Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوشل میڈیا کے استعمال کا بچوں پر اثر

گیجٹس کے عادی بچے بہت کچھ سیکھنے سے محروم رہیں گے؟ فائل فوٹو: اے ایف پی
اس جدید ڈیجیٹل دور میں ہر فرد بنیادی خاندانی اصولوں کو نظرانداز کر کے اپنا طرز زندگی بہتر سے بہتر بنانے میں مصروف ہے جس سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ مستقل سیکھنے اور نئے تجربات سے گزرنے کے مرحلے میں ہیں اور یہی وقت ان کی شخصیت کو ڈھال رہا ہے۔
ڈیجیٹلائزیشن روز بروز ہماری زندگیوں میں پنجے گاڑتی جا رہی ہے۔ بڑے تو بڑے اب بچے بھی زیادہ تر گیجٹس اور سوشل میڈیا میں ہی کھوئے رہتے ہیں، اگرہم ماضی پر نظر ڈالیں اور اپنا بچپن یاد کریں تو جب ہم بچے تھے یا لڑکپن  کو پہنچ چکے تھے، اس وقت ہمارے پاس ذاتی فون اور ہائی ٹیک گیجٹ نہیں تھے۔

 

دور حاضر میں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور لوگ ایک دوسرے سے الگ تھلگ اور تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے بچپن میں جوائنٹ فیملی سسٹم یعنی مشترکہ خاندانی نظام  میں رہتے تھے جہاں ہر شخص باہم مربوط اور ایک دوسرے پر انحصار کرتا تھا۔
والدین کو ہمیں یہ سکھانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کہ ہمیں مل جل کرکھانا پینا ہےاور ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرنے میں کوئی عار نہیں تھا۔ ہم گھر کے ہر فرد سے بات چیت  اور مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ ہم جوائنٹ فیلمی سسٹم میں رہ رہے تھے، لہذا ہمیں لوگوں کے رش سے گھبراہٹ کا سامنا نہیں ہوتا تھا، ہمیں چیزوں کے دوسروں کے استعمال کرنے سے غصہ آتا تھا نہ جھنجھلاہٹ ہوتی تھی، اب بھی ایسا ہی ہے۔ یہ اسی دور کی تربیت ہے کہ ہماری نسل بغیر طلب کیے دوسروں کو مدد کی پیش کش کرنے کی عادت بھی رکھتی ہے۔
ان دنوں بچے الگ تھلگ طبیعت کے مالک، ضدی اور خود غرض بنتے جا رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے گھروں  میں رہ رہے ہیں، جہاں کوئی مشترکہ خاندانی نظام نہیں۔ اس کے علاوہ گیجٹ اور سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی انہیں  تنہا کر رہا ہے۔ ورچوئل دنیا انہیں موبائل فون سے باہر موجود حقیقی دنیا سے دور کر رہی ہے۔

دور حاضر میں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ فوٹو بشکریہ: ویو سٹارم

والدین زبردستی اپنے بچوں کو شیئر کرنے، ایک دوسرے کاا حساس اور خیال کرنا سکھا رہے ہیں جو جوائنٹ فیملی سسٹم  میں رہتے ہوئے انہوں نے خود آسانی سے بغیر کسی زور زبردستی کے سیکھ لینا تھا۔
 بچے اپنے خول سے باہر آنے اور تنہائی ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ماحول ان کی فطرت کو کم روادار، عجلت پسند اور انا پرست بنا رہا ہے جو ہمارے مستقبل کے لیے خطرناک ہے، آخر بچے قوم کا مستقبل ہیں۔
یادرکھیں! اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ نسل ترقی کی منازل طے کرے تو  تنہائی اور اس سے جڑی وجوہات کو بچوں سےدور کریں ورنہ مستقبل میں معاشرے میں خطرناک ترین عدم برداشت اور خود غرضی کا راج ہو گا ۔ یہ ہمارے بچوں کی بات ہے جو مستقبل کی قوم اور مستقبل کا پاکستان ہیں۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: