بادشاہ سائیکل چلاتے ہیں، آپ بھی چلائیں

حکومت طالب علموں کے لیے لیپ ٹاپ سکیم کی طرح سائیکل سکیم متعارف کرائے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
چند روز قبل ایک کولیگ آفس  میں داخل  ہوتے ہی پٹرول کی قمیت پر بھڑک اٹھے۔ ’اب بس  میٹرو پر ہی دفتر آیا کروں گا، مہینہ کے پانچ  سےچھ ہزار روپے پٹرول پر لگ جاتے ہیں‘۔ ایک اور صاحب نے جواب میں کہا ’میرے اس بار نو ہزار روپے لگ گئے ہیں، گاڑی بھی کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔‘‘ ان کا یہ مکالمہ سنتے ہی میر ے ذہن میں سائیکل کا خیال آیا ۔۔۔ ہماری زندگی میں کچھ چیزیں اپنی اہمیت کبھی نہیں کھوتیں۔ ہمیں کہیں نا کہیں ان کی ضرورت پڑجاتی ہے جیسا کہ سائیکل، جس کو خریدنے کا بس ایک ہی بار خرچہ آتا ہے۔ جب سے  لوگوں کا سائیکل سے ساتھ چھوٹا تب سے خرچ بھی بڑھا اور پیٹ بھی۔۔۔
سائیکل اور انسان  کا تعلق  بہت پرانا ہے۔ پہلے چھوٹی بڑی شاہراہوں پر سائیکل چلانا عام بات تھی۔ ایک سے دوسری گلی محلے تک جانے کے لئے سائیکل ہی سب سے بہتر ذریعہ تھی۔ صبح  سویرے  گھر کی سب سے پہلے گھنٹی بجانے والے  اخبار فروش اور   گوالا بھی سائیکل پر آتے،  بچے سائیکل پر سکول جایا کرتے تھے اور کئی دفاتر جانے والے  افراد سائیکل پر ہی جاتے نظر آتے تھے۔ قاری صاحب بچوں کو قرآن پڑھانے بھی سائیکل پر آتے تھے، شام کو بچے گلیوں اور میدانوں  میں سائیکل چلاتے۔ یاد آیا!  ہائی سکول میں پطرس بخاری کا مضمون ''مرحوم کی یاد میں''  پڑھایا گیا تھا ۔، جہاں سائیکل کو مرکزی کردار کی حیثیت دی گئی تھی۔
ان مثالوں سے اندازہ  لگایا جا سکتا ہے کہ سائیکل کا استعمال ہمارے خطے میں کتنا مقبول تھا، یہاں تک کہ بزرگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جس نے سائیکل چلانا نہیں سیکھی وہ کبھی کوئی مشینری عمدگی سے چلانا نہیں سیکھ سکتا۔ پھر آہستہ آہستہ سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل  اور کار نے لے لی اور یوں سائیکل کا استعمال کم ہوتا چلا گیا۔

یورپی ممالک میں سائیکلنگ کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

لیکن آج سائیکل پھر سے وقت کی ضرورت بنتی جارہی ہے۔ پیٹرول   113 فی لیٹر پر پہنچ گیا ہے، ایک کروڑ سے زائد گاڑیوں کے سبب  ٹریفک  جام رہتا ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل ہو جاتا  ہے۔ایندھن کا دھواں  ماحول  کو  آلودہ کررہا ہے   جس کے باعث  ہر دوسرا بندہ الرجی اور سانس   کے مرض میں مبتلا ہے۔ مقابلتا   سائیکل کے لئے بڑی سڑکوں کی ضرورت نہیں  ، نااس سے  زیادہ  رش ہو تا ہے اور نہ ہی   شور، سب سے اہم  بات کہ  توانائی کے بچاؤ کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ یہ ماحول کی آلودگی کا باعث نہیں بنتی اور فضا دھویں اور گرد سےبھی محفوظ  رہتی ہے۔ سائیکل پر سفر کرنے والے جسمانی طور پر بھی صحت مند رہتے ہیں ۔
ہم لوگوں کا ایک نفسیاتی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم  میں سے بیشتر افراد سائیکل پر سفر کرنا توہین سمجھتے ہیں، حتی کہ سکول جانے والےبچے بھی والدین سے سائیکل کی بجائے موٹر سائیکل دلوانے کی ضد کرے ہیں ،تاکہ اپنے ساتھ کے بچوں میں نمایاں ہو سکیں۔ ہم  وزن بڑھنے سے پریشان ہو کر  ورزش والی سائیکل  گھر کے اندر تو لے آئیں گے مگر چند کلومیٹر کا سفر موٹر پر ہی طے کریں گے ۔

ڈنمارک کے وزیراعظم سائیکل چلانے سے قبل ہیلمٹ درست کر رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

چین، ہالینڈ اور یورپ  کے دیگر ممالک نےسرکاری سطح پر ایسے انتظامات کیے ہیں کہ لوگ زیادہ سے زیادہ سائیکل کا استعمال کریں۔ چھوٹا، بڑا، بزرگ، جوان ہر شخص سائیکل چلانا پسند کرتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہالینڈ کے وزیر اعظم  اپنے بادشاہ سے ملنے سائیکل پر شاہی  محل پہنچے۔ ڈنمارک کا بادشاہ اپنے بچوں کو سائیکل پر سکول  چھوڑنے جاتا ہے، پاکستان میں جرمنی کے سابق سفیر ماٹن کوبلر پاکستان سے ٹرک ڈیزائن کی سائیکل  اپنے ساتھ جرمنی لے کر گئے۔ اس کی ہر گز وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس گاڑی نہیں بلکہ انہوں نے وقت کی ضرورت کی طرف نشان دہی کی ہے۔
اگریورپ کی طرح سائیکل کے استعمال کو  پاکستان میں بھی اپنایا جائے تو ہم سب کی زندگیوں میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی، ہم سب چھوٹی چھوٹی ضرورتوں اور مختصر فاصلوں کا سفر کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سائیکل کا استعمال شروع  کریں۔موجودہ حکومت  طالب علموں  کیلئے لیپ ٹاپ سکیم کی طرح  سائیکل سکیم متعارف کرائے ، سائیکل چلانے کے رجحان کو فروغ دے۔ سرکاری دفاتر کے ملازمین کو حاضری پوری کرنے اور اچھی کارکردگی پر سائیکل کا انعام دیا جائےاور شہروں میں سائیکل  ٹریک  کا  جال بچھایا جائے اور  سائیکل پارکنگ کی سہولت مہیا کی جائے۔

حکومت کو پاکستان میں سائیکلنگ کے فروغ پر توجہ دینی چاییے۔ فوٹو: اے ایف پی

میٹرو سٹیشنز پر بھی سائیکلز سٹینڈ  ہونا ضروری ہے تا کہ لوگ آسانی سے دو تین کلو میٹر کا سفر سائیکل پر طے کرکے سٹیشن پر اپنی سائیکل سٹینڈ پر لگائیں اور باقی کا سفر بس سے طے کریں۔ توانائی اور پیسے  کی بچت، ماحول کی بہتری، صحت مند زندگی اور  ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے سائیکل کا نظام لانا  ہو گا۔ اس سے کئی سماجی، معاشی اور ماحولیاتی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: