نذرانوں کے بدلے فیض بانٹنے والے وزیر

’میڈیا ٹاک‘ کے دوران ان کی زبان ہی نہیں بلکہ ان کا انگ انگ بولتا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
برگ گل سے زباں ہے نازک تر
پھول جھڑتے ہیں بات بات اوپر
میر نے یہ شعر یقیناً اپنے محبوب کے لیے کہا ہوگا مگر ہم نے اپنے ممدوح وزیر خارجہ میں اس شعر کو مجسم دیکھا ہے۔ آپ سجادہ نشین ہیں اور صاحبِ کشف و کرامات بھی، یہی وجہ ہے کہ اشارہ غیبی پاتے ہی پارٹی بدل لیتے ہیں کہ:
سدا ایک ہی رُخ نہیں ناؤ چلتی
چلو تم اُدہر کو، ہَوا ہو جِدہر کی
یوں تو ’ورثے میں ملی ہے انہیں مسندِ ارشاد‘ مگر اس ورثے کے لیے انہیں دوسرے ورثاء سے ’ملاکھڑا‘ کرنا پڑا ہے۔ موصوف خارجی مصروفیات کے باوجود گاہے خانقاہ کا رُخ کرتے اور نذرانوں کے بدلے روحانی فیض بانٹتے ہیں۔
’میڈیا ٹاک‘ کے دوران اُن کی زبان ہی نہیں اُن کا انگ انگ بولتا ہے جب کہ لہجے کا زیرو بم بات کو دل نشین بنا دیتا ہے۔
علامہ جُگادری کو ہم سے اختلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس خوش گفتاری کے باوجود اگر الفاظ کا انتخاب درست نہ ہو تو بات ایسے ہی بے مزا رہتی ہے جیسے نمک کے بغیر کھانا‘۔
 ہم نے وضاحت چاہی تو بولے ابھی چند روز قبل ہی موصوف فرما رہے تھے:
’بھارت دہشت گردی کا جھوٹا ناٹک رچانا چاہتا ہے۔‘
سوال یہ ہے کہ کیا ’ناٹک‘ سچا بھی ہوتا؟ ناٹک کے معنی ہی میں اس کا خلافِ حقیقت ہونا شامل ہے۔ ایسے میں ’جھوٹا ناٹک‘ بے معنی بات ہے۔
پھر انہوں نے لفظ ’ناٹک‘ پر روشنی ڈالی۔’ناٹک اصلاً سنسکرت کا لفظ ہے جو اردو اور ہندی زبان میں یکساں برتا جاتا ہے۔ ناٹک کو انگریزی زبان میں drama (ڈرامہ) کہتے ہیں۔ اس کے اردو مترادفات میں سوانگ، نقل، بناوٹی عمل، روپ اور کھیل شامل ہیں۔ بلکہ اب تو خود ’ڈرامہ‘ بھی اردو زبان کا لفظ بن چکا ہے۔ لفظ ڈرامے سے ہم نے ترکیب ’ڈرامے باز‘ اور ’ڈرامے بازی‘ بنالی ہے۔‘  
علامہ جُگادری نے بات ختم کی اور ہماری طرف یوں دیکھا جیسے پوچھ رہے ہوں ’کیسا دیا؟‘
’آپ کے دلائل میں وزن ہے ‘۔۔۔ ہم نے ان کے نفس کی تسکین کا سامان کیا تو انہوں نے چہک کر شعر پڑھا:
خود کو بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں یار لوگ
حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی
ہم نے شعر کی داد دی تو بولے: ’شعر پر غور کرو کیسا ہے۔‘
ہم نے دست بستہ عرض کیا: ’علامہ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے آپ کی محبت میں داد دے دی ورنہ شعر میں کوئی کمال نہیں ہے۔‘
کہنے لگے: ’کمال دوسرے مصرعے میں ہے۔‘
’کیسا کمال؟‘ ہم نے پوچھا۔
جواب میں انہوں نے دوسرا مصرع پڑھا:
’حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی‘
پھر گویا ہوئے: ’یہ شعر ’امرالہٰی‘ صاحب کا ہے جو ’روحی کنجاہی‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔‘

ہر طرح کی گفتگو کے لیے پرجوش لہجہ شاہ محمود قریشی کا خاصہ ہے

’اس میں کمال والی کون سی بات ہے۔‘ ہمارے لہجے میں بیزاری در آئی۔
ہماری اکتاہٹ کو خاطر میں لائے بغیر بولے: ’ اگر بندہ ڈھیٹ ہو تو پھر کسی بھی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر اس مصرع کی خاص بات یہ ہے کہ اسے اسی وزن کے کسی بھی دوسرے مصرع کے ساتھ لگا دو ایک با معنی شعر بن جاتا ہے‘۔
’ناممکن؟‘ ہم نے حیرانی سے کہا۔
جواب میں انہوں نے تین مشہور شاعروں کے مصرعوں کے ساتھ اپنا محبوب مصرع لگا کر اپنی بات سچ کردکھائی۔
میر تقی میر :
کیا بود باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو!
’حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی‘
مرزا غالب:
لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز 
’حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی‘
جوش ملیح آبادی:
خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان
’حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی‘
ہمارے لیے یہ سب بہت خوش کن تھا۔ ہم نے مصرعوں کے وزن کا لحاظ کیے بغیر مختلف مصرعوں کو ساتھ اس مصرعے کو لگانا شروع کیا تو صورتحال دلچسپ ہی نہیں مضحکہ خیز بھی بن گئی مثلاً احمد فراز کی مشہور غزل کا مصرع دیکھیں کیا رنگ بدلتا ہے:
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں  
’حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی‘
ہم اس ’مشقِ ستم‘ سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ’علامہ لفظ ’فرق‘ کا کیا مطلب ہے‘۔ 
’فرق عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس سے پھوٹنے والے لفظوں میں فریق ،تفریق، متفرق،افتراق، مفارقت ،تفرقہ اور فرقہ وغیرہ شامل ہیں‘۔علامہ نے ایک ہی سانس میں ’فرق‘ کا شجرہ بیان کردیا۔ پھر بے وجہ کھنکارکر بولے:
’یوں تو فرق کے معنی میں جدائی، علیحدگی، دوری اور اختلاف شامل ہے،مگر فرق کے لفظی معنی سر کے بالوں کی مانگ ہے۔اب غور کرو جب سر میں مانگ نکالتے ہیں تو سر دو حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ تقسیم کا یہی مفہوم تمہیں لفظ فریق ،تفریق، متفرق،افتراق، مفارقت ،تفرقہ اور فرقہ میں نظر آئے گا ‘۔
علامہ سانس لینے کو رُکے تو ہم نے لفظ ’فرقہ‘ کے تناظر میں فرقہ بازی سے بیزاری کا اظہار کیا۔جس پر علامہ گویا ہوئے:’ یقیناً فرقہ بازی اچھی بات نہیں مگر یاد رکھو فرقہ بازی کا زمانہ گزر چکا، اب جو فرقے باقی ہیں انہیں انگلیوں پر شمار کیا جاسکتا ہے‘۔

 

پھر ہمارے چہرے سے ٹپکتی حیرت کو بھانپ گئے اور بولے : ’ پانچویں صدی ہجری میں ایک عالم عبدالقاھر بغدادی گزرے ہیں انہوں نے فرقوں کی تاریخ پر ایک فاضلانہ کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے ’الفَرقُ بَینَ الفِرَق‘ یعنی ’فرقوں کے درمیان فرق‘۔اس کتاب میں انہوں نے سینکڑوں فرقوں کا احوال درج کیا ہے۔  
اتنا بیان کرکے علامہ نے وقفہ لیا تو ہم نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔’اور‘۔
علامہ مسکرا کر بولے ـ ’ذرا چھری تلے دَم لو، بتاتا ہوں‘۔۔۔۔پھر گویا ہوئے:
’سرزمین عرب اور افریقہ کے درمیان بحیرہ احمر (red sea) حائل ہے۔یعنی ان دو خطوں کے درمیان سمندر’فرق‘ کا کام دے رہا ہے۔ اب اس ’فرق‘ کو ذہن میں رکھو اور ’افریقہ‘ کے نام پر غور کرو بات سمجھ آجائے تو دعاؤں میں یاد رکھنا۔اتنا کَہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔’پرنا‘ جھاڑ کر کندھے پر رکھا اور زوردار سلام کر کے دھوبی گھاٹ کو چل دیے۔

 

شیئر: