Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روایات توڑنے والی فلسطینی خواتین

فلسطینی خواتین خود کو منوانے اور دقیانوسی سوچ کے خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں (فوٹو:اے ایف پی)
30 ٹن وزنی ٹرک جب فلسطین کی پُرہجوم سڑکوں سے گزرتا ہے تو مرد رک کر جامنی رنگ کا سکارف پہنے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے دھان پان سی لڑکی کو تکنے لگتے ہیں۔
26 سالہ دالیا ال دراویش فلسطین کی پہلی ہنرمند خاتون ٹرک ڈرائیور بننے کے لیے امتحان کی تیاری کررہی ہیں۔  ان کا خیال ہے کہ یہ امتحان صرف ڈرائیونگ کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد اس سے بڑھ کر ہے۔
فرنسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے دراویش نے بتایا کہ ’یہ علامتی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم خواتین کچھ بھی کرسکتی ہیں، بطور خاتون آپ کام کرسکتی ہیں، ایک ٹریلر چلا سکتی ہیں یا کچھ بھی۔‘
دو بچوں کی ماں ان کئی فلسطینی خواتین میں سے ہیں جو قدامت پسند شہر ہربرن میں رہتے ہوئے دقیانوسی روایات کی حدود کو توڑ رہی ہیں۔

دالیا ال دراویش نے فلسطین کی پہلی ہنرمند خاتون ٹرک ڈرائیور بننے کے لیے امتحان پاس کیا (فوٹو:اے ایف پی)

دراویش نے بتایا کہ انہیں مرد اور خواتین دونوں کی طرف سے ہی تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن مردوں کی طرف سے زیادہ باتیں سننا پڑیں۔ بہت ہی کم لوگوں نے میرے ساتھ تعاون کیا، سڑکوں پر لوگ چیختے چلّاتے تھے کہ ’نہیں، تم کیوں ایک ٹریلر چلا رہی ہو؟ یہ تمہارے لیے ناممکن ہے۔‘
ٹریننگ سینٹر میں دروایش نے ٹرک چلانے کا عملی مظاہرہ کیا اور ٹرک چلانے کی مہارت سے متعلق  انہیں جو کچھ  کرنے کا کہا گیا انہیں نے وہ کر دکھایا اور امتحان پاس کرلیا۔

فلسطینی تھری ڈی آرٹسٹ

21 سالہ لڑکی کے اپنے جلد بننے والے منگیتر کے ساتھ انسٹاگرام پر تصویر پوسٹ کرنے پر خاندان کے افراد کی جانب سے قتل کیے جانے کے بعد حالیہ مہینوں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔
مظاہرین ناصرف خواتین کے مزید تحفظ  بلکہ ان کے حقوق کے لیے نمایاں سیاسی تحریک چلانے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔

وفا ال ادھامی ایک تھری ڈی آرٹسٹ ہیں اور حال ہی میں ان کے فن پاروں کی نمائش بھی کافی مقبول ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)

فلسطینی خواتین اب بھی اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنا کریئر چھوڑ دیتی ہیں۔
ورلڈ بینک کی گذشتہ سال تحقیق کے مطابق 25 سے 34 سال کی عمر کے درمیان کی 58 فیصد ہنرمند خواتین 23 فیصد مردوں کے مقابلے میں  بے روزگار ہیں۔
فلسطین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خواتین میں بے روزگاری کی شرح (44 فیصد) مردوں سے دگنی ہے۔
وفا ال ادھامی کو بچپن سے ہی آرٹسٹ بننے کا شوق تھا لیکن انہیں اس فن سیکھنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔
5 سال قبل جب ان کے بچے بڑے ہوگئے تو انہوں نے اپنے اس خواب کی تکمیل کے لیے یوٹیوب پر موجود فنکاروں کی ویڈیوز کی مدد سے پینٹنگ سیکھنا شروع کی۔

مظاہرین ناصرف خواتین کے مزید تحفظ  بلکہ ان کے حقوق کے لیے نمایاں سیاسی تحریک چلانے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

وفا ال ادھامی نے بتایا کہ’پینٹنگ اور آرٹ سے متعلق کورسز بہت مہنگے تھے جبکہ میرے پاس وقت بھی نہیں تھا۔ ہر فنکار کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے اور میں اپنا انداز خود ڈھونڈنا چاہتی تھی۔‘
وفا ال ادھامی ایک تھری ڈی آرٹسٹ ہیں اور حال ہی میں ان کے فن پاروں کی نمائش بھی کافی مقبول ہوئی۔

خواتین کے لیے مخصوص ریسٹورینٹ چلانے والی فلسطینی خاتون

31 سالہ آسیہ عامر ہربرن میں صرف خواتین کے لیے مخصوص پہلا ریسٹورینٹ چلاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ کوئین ریسٹورینٹ کا مقصد خواتین کو ایسی جگہ فراہم کرنا ہے اور انہیں ایسا ماحول دینا ہے جہاں وہ گھر جیسا محسوس کرسکیں۔‘
آسیہ کہتی ہیں کہ ’میں ایک مثال ہوں کہ فلسطینی خواتین صرف گھفر میں بیٹھ کر کھانا پکانا اور بچوں کی دیکھ بھال ہی نہیں کرسکتیں۔‘

شیئر: