’پہلے دفتر میں جی نہیں لگتا تھا اب گھر میں‘

جیت مجبوریوں کی ہی ہوتی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
اونٹ جب تک پہاڑ کے نیچے نہ آئے اپنے سے اُونچا کسی کو نہیں جانتا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ میرے ساتھ ہو رہا ہے، بچپن میں انتہائی پیاری لگنے والی چھٹیوں کا نام سن کر ہی اب اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔
45 دن پہلے کی بات ہے جب میں نے ایک نوکری کو الوداع کہا اور دوسری اختیار کی۔ پانچ سال کا طویل سفر ختم ہونے کو آیا جس میں بہت سے تعلق بنے اور پھر ختم ہوئے۔ ختم ہونے کا مطلب جو چہرے روز نظر آتے تھے اب شاید بمشکل ہی نظر آئیں۔ رابطے بھی اتنے خاص قائم ہونے والے نہیں لگتے ایسے میں ایک بات تو قابلِ ذکر ہے جہاں پرانے دوستوں سے بچھڑنے کا غم ہے وہاں نئے دوستوں سے ملنے کی خوشی بھی ہے۔
 دفتر نیا ہے لوگ بھی نئے ہیں اب تک کی اطلاعات کے مطابق ماحول ہمیں راس آتا جارہا ہے۔ سچ کہوں تو اب ذرا کام میں دل لگتا ہے اور سکون بھی ملتا ہے۔ ان 45 دنوں میں اب ایسا ہے کہ صبح ہوتے ہی دفتر جانے کو جی چاہتا ہے جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔
پہلے پہل اگر بادلِ نخواستہ رات سونے سے قبل خیال آجائے، جو کہ قریباً ہر دوسرے روز ہی آجاتا تھا کہ صبح پھر دفتر جانا ہے تو ساری رات نیند نہیں آتی تھی، علی الصبح آنکھ لگتی اور پھر وہی درد سر۔ اگر کبھی ہم معمول سے ہٹ کر ذرا جلدی سونے میں کامیاب ہو جاتے تو صبح آنکھ کُھلتے ہی سب سے پہلی چیز جو ہم پر حملہ آور ہوتی وہ یہ کہ پھر وہیں جانا ہے اور پھر وہی کام۔ یقین کیجیے یہ حملہ اتنی زبردست نوعیت کا ہوتا کہ دوبارہ آنکھ لگنا بھی میسر نہ ہوتا، مَن اتنی اکتاہٹ کا شکار ہوتا کہ جینا محال لگتا مگر روزی روٹی کا معاملہ تھا اس لیے مجبوریاں مقابل آگئیں اور سب جانتے ہیں کہ مجبوری سے طاقتور شے کوئی نہیں ہوتی، یوں جیت مجبوریوں کی ہوتی اور ہم نکل پڑتے۔
جی اکتانے کی ایک وجہ اور بھی تھی کہ جتنا کام ہمیں سکھایا جاسکتا تھا اُتنا سیکھ چکے تھے اور اب مزید سیکھنے لائق کچھ بھی نہ بچا تھا۔  وہاں سے بدظن ہونے کی قریباً سب سے بڑی وجہ یہی تھی۔ انسان کو زندگی گزارنے کے لئے بہت سی چیزیں سیکھنی چاہئیں اور میرا یہ ماننا ہے کہ نت نئی چیزیں سیکھنی چاہیں۔ سیکھنے سیھانے کا عمل جب رک جائے تب انسان کو نئی چیزیں تلاش کرنی چاہیے، یہ آگے بڑھنے اور مصروف رہنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

ایسا پہلی بار ہے کہ صبح ہوتے ہی دفتر جانے کو جی چاہتا ہے

ماضی کے واقعات تو میں آپ کی نذر کر ہی چکا ہوں اب ذرا حال کی بات کرتے ہیں۔ ہفتے کے پانچ ایام بہت ہی بھلے گزرتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے گزرنے کا حق ہو۔ رہ گئے باقی کے دو دن، اِن دو دنوں میں اتنی نیند کرتا ہوں جو پانچ سال میں بھی کبھی نہیں کی۔ گذشتہ پانچ سال میں اوسطاً چار سے پانچ گھنٹے سوتا تھا، اب تو آٹھ گھنٹے سو سو کر تھکتا ہوں تو اٹھ بیٹھتا ہوں اور بیٹھ بیٹھ کر جی بھرتا ہے تو لیٹ جاتا ہوں۔
 کتابیں بھی پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں اور فلم بھی دیکھ لیتا ہوں کبھی کبھی دوستوں سے ملتا ہوں، گپیں ہانکتا ہوں،  پریس کلب کے چکر کاٹ لیتا ہوں، ریڈیو بھی جاتا ہوں۔ نہیں دیکھتا تو خبریں نہیں دیکھتا اور نہ  ہی ٹیلیویژن ڈراموں میں دلچسپی ہے،اِن تمام معاملات کے باوجود دودن گزرنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ لگے ہاتھوں گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کرتا ہوں مگر دن ہیں کہ پھر بھی نہیں کٹتے۔
 پہلے دفتر میں جی نہیں لگتا تھا اب گھر میں، سابقہ دفتر میں رہتے ہوئے جب دوستوں اور اُن کی  چھٹیوں پر طائرانہ نگاہ ڈالتا جو دوسرے اداروں سے منسلک ہوتے تو میں سوچتا تھا کہ کتنے خوش نصیب ہیں یہ لوگ، اور دل ہی دل میں گویا ہوتا کہ یہ مزے ہمارے نصیب میں کب ہوں گے؟ مگر اب سمجھ آتی ہے کہ شکر خورے کو خدا شکر ہی دیتا ہے۔
ہمارے حصے کی شکر بھی مل رہی ہے اور شاید ضرورت سے زیادہ مل رہی ہے، پہلے کام کی فراوانی ہوا کرتی تھی اور سوچتا تھا کہ سکون بھی بھلا کسی چیز کا نام ہے؟  اب جب سکون کی ندیاں بہہ رہی ہیں مگر ہمارے منہ کو تو کام کی لت لگی ہوئی ہے ، ایسے میں شاید مجھے سکون راس نہیں آرہا یا پھر مجھے اس کی عادت نہیں رہی۔
چلتے چلتے اپنی زندگی کی ایک لرننگ شیئر کرتا چلوں کہ یہ تاثر غلط ہے کہ چھوٹے اداروں میں کام کرنے والے برباد ہوتے ہیں ،چھوٹے ادارے انسان کو کام میں مصروف رہنا سکھاتے ہیں اور کام کرنے کی عادت ڈالتے ہیں، منزل کی آرزو میں کٹھن راستوں کی سختیاں جھیلنا سکھاتے ہیں۔  فرق صرف اتنا ہے کہ چھوٹے اداروں میں بندہ کام سے تنگ پڑ جاتا ہے اور اچھے اداروں میں چھٹیوں سے۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: