جدید سعودی عرب کی بنیاد کیسے پڑی؟

سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض دنیا کے عظیم الشان دارالحکومتوں میں سے ایک ہے۔
اس کے نواح میں ایک مقام درعیہ ہے جو ایک تاریخی بستی ہے اور اس پر آل سعود کی صدیوں تک حکمرانی رہی۔
سعودی عرب کی جدید مملکت کے قیام کے بعد ریاض شہر نے بے پناہ ترقی کی اور گذشتہ 85 برسوں میں اس کی حدود چاروں طرف کئی سو کلومیٹر تک پھیل گئیں۔ درعیہ جیسی بہت سی بستیاں اب ریاض کے اندر سمو گئی ہیں۔
لیکن زمانہ قدیم میں درعیہ کا مقام آل سعود کے لیے بہت اہم تھا کیونکہ یہ ان کی حکمرانی کا مرکز تھا۔
 1876 میں یہاں کے حکمران عبدالرحمان بن فیصل آل سعود کے ہاں ایک شہزادے کی پیدائش ہوئی جس کا نام انہوں نے عبدالعزیز رکھا، مستقبل میں یہ شاہ عبدالعزیز کے نام سے جانے گئے۔

سعودی عرب میں جدید میٹرو ٹرینوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، تصویر: اے ایف پی

شاہ عبدالعزیز نے اس وقت کے جید علما سے تعلیم حاصل کی۔ قرآن کریم ناظرہ اور اس کا کچھ حصہ حفظ کیا۔ اصول فقہ اور عقیدہ توحید پر مبنی کتب شیخ عبداللہ بن عبداللطیف آل الشیخ سے پڑھیں۔
لیکن ان کی اوائل عمری میں ہی آل سعود کے حالات پلٹا کھا گئے اور ان کے والد شاہ عبدالرحمان اپنے اہل وعیال کے ساتھ کویت منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ اس وقت شاہ عبدالعزیز صرف 12 سال کے تھے۔
 کویت میں اس دور میں بھی آل صباح کی حکومت تھی۔ ان دونوں خاندانوں کے برادرانہ تعلقات مدتوں پرانے تھے۔ آل صباح نے آل سعود کو ہاتھوں ہاتھ لیا، اور وہاں رہائش کے لیے زندگی کی ہر ممکن سہولت فراہم کی۔
شاہ عبدالعزیز اپنے والد اور گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ کویت میں دس سال تک مقیم رہے۔ وہ گھڑ سواری اور دیگر فنون حرب تو بچپن سے سیکھتے چلے آرہے تھے۔ کویت میں آئے تو انہوں نے جنگی فنون میں مزید مہارت حاصل کی۔
 کویت میں قیام کے دوران وہ مسلسل سوچتے رہتے کہ کس طرح اپنے آبا و اجداد کی حکومت کو واپس لے سکتے ہیں۔

سعودی حکومت آج بھی پیٹرول پانی سے سستا فراہم کر رہی ہے، تصویر: اے ایف پی

ان کے ہم عصروں نے بیان کیا ہے کہ شاہ عبدالعزیز اکیلے صحرا میں نکل جاتے۔ ان کے ہاتھ میں عصا ہوتا، وہ غصے سے اسے زور زور سے زمین پر مارتے کہ کب وقت آئے گاجب وہ فاتحانہ انداز میں ریاض میں داخل ہوں گے۔ 
شاہ عبدالعزیز کا قد غیر معمولی حد تک لمبا اور جسم نہایت طاقتور تھا۔ کم عمری میں ہی وہ بڑے طاقتور اور بہادر تھے، دوڑتے ہوئے گھوڑے پر اچھل کر بیٹھ جاتے۔انہوں نے تلوار چلانے میں زبردست مہارت حاصل کی۔
ان کی بڑی بہن شہزادی نورہ بنت عبد الرحمان اعلٰی درجے کی دانشور تھیں ۔ شاہ عبدالعزیز اپنی بہن پر بے حد اعتماد کرتے اور ان کے مشوروں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ اکثر مجالس میں بیٹھتے تو بڑے فخر سے لوگوں کو بتاتے کہ ’میں نورہ جیسی عظیم خاتون کا بھائی ہوں‘۔ 
 ایک دن شہزادی نورہ نے اپنے بھائی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا ’دیکھو بھائی! عورتوں کی طرح اپنے نصیب پر واویلا نہ کرنا۔ اگر تم پہلی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے تو دوسری یا تیسری بار ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔‘

مستقبل کا جدید شہر نیوم سعودی عرب کا مثبت امیج ابھارے گا، تصویر سوشل میڈیا

 ’ اگر تمہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو ناکامی سے دل برداشتہ ہونے کے بجائے ناکامی کے اسباب پر غور و فکر کرنا اور ان غلطیوں سے آئندہ کے لیے بچنے کی کوشش کرنا۔ اپنی بیوی کے پاس اور ماں کے گھر میں زیادہ دیر قیام نہ کرنا کیونکہ مردوں کو راحت و آرام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا‘۔
جب شہزادی نورہ نے انہیں یہ نصحیت کی تو اس وقت شاہ عبدالعزیز ایک بیٹے کے باپ بن چکے تھے۔
لیکن شاہ عبدالعزیز کے عزم میں لغزش نہ آئی اور انہوں نے ایک دن ریاض فتح کرنے کی مہم کے آغاز کے لیے اپنے ساتھ 40 جاں نثار جنگجو تیار کر لیے۔ ان میں سے 13 افراد ایسے تھے جن کا تعلق خود ان کے اپنے قبیلے یعنی آل سعود سے تھا۔ 
ریاض میں بھی ان کے بہت سے ہمدرد اور خیرخواہ موجود تھے۔ ان سب نے انہیں پیغامات بھیجے کہ اگر وہ ریاض آتے ہیں تو وہ ان کی معاونت کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔

آل سعود کی قیادت میں سعودی عرب نے تیزی سے ترقی کی، تصویر: اے ایف پی

اس کے بعد اگلا مرحلہ والد یعنی شاہ عبدالرحمان آل سعود سے اجازت لینے کا تھا۔ شاہ عبدالعزیز نے زور دار دلائل دے کر انہیں قائل کر لیا اور 21 رمضان المبارک 1319 ہجری بمطابق جنوری 1902کو کویت سے ریاض کی جانب اپنی تاریخی مہم شروع کر دی۔
شاہ عبد العزیز روانہ ہونے لگے تو ان کی والدہ بیٹے کی محبت میں آنسو بہانے لگیں مگر ان کی شیر دل بہن نورہ بھائی کو حوصلہ دینے کے لیے سامنے آ  گئیں۔ 
انہوں نے بھائی کو تھپکی دی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔
آل سعود اور حلیف قبائل کے 40 جانبازوں کے علاوہ 20 کے قریب لوگ ان کے ماتحتوں میں سے تھے۔ چند طالب علم بھی اس لشکر میں شامل ہو گئے اور یوں کل 63 افراد شاہ عبدالعزیز کی قیادت میں ریاض کو فتح کرنے کی مہم پر چل نکلے۔
یہ لوگ رات کے وقت سفر کرتے اور دن کو چھپے رہتے تاکہ کسی کو ان کے ریاض پہنچنے کی کانوں کان خبر نہ ہو۔

 

شاہ عبد العزیز اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شوال 1319 ہجری بمطابق 15 جنوری 1902 کو ریاض میں داخل ہوئے اور دیرہ کے علاقہ میں قلعہ مصمک پر بڑی آسانی سے قبضہ کر لیا۔
شاہ عبد العزیز اپنے والدین کے نہایت فرمانبردار اور مطیع تھے۔ جیسے ہی حکومت ان کے ہاتھ میں آئی تو انہوں نے شہر کی چابیاں اپنے والد محترم عبدالرحمان بن فیصل کو پیش کر دیں۔
اعلان کر دیا گیا کہ حکومت شاہ عبدالرحمان آل سعود کی چلے گی۔ والد نے اپنے ہونہار بیٹے کی حوصلہ افزائی کی۔ اسے بھر پور خراج تحسین پیش کیا کہ اس نے آباؤ اجداد کی حکومت واپس کروانے میں نہایت اعلیٰ حکمت عملی اختیار کی اور بہت بہادری کا کردار ادا کیا ہے۔ 
چند دن کے بعد ریاض کی مسجد الکبیر، جسے عرف عام میں دیرہ والی مسجد کہا جاتا ہے، میں حکومت کے خاص خاص نمائندوں کا اجتماع منعقد ہوا تو شاہ عبدالرحمان بن فیصل علمائے کرام اور شہر کے معززین کی موجودگی میں اپنے ہونہار بیٹے کے حق میں حکومت سے دستبردار ہو گئے۔
 اس وقت شاہ عبدالعزیز کی عمر صرف 26 سال تھی اور انہیں ریاض کا نیا حاکم مقرر کر دیا گیا۔
 ریاض کے علاقے پر اپنی حکومت مستحکم کرنے کے بعد شاہ عبدالعزیز نے سعودی عرب کے دیگر علاقوں کا رخ کیا۔

 

تاہم انہیں دوسرے علاقوں کو اپنی حکومت میں ضم کرنے کے لیے بے پناہ جدوجہد کرنا پڑی۔
متعدد بڑی جنگیں بھی لڑیں۔ مختلف علاقوں کے بدوؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ شاہ عبدالعزیز نے نہایت حکمت اور دانائی سے کام لیتے ہوئے ترغیب اور ترہیب دونوں کو استعمال کیا۔
وہ نہایت سخی تھے، لوگوں پر اتنا زیادہ خرچ کرتے تھے کہ لوگ اس کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ 
شاہ عبدالعزیز کی حکومت آئی تو انہوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کے دروازے کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے جو دعا کی تھی وہ یہ تھی کہ: الٰہی! مجھے کتاب و سنت پر عمل کرنے والا بنا اور اس کے مطابق حکومت چلانے کی توفیق عطا فرما۔
حکومت سنبھالنے کے بعد شاہ عبدالعزیز کے لیے بڑا چیلنج امن و امان کا قیام تھا۔
اس وقت بدو حجاج کو لُوٹا کرتے تھے۔ زمانہ قدیم سے حجاج جب اس مقدس سرزمین پر آنے لگتے تو ان کو یہی فکر لاحق ہوتی تھی کہ کہیں وہ بدوؤں کے ہاتھوں لُوٹ نہ لیے جائیں۔ ان بدوؤں کے لیے حجاج کو قتل کرنا معمولی بات تھی۔
شاہ عبدالعزیز نے ان کو تنبیہ کی اور اس صحرا میں جہاں وہ حاجیوں کو لوٹا اور قتل کیا کرتے تھے ، وہیں ان کے سرغنوں کو پکڑ کر بھوکا اور پیاسا پھینک دیا۔
ان کی حکومت سے پہلے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی ان بدوؤں پر بھی کوئی ہاتھ ڈال سکتا ہے مگر شاہ عبدالعزیز نے ان کو نشان عبرت بنا دیا اور اس کے بعد کسی گروہ کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ وہ حجاج کو لوٹ سکیں۔

جدید شہر نیوم کا منصوبہ 2030 میں مکمل ہو گا، تصویر: عرب نیوز

 آج سعودی عرب کی جدید مملکت امن و امان کے حوالے سے دنیا کا مثالی ملک ہے۔
شاہ عبدالعزیز کے بعد ان کے بیٹوں شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد، شاہ عبد اللہ اور اب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے والد محترم کی پالیسیوں کو جاری رکھا اور ان کے نقش قدم پر چلتے رہے۔
سعودی حکومت نے اپنے عوام کو بھی بہت سی مراعات دیں اور تیل کی دریافت کے بعد یہ ترقی کی منازل طے کرتا کرتا دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہو گیا۔ اس وقت سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے اور برآمد کرنے والا ملک ہے۔
عالمی سطح پر شدید مہنگائی کے باوجود سعودی عرب میں اشیائے خور و نوش آج بھی بہت سستی ہیں اور پیٹرول اب بھی پانی سے سستا ملتا ہے۔
دنیائے اسلام کے مقدس ترین شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی وجہ سے امت مسلمہ میں بھی سعودی عرب کا ایک خاص مقام ہے۔ دنیا کا ہر مسلمان ان کی زیارت کرنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب میں اشیائے خور و نوش سستے داموں فراہم کی جاتی ہیں، تصویر: اے ایف پی

یہاں ہر سال لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کے لیے آتے ہیں۔ سعودی حکومت حجاج کو سہولتیں پہنچانے کے لیے مسلسل کوششیں کرتی رہتی ہے۔ حرمین شریفین کی توسیع بھی ایک مسلسل عمل ہے۔ 
دور حاضر میں ان ترقیاتی کاموں کا دائرہ دوسرے شہروں تک وسیع ہو گیا ہے۔ ریاض شہر میں میٹرو بس اور ٹرینوں کا جال بچھایا جا رہا ہے اور شہر کے باسیوں کے لیے ٹرانسپورٹ کی بہتر ین سہولتوں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ 
اب شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر قیادت سعودی مملکت میں عوام کی زندگیوں میں مزید بہتری لانے کے لیے نئی نئی سہولیات دی جا رہی ہیں۔ سعودی مملکت کے تحت آباد کیا جانے والا تفریحی شہر نیوم مستقبل میں سعودی مملکت کا مثبت تاثر ابھارے گا۔
سعودی عرب میں 15 لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی آباد ہیں۔ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اپنی خوشی سے مستقل اس ملک سے جانا چاہتا ہو۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: