل اور فائنل دونوں میں سینچری کے قریب پہنچ کر چھکا لگانے کی کوشش کی اور آؤٹ ہو گئے لیکن ٹیم کے مفاد کو مقدم رکھنے کی یہی سوچ بڑے سکور کا باعث بنی۔
ان کے مطابق ’اگر کوئی بیٹر 94 پر کھیل رہا ہو تو کیا اس میں اتنی ہمت ہے کہ اگلی ہی گیند پر سنچری بنانے کی کوشش کرے، بجائے اس کے کہ تین چار گیندوں میں سنگ میل حاصل کرنے کے بارے میں سوچے؟‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہماری ٹیم نے یہی ذہنیت اپنائی اور یہی ہماری کامیابی کی وجہ بنی۔‘
گوتم گمبھیر نے ورلڈ کپ کی فتح اپنے تین سابق ساتھیوں کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سابق کوچ راہول ڈریوڈ، وی وی ایس لکشمن اور چیف سلیکٹر اجیت اگرکر شامل ہیں۔

انڈین ہیڈ کوچ کے مطابق ٹیم کی سب سے بڑی طاقت اس کا وسیع ٹیلنٹ پول ہے، جس کی بدولت مختلف کمبینیشن آزمانا ممکن ہوا۔ تصویر: اے ایف پی

انھوں نے کہا کہ راہول ڈریوڈ نے اپنے دور میں انڈین کرکٹ کی مضبوط بنیاد رکھی جبکہ وی وی ایس لکشمن بی سی سی آئی کے سینٹر آف ایکسیلینس کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کے بقول ’اجیت اگرکر نے بطور چیف سلیکٹر ایمانداری کے ساتھ ٹیم کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی سب سے بڑی طاقت اس کا وسیع ٹیلنٹ پول ہے جس کی وجہ سے ٹیم مختلف کمبینیشن آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں رنکو سنگھ ٹیم میں شامل تھے جبکہ سنجو سیمسن کو جگہ نہیں ملی تھی۔ بعد ازاں ٹیم کمبینیشن تبدیل کیا گیا، تلک ورما کو نیچے بیٹنگ دی گئی اور سیمسن کو اوپنر کے طور پر شامل کیا گیا۔ سیمسن نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

شیئر: