گاندھی جی، پاکستان اور مودی

انڈیا کے وزیراعظم سمیت پارلیمان کے اراکین نے مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا (فوٹو:اے ایف پی)
گذشتہ کل (دو اکتوبر) گاندھی جی کے ڈیڑھ سوویں جنم دن کی تقریبات کا بھارت میں آغاز ہوا۔ دو اکتوبر انیس سو سینتالیس کو گاندھی جی کی اناسیویں سالگرہ تھی۔برصغیر کی تقسیم کو لگ بھگ ڈیڑھ ماہ گذر چکا تھا۔ لٹے پٹے ہندو اور سکھ مغربی پنجاب سے مشرقی پنجاب اور لٹے پٹے مسلمان دوسری جانب سے مغربی پنجاب آ رہے تھے۔ پھر ان میں جموں کے لٹے ہوئے مسلمان بھی شامل ہوتے چلے گئے۔ دلی اور لاہور ایک بہت بڑا ریفیوجی کیمپ بن چکے تھے۔
تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ دو اکتوبر 1947 کو گاندھی نے حسب معمول دلی کے برلا مندر میں پرارتھنا کا اہتمام کیا ۔اس موقع پر انہوں نے کہا۔
’ آج آپ کے لیے میرا جنم دن مگر میرے لیے یومِ سوگ ہے۔ حیران بھی ہوں اور شرمندہ بھی کہ اب تک کیسے زندہ ہوں۔ کچھ عرصے پہلے تک میری بات پورادیش دھیان سے سنتا تھا۔ آج  کوئی نہیں سن رہا۔ کیا آپ یہی چاہتے ہیں کہ اس دیش میں سوائے ہندوؤں کے کوئی نہ رہے۔ تو پھر ٹھیک ہے۔ سب مسلمانوں کو مار ڈالو۔ مگر ان  کے بعد کسے مارو گے ؟‘
اگر ہندوستان کو ایسا ہی ہونا ہے تو ایسے ہندوستان میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تو پھر میں زندہ کیوں ہوں؟ اب تو  سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے کہ  اور کتنے دن رہوں گا۔ مجھے تو آج اناسی برس کا ہونا بھی بہت کھل رہا ہے ۔ کم ہی لوگ مجھے سمجھ پائے ہیں۔ مگر جتنے بھی سمجھ پائے ہیں ان سب سے میری پرارتھنا ہے کہ اس وحشت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کریں۔ 
مجھے ہرگز پرواہ نہیں کہ پاکستان میں مسلمان کیا کر رہے ہیں۔ وہ ہندوؤں کو مار کے عظیم نہیں ظالم ہی کہلائیں گے۔ تو کیا اس کے بدلے میں بھی سنگدل اور سفاک ہو جاؤں؟ ہرگز نہیں۔ اور میں آپ سب سے بھی یہی کہہ رہا ہوں۔
آپ واقعی میرا جنم دن منانا چاہتے ہیں تو پھر اس پاگل پن کو روکیں۔ من سے غصے کا زہر نکال کے تھوک دیں۔ اگر آپ کو یہ بات یاد بھی رہ جائے تو سمجھوں گا کہ میں کامیاب ہوں۔

انڈیا میں مہاتما گاندھی کو باپو بھی کہا جاتا ہے (فوٹو:اے ایف پی)

میری پود اور پھر آج تک کی پود درسی کتابوں اور اساتذہ کے طفیل یہی جانتی ہے کہ گاندھی ایک عیار، مکار، متعصب ہندو تھا۔ کوئی نہیں بتائے گا کہ اگر حسین شہید سہروردی اور گاندھی جی جان ہتھیلی پر رکھ کے نواکھلی اور کلکتہ میں خون کے پیاسے مجمع  کے عین بیچ دھرنا نہ دیتے تو انیس سو چھیالیس اور سینتالیس کے پاگل پن میں مزید ہزاروں لاشوں کا اضافہ ہو جاتا۔
کوئی نہیں بتائے گا کہ جب  بٹوارا ہوا تو نہرو پٹیل حکومت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے پچپن کروڑ روپے مالیت کے اثاثے منتقل کرنے میں آناکانی شروع کر دی۔ گاندھی نے مرن برت رکھ لیا۔ اس کے بعد ہی اثاثوں کی منتقلی ممکن ہوئی۔ اس کی گواہی کسی اور نے نہیں گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے نے اپنے عدالتی بیان میں دی۔
’ گاندھی کو باپو کہا جاتا ہے۔ مگر وہ کیسے باپو تھے جو دیش کے بٹوارے کی سازش پر راضی ہو گئے۔ وہ تو اصل میں پاکستان کے باپو تھے۔ ان کے اندر کی آواز، ان کی روحانی طاقت، اہنسا کا فلسفہ ، سب  کچھ جناح کے سامنے ڈھیر ہوگیا۔‘

مہاتما گاندھی کی بانی پاکستان کے ساتھ ایک یادگار تصویر (فوٹو:وکی پیڈیا)

فروری انیس سو اڑتالیس میں گاندھی جی پاکستان کا دورہ کرنے والے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس دورے سے دونوں نو آزاد ملکوں کے درمیان کشیدگی کا پارہ نیچے اتر پائے گا۔ مگر تیس جنوری انیس سو اڑتالیس کو گوڈسے کے پستول سے نکلنے والی دو گولیاں گاندھی جی کو چاٹ گئیں۔
جیسے ہی یہ خبر کراچی پہنچی تو پاکستان کا قومی پرچم ایک دن کے سرکاری سوگ میں سرنگوں کر دیا گیا۔ گورنر جنرل نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا
’مجھے ایک سفاکانہ حملے میں مسٹر گاندھی  کی موت پر شدید صدمہ ہے۔ ہمارے باہمی اختلافات سے قطع نظر وہ ہندو قوم کے ایک غیر متنازعہ عظیم رہنما تھے۔ ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے کچھ ہی ماہ بعد  اس نازک تایخی موڑ پر ہونے والے اس سانحے پر میں ان کے اہلِ خانہ اور ہندو قوم  سے تہہ دل سے تعزیت کرتا ہوں۔ ہندوستان کے لیے نہ صرف یہ ایک عظیم نقصان ہے بلکہ ایسے بڑے  آدمی کی رخصتی سے جو خلا پیدا ہوا اس کی جلد بھرپائی بہت مشکل ہے۔‘

مہاتما گاندھی کی شخصیت کو اجاگر کرنے کے لیے ان کے جنم دن پر ڈرامے بھی پیش کیے جاتے ہیں (فوٹو:اے ایف پی)

چار فروری انیس سو اڑتالیس کو کراچی میں مجلسِ قانون ساز  کے نئے سیشن کے پہلے دن گاندھی جی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے قائدِ ایوان وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے کہا ’مجھے گاندھی جی کی المناک موت پر سخت صدمہ ہے۔ وہ پچھلے بیس برس سے بالخصوص ہندوستانی سیاست کے مرکزی کردار اور دورِ حاضر کے ایک عظیم رہنما تھے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ کانگریس کی موجودہ طاقت اور مقبولیت میں اس عظیم رہنما کی شخصیت نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ گاندھی جی برصغیر کے مختلف طبقات کے مابین جو امن اور بھائی چارہ دیکھنا چاہتے تھے شائد ایسا ہو جائے۔‘
مشرقی پاکستان کے وزیرِ اعلی خواجہ ناظم الدین نے کہا ’ یہ صرف ہندوستان کا نہیں پاکستان کا بھی نقصان ہے۔ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے مسلسل کوشاں تھے۔‘
سندھ کے وزیرِ اعلی ایوب کھوڑو نے کہا ’مہاتما گاندھی کی آزادی کے لیے جدوجہد عدم تشدد کی بنیاد پر تھی مگر وہ خود تشدد کا نشانہ بن گئے۔ امید ہے  ان کا نامکمل امن مشن دونوں ملکوں کے عوام پورا کریں گے۔‘  
پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر فیض احمد فیض تھے۔ گاندھی جی کی موت پر جو اداریہ شائع ہوا اس میں کہا گیا ’اس زوال آمادہ صدی میں بہت کم شخصیات اس بلندی تک پہنچیں جسے پسے ہوئے لوگوں کے اس رہنما نے چھوا۔ ہم سرحد پار  دوستوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ گاندھی جی کی موت ایک مشترکہ نقصان ہے۔ اس کی گواہی لاہور کی سڑکوں پر اترے ہوئے چہرے اور سوگ میں کاروبار  بند ہونے سے مل سکتی ہے۔ گاندھی جی کی روح کو تب ہی سکون مل سکتا ہے جب ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ انصاف اور رواداری کا سلوک ہو۔ اسی مقصد کے لیے گاندھی جی کی جان گئی۔‘
آج کیا عجب  تبدیلی آئی ہے کہ پاکستانی وزیرِاعظم عمران خان مودی حکومت کو فاشسسٹ آر ایس ایس کا نظریاتی وارث ثابت کرنے کے لیے ایک سے زائد بار یہ مثال دے چکے ہیں کہ یہ وہ نظریہ ہے جس نے گاندھی جی کی جان لے لی۔

مہاتما گاندھی کے جنم دن کے موقع انڈیا میں بڑے پیمانے پر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے (فوٹو:اے ایف پی)

کیسی عجیب بات ہے کہ کل گاندھی جی کے ڈیڑھ سو ویں یومِ پیدائش پر اخبار نیویارک ٹائمز میں نریندر مودی کا خصوصی مضمون شائع ہوا جس کا عنوان ہے ’ بھارت اور دنیا کو گاندھی کیوں چاہئے۔‘ مصنف  کے بقول ’ گاندھی جی کی تعلیم  ہے کہ تکبر کو جھٹکتے ہوئے  انسان کا درد بانٹتے ہوئے انسانیت کی تکالیف کو کم کیا جائے۔ آئیے گاندھی جی کے خواب کو پورا کرنے کے لیےاس دنیا کو تشدد ، نفرت اور تکالیف سے نجات دلانے کے لیے کندھے سے کندھا جوڑ کر آگے بڑھیں۔‘
شکر ہے ان دنوں کشمیر میں نظامِ زندگی اور انٹرنیٹ ٹھپ ہے ورنہ کوئی وادی والا  نیویارک ٹائمز کا یہ مضمون پڑھ کے جانے کیا سوچتا ؟ روتا کہ ہنستے ہنستے غش کھا جاتا؟
کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: