Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اٹلی کے لیے 10 ہزار 500 پاکستانی ہنرمند ورکرز کا کوٹہ، پیش رفت سست روی کا شکار کیوں؟

تین سال کے عرصے میں 10,500 ہنرمند ورکرز اٹلی بھیجے جائیں گے۔
پاکستان سے 10,500 ہنرمند افرادی قوت اٹلی بھیجنے کے معاملے پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے اٹلی میں اپنے ہم منصب میٹیو پینٹے ڈوسی سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستانی ورکرز کو جلد اٹلی کی لیبر مارکیٹ میں بھیجنے کے امور اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر محسن نقوی کا کہنا ہے کہ قانونی امیگریشن کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کے لیے 10,500 ورک ویزے جاری کیے جائیں گے، تاکہ ہنرمند افرادی قوت کو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
تاہم یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان سے ہنرمند افرادی قوت اٹلی بھیجنے کے معاملے پر اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے اور موجودہ صورتِ حال کیا ہے؟
واضح رہے کہ پاکستان نے دسمبر 2025 میں اٹلی سے آئندہ تین سال کے لیے 10,500 ملازمتوں کا کوٹہ حاصل کیا تھا، جس کے تحت پاکستانی ورکرز کو مرحلہ وار بھیجا جائے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ فروری 2026 میں اٹلی کا ایک وفد (ورکنگ گروپ) پاکستان آئے گا، اور اس کے بعد معاملات کے حتمی طور پر طے پانے پر باقاعدہ عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔
جب اردو نیوز نے وزارت سمندر پار پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ فروری 2026 تک اس حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی اور اٹلی کے وفد کا دورہ بھی آئندہ چند دنوں میں متوقع نہیں ہے۔
وزارت سمندر پار پاکستانیوں کے مطابق ممکن ہے کہ آئندہ ماہ تک وفد پاکستان پہنچے، جس کے بعد حتمی معاملات طے ہونے پر ہنرمند افرادی قوت کو بیرونِ ملک بھیجنے کے عمل کا آغاز ہو سکتا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق ہر سال 1,500 پاکستانی سیزنل کوٹہ جبکہ 2,000 نان سیزنل کوٹہ پر اٹلی جائیں گے۔ (فوٹو: فیس بک)

ایک عہدیدار کے مطابق ’محسن نقوی صاحب کا دورہ اٹلی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس میں مرکزی سٹیک ہولڈر وزارت سمندر پار پاکستانی ہے اور معاملات ہمارے ساتھ ہی طے ہونے ہیں۔‘

ہر سال کتنے پاکستانی جائیں گے؟

وزارت سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگلے تین سال تک 3,500 پاکستانی ہر سال سیزنل اور نان سیزنل کوٹہ پر اٹلی روزگار کے لیے جائیں گے۔
دستیاب معلومات کے مطابق ہر سال 1,500 پاکستانی سیزنل کوٹہ جبکہ 2,000 نان سیزنل کوٹہ پر اٹلی جائیں گے۔
یہاں یہ واضح کرتے چلیں کہ سیزنل سے مراد وہ مخصوص ملازمتیں ہیں جو موسم یا محدود مدت کے لیے ہوتی ہیں، مثلاً زراعت، ٹورازم یا ہاسپیٹیلٹی انڈسٹری وغیرہ۔ اسی طرح نان سیزنل سے مراد مستقل یا طویل مدت کی ملازمتیں ہیں جو پورا سال جاری رہ سکتی ہیں، جیسے ٹیکنیکل جابز اور ہیلتھ کیئر وغیرہ۔

کون سے ہنرمند ورکرز اٹلی جائیں گے؟

تین سال کے عرصے میں 10,500 ہنرمند ورکرز اٹلی بھیجے جائیں گے، جن میں ویلڈرز، ٹیکنیشنز، شیف، ویٹرز اور ہاؤس کیپنگ جیسے شعبے شامل ہیں۔
وزارت سمندر پار پاکستانیوں کے مطابق نرسنگ، میڈیکل ٹیکنیشن، فارمنگ اور کاشتکاری کے شعبوں میں بھی روزگار کے مواقع موجود ہیں۔
اس سے قبل وزارت سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اٹلی اور پاکستان کے مابین جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس فروری 2026 میں ہوگا، لیکن تاحال یہ اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔

بیرسٹر ساجد مجید چوہدری کے مطابق اٹلی سمیت مختلف یورپی ممالک میں ویزوں کی الاٹمنٹ بدقسمتی سے شفاف انداز میں نہیں کی جاتی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

امیگریشن کے ماہرین کے مطابق یورپی ممالک کے ورک ویزے بدقسمتی سے اکثر میرٹ پر جاری نہیں کیے جاتے بلکہ بااثر افراد کو ترجیح دیے جانے کے کیسز زیادہ سامنے آتے ہیں۔
امیگریشن کے ماہر میجر (ر) بیرسٹر ساجد مجید چوہدری نے بتایا کہ اٹلی سمیت مختلف یورپی ممالک میں ویزوں کی الاٹمنٹ بدقسمتی سے شفاف انداز میں نہیں کی جاتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ویزوں میں اہم سیاسی شخصیات اور وزارتوں سے وابستہ افراد کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ ورک ویزا سے لے کر ایمبیسی اپوائنٹمنٹ تک لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اٹلی کے لیے ساڑھے دس ہزار ہنرمند افرادی قوت مقرر ہیں تو اس کے لیے لاکھوں افراد سے درخواستیں حاصل کی جائیں گی، لیکن آخر میں ویزے انہی کو ملیں گے جن کے نام پہلے سے طے ہوں گے۔
انہوں نے تجویز دی کہ اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے صرف مستند اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کو گورنمنٹ آف اٹلی براہِ راست کوٹہ دے، اور پھر میرٹ اور انتظامی معیار کے مطابق آپریٹرز کو کوٹہ الاٹ کیا جائے تاکہ وہ ویکنسیز پراسس کریں۔ جتنا حکومتی عمل دخل کم ہوگا، نظام اتنا ہی شفاف بنے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر ویکنسی کے لیے دو امیدوار رکھے جائیں تاکہ اگر ایک کا کیس مکمل نہ ہو تو دوسرا فعال ہو سکے، اور ایک پوسٹ کے لیے سینکڑوں افراد سے درخواستیں وصول نہ کی جائیں تاکہ لوگوں کے پیسے ضائع نہ ہوں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اس عمل کو صرف ریگولیٹ کرنا چاہیے، سکرونٹی اور شفافیت لانی چاہیے اور اس پراسس کو عوام کے سامنے رکھنا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنے افراد کو بھیجا جا چکا ہے اور کتنے باقی ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی اٹلی اور کچھ دیگر ممالک کے سفارت خانوں کی اپوائنٹمنٹس لاکھوں روپے میں فروخت ہو رہی ہیں، جبکہ اصل فیس صرف چند ہزار روپے ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اہل اور ہنرمند ورکرز کو بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے تمام ابہام دور کرے اور نظام کو مکمل شفاف بنائے۔

شیئر: