’کاش 500 کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈالتا‘

عمران خان ان دنوں چین کے دورے پر ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کرپش کے خاتمے کے لیے کاش وہ پاکستان میں چینی صدر شی جن پنگ کی پیروی کرتے ہوئے 500 کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈالتے۔
بیجنگ میں عالمی تجارت کے فروغ کے لیے قائم چائنہ کونسل میں ’پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کسی بھی ملک میں ہونے والی سرمایہ کاری کو روکتی ہے۔   
عمران خان نے مزید کہا کہ ’کرپشن ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور سرخ فیتے کی وجہ سے پاکستان کو ترقی دینے میں ناکام ہوئے۔‘

 چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ دی جائے گا۔ فوٹو ٹوئٹر

ان کا کہنا تھا کہ سرخ فیتہ ہی کرپشن کو فروع دیتا ہے۔
عمران خان کے مطابق دنیا بھر کے سرمایہ کار ہمیشہ شفاف تر اکانومی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ’کاش میں صدر شی کی مثال کو فالو کرتا اور 500 لوگوں کو جیل میں ڈالتا۔‘
  ‘لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں بڑا پیچیدہ پراسیس ہے اور امید ہے ہم اسے بہتر بنائیں گے۔‘
اپنے خطاب میں عمران نے کہا کہ ’ہم نے دیکھا کہ چین نے کس طرح جدوجہد کی اور اپنی غلطیوں سے سیکھا اور آج چین دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں میں سے ایک ہے۔‘

وزیراعظم نے بیجنگ میں ’گریٹ ہال آف پیپل‘ کا دورہ کیا۔ فوٹو ٹوئٹر 

وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’چین نے ایک وقت میں پاکستان سے سیکھا تھا لیکن اب وقت ہے کہ پاکستان، چین سے سیکھے، ذاتی طور پر مجھے جس چیز نے چین سے متاثر کیا وہ 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنا تھا، یہ انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔‘
ان کے بقول ’چین سے میں نے دوسری چیز جو سیکھی وہ بدعنوانی سے نمٹنا تھا، صدر شی جن پنگ کی سب سے بڑی جنگ کرپشن کے خلاف ہے، گذشتہ 5 برسوں میں انہوں نے وزارتوں کی سطح کے تقریباً 400 لوگوں کو کرپشن پر سزا دی اور جیلوں میں ڈالا جبکہ میں نے اخبارات میں پڑھا کہ ایک چینی میئر کے گھر سے کئی ٹن سونا برآمد ہوا اور پانچ روز میں اس کو سزا دی گئی۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ جب سے ان کی حکومت اقتدار میں آئی انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے فیصلہ کیا اور 'ہم چاہتے ہیں کہ یہ لوگ پاکستان میں منافع کمائیں'۔

 

دوسری طرف ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران چین کی کمپنیوں کو تعمیرات، ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مالیاتی خدمات، فزیکل اور ٹیکنالوجیکل لاجسٹکس، زراعت، تیل و گیس اور سیاحت سمیت پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروبار کے وسیع مواقع ہیں اور چین کی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ بہترین وقت ہے۔
 انہوں نے یقین دلایا کہ وزیراعظم آفس سی پیک سمیت تمام بڑی سرمایہ کاریوں کے معاملات دیکھے گا۔ ’ہم نے تمام مسائل حل کرنے کے لیے سی پیک اتھارٹی قائم کی ہے۔‘
انہوں نےکہا کہ گوادر سمارٹ پورٹ سٹی کے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی گئی ہے اور گوادر کے ہوائی اڈے پر تعمیراتی کام جاری ہے، اسے جلد مکمل کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ دی جائے گی۔ ’ہم اپنے زرعی شعبے کی پیداوار بڑھانے کے لیے چین کے تجربات سے سیکھنا چاہتے ہیں۔‘

 وزیراعظم نے کہا چین کی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ بہترین وقت ہے۔ فوٹو پی ٹی آئی ٹوئٹر 

عمران خان کے بقول ’سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور پاکستان کا شمار دنیا میں سرمایہ کاری کے حوالے سے محفوظ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ویزے کے نظام کو بھی آسان بنایا ہے اور چین کے شہری ہوائی اڈے پر پہنچ کر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
دریں اثنا وزیراعظم نے بیجنگ میں ’گریٹ ہال آف پیپل‘ کا دورہ کیا، جہاں ان کا استقبال ان کے چینی ہم منصب نے کیا۔
گریٹ ہال میں آمد کے موقع پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: