لفظ تماشا: کچکول سے کشکول تک کی کہانی

تمہیں ’ڈائریکٹ‘ بتا دیا تو باؤلے ہو جاؤ گے۔
کر لیا تھا میں نے عہدِ ترکِ عشق
تم نے پھر بانہیں گلے میں ڈال دیں
ہم نے علامہ جُگادری کو شعر سنایا تو بولے ’شعر جون ایلیا کا ہے اور خوب ہے‘۔ پھر کہنے لگے’شعر میں لفظ ’بانہیں‘ آیا ہے، اس کا مطلب پتا ہے؟
یہ ’بازوں‘ کا مترادف ہے‘۔۔۔ ہم نے فوراً جواب دیا۔
جواب درست ہے۔ اب یہ بتاؤ کہ ’بانہیں‘ اگر جمع کا صیغہ ہے تو اس لفظ کا ’واحد‘ کیا ہوگا؟
اردو میں اس کا واحد نہیں ہے۔‘ ہم نے بقراطیت جھاڑی تو علامہ ہنستے ہوئے بولے۔ ’اب ایسا بھی نہیں ہے۔ ’بانہوں‘ کا واحد ’بانہہ‘ ہے۔ یہ لفظ ہندی زبان کی راہ سے اردو میں آیا ہے۔ دیکھو شاعر کیا کہتا ہے:
راہ میں تھک کر جہاں بیٹھی اگر یہ زندگی
موت آئی بانہہ تھامی اور اٹھا کر لے گئی
مسئلہ یہ ہے کہ اردو زبان میں بطور واحد ’بانہہ‘ کا استعمال تقریباً متروک ہو گیا ہے، مگر دوسری طرف ’بانہہ‘ کی جمع ’بانہیں‘ پوری آب و تاب سے برتا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو میں بھلا دیا جانے والا لفظ ’بانہہ‘ پنجابی زبان میں اب بھی بولا جاتا ہے۔ پنجابی میں اس کی جمع ’بانہواں‘ ہے۔‘ علامہ کے مزاج میں آج پُر شور ندی کے بجائے قدرے دھیما پن تھا۔
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولے ایک لفظ اور ہے جو فارسی میں متروک ہوجانے کے باوجود پنجابی میں اب تک موجود ہے۔
کون سا لفظ ؟۔۔۔ ہم  نے پوچھا
بولے: ’سنسکرت میں دانت کی اصل ’دنت‘ ہے۔ یہی ’دنت‘ حرف ’ت‘ کے ’دال‘ سے بدلنے پر ’دند‘ ہوگیا ہے۔ فارسی میں ’دند‘ صیغہ واحد میں اب استعمال نہیں ہوتا۔ دانت ایک ہو یا ایک زیادہ اہل فارس اسے ’دندان‘ ہی بولتے ہیں۔ جب کہ ’بانہہ‘ کی طرح ’دند‘ بطور واحد پنجابی زبان میں اب بھی برتا جاتا ہے۔ پنجابی میں ’دند‘ کی جمع ’دنداں‘ اور ’دندیاں‘ ہے۔
اس کی کیا وجہ ہے؟‘ ۔۔۔ ہم نے پوچھا
علامہ بولے: ’زمانہ قدیم میں ذرائع آمد و رفت محدود اور زبانوں کا میل ملاپ محدود تر تھا۔ ایسے میں تجارت یا کسی دوسری راہ سے زبان میں داخل ہو جانے والے لفظ اپنی اصل یا کچھ تبدیل شدہ صورت میں محفوظ ہوجاتے تھے۔ اور آج کی طرح اُس وقت بھی زبان میں داخل ہونے والے الفاظ بعض اوقات مجازی معنی بھی اختیار کر لیتے تھے۔
مثلاً ۔۔۔ ہم نے ثبوت طلب کیا؟

زمانہ قدیم میں ذرائع آمد و رفت محدود اور زبانوں کا میل ملاپ محدود تر تھا۔ فائل فوٹو: بشکریہ میڈیم

مثلاً ایک لفظ ’کشکول‘ ہے۔ اس کی اصل ’کچکول‘ ہے۔ یہ دو لفظوں ’کچ اور کول‘ سے مل کر بنا ہے، اور اس کے معنی ہیں’کچا پیالہ‘۔ لفظ ’کچ‘ تو با آسانی سمجھ آسکتا ہے کہ یہ ’کچّا‘ کی تخفیف ہے۔’کچّا‘ لفظ ’پکّا‘ کی ضد ہے اور اس کے معنی میں خام، ناپختہ اور ناپائیدار شامل ہیں۔ جب کہ ’کَول‘ اور ’کَولا‘ سنسکرت میں تالاب کو کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی میں ’تالاب‘ کو ’کولاب‘ بھی کہا جاتا ہے۔
چونکہ ’کول‘ میں پانی چاروں طرف سے گِھرا ہوا اور محفوظ ہوتا ہے، لہٰذا ہندی کی رعایت سے اردو میں بھی بانہوں کے حصار، آغوش اور مٹکے یا گھڑے کو مجازاً ’کولی‘ کہتے ہیں۔ جب کہ پنجابی زبان میں کٹورا یا پیالہ ’کولا‘ کہلاتا ہے جس کی تصغیر ’کولی‘ ہے۔
 ’کشکول‘ کہاں رہ گیا؟ ۔۔۔ہم نے ٹوکا تو بولے تمہیں ’ڈائریکٹ‘ بتا دیا تو باؤلے ہو جاؤ گے اس لیے تھوڑی تفصیل ضروری ہے۔ اب سنو ’کشکول کہانی‘۔
کشکول‘ عام طور پر ’کدو‘ کی ایک قسم کو سُکھا کر بنایا جاتا ہے۔ اس میں کھایا پیا تو جا سکتا ہے مگر کچھ پکایا نہیں جا سکتا، اسی وجہ سے اسے ’کچکول‘ کہتے ہیں جو حرف ’چے‘ کے ’شین‘ سے بدلنے پر ’کشکول‘ ہوگیا ہے۔ اس کی دیگر صورتیں کجکول، خجکول اور خچکول ہیں۔
اپنی بے قیمتی اور آسان دستیابی کی وجہ سے ‘کشکول‘ درویشوں اور فقیروں کا ’اثاثہ‘ ہوتا ہے۔ فقیر بھیک میں ملنے والا کھانا اسی کشکول میں وصول کرتا اور کھاتا ہے۔ پیاس لگے تو اسی کشکول میں پانی پیتا اور نیند آئے تو اس سے سرہانے کا کام بھی لیتا ہے۔ چونکہ ’کشکول‘ فقیروں کے ساتھ خاص ہو کر رہ گیا ہے چنانچہ فارسی میں درویش و فقیر کو بھی ’کشکول‘ کہہ دیتے ہیں۔
کشکول‘ کدو کے علاوہ ایک خاص قسم کے ناریل کے خول سے بھی بنایا جاتا ہے۔ یہ ناریل وزن میں 20 کلو گرام تک ہوتا ہے اور ’ نارجیلِ دریائی‘ کہلاتا ہے۔
بیس کلو کا ناریل۔۔۔ اتنا بڑا ناریل کہاں ہوتا ہے؟ ہم نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
نارجیلِ دریائی‘ بحر ہند میں مجموع جزائر شیشلز کے چند مخصوص جزیروں میں پایا جاتا ہے۔ فی الحال کشکول کی کہانی سنو۔۔ علامہ نے ہماری حیرت کو زیادہ لفٹ نہیں کرائی۔
اب کشکول کدو اور ناریل تک محدود نہیں یہ مختلف دھاتوں سے بھی بنائے جاتے ہیں اور مضبوطی کے باوجود ’کشکول‘ ہی رہتے ہیں۔
چونکہ فقیر کے کشکول میں لوگ رنگ برنگ کھانے ڈالتے ہیں، لہٰذا اس رنگا رنگی کی رعایت سے مجازاً فارسی اور اردو میں ایسی کتاب کو بھی کشکول کہا جانا لگا جس میں مختلف قسم کے منتخب مضامین یا چیدہ اشعار درج ہوں۔ ایک ہمہ صفت بزرگ حسین عاملی کی نظم و نثر پر مشتمل کتاب کا نام ’کشکول‘ مشہور ہے۔

’کشکول‘ کدو کے علاوہ ایک خاص قسم کے ناریل کے خول سے بھی بنایا جاتا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

دلچسپ بات یہ ہے کہ کشکول نے نوع بنوع اشیا کی رعایت سے جو مجازی معنی پیدا کئے ہیں وہ عربی میں حقیقی معنی بن گئے ہیں۔ چنانچہ عربی میں نوٹ بک کو ’کشکول‘ کہتے ہیں۔ یہ معلوم و معروف بات ہے کہ نوٹ بک میں پسندیدہ اشعار سے لے کر ماہانہ اخراجات تک مختلف چیزیں درج کی جاتی ہیں۔ غور کرو کس طرح کشکول نے اپنی صورت اور استعمال بدلا ہے مگر پھر بھی ’کشکول کا کشکول‘ ہی رہا۔
علامہ جُگادری کشکول پر اپنی تحقیق بیان کرچکے تو ہم نے انہیں چیلنج کرتے ہوئے کہا: ’ علامہ آپ نے کشکول کی اصل ’ کچکول ‘ بیان کی ہے اور اسے ’کچا پیالہ‘ بتایا ہے جب کہ فارسی کی ایک معتبر فرہنگ نے ’کشکول‘ کو دولفظوں ’کش‘ بمعنی ’کھینچنے والا‘ اور ’کول‘ بمعنی ’ کندھا‘ سے مرکب بتایا ہے۔
علمیت سے بھرپور ہمارے اس سوال کو علامہ نے ’لائٹ‘ لیا اور ہنس کر کہنے لگے ’ خود غور کرو کہ یہ کس قدر نامعقول تعبیر ہے۔ کشکول کو اگر کندھے سے کوئی نسبت بنتی بھی ہے تو اس کے لیے ’کش‘ کے بجائے ’آویزاں‘ (یعنی ’لٹکانا‘) کی قبیل سے کوئی لفظ ہونا چاہیے تھا۔ خیر تحقیق کے باب میں حرفِ آخر کچھ نہیں ہوتا۔میرے نزدیک کشکول کی جو وجہ تسمیہ درست تھی میں نے بیان کردی۔
ایک آخری بات، اور وہ یہ کہ اردو میں ’کَشکَول‘ کا تلفظ بَول اور گول کے وزن پر ہے، جب کہ فارسی میں اس کا تلفظ مَلُول اور فضُول کے وزن پر ’کَشکُول‘ ہے۔فرصت ہوتی تو استادوں کے اشعار سے سند بھی پیش کردیتا ۔۔۔وقت زیادہ ہوگیا ہے اب اجازت دو، اللہ حافظ۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: