’نوکریاں نہیں تو لنگر ہی سہی؟‘

فواد چودھری کا کہنا ہے کہ عوام نوکریوں کے لیے حکومت کی جانب نہ دیکھیں۔ فوٹو: اے ایف پی
فواد چودھری اپنے بیانات اور تبصروں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر اکثر اوقات زیر بحث رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین ان کے بیانات کی وجہ سے ان کے مزاحیہ میمز بھی بناتے رہتے ہیں۔
منگل کو بھی فواد چودھری نے سوشل میڈیا صارفین تفریح اور طنز کا بھرپور سامان کیا۔

 

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام نوکریوں کے لیے حکومت کی جانب نہ دیکھیں۔
اسلام آباد کے انجینیئرنگ اداروں کے دوسرے ڈینز انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو روزگار فراہم نہیں کرسکتی بلکہ میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ حکومت 400 محکموں کو بند کرنے پر غور کر رہی ہے'۔

فواد چودھری کا کہنا تھا ’ یہ بات کی جارہی ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔ اگر یہ بات ہے تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت چار سو محکمے ختم کر رہی ہے۔ اگر آپ نوکریوں کے لیے حکومت کی طرف دیکھیں گے تو ہماری اکانومی کا فرہم ورک بیٹھ جائے گا۔  پاکستان کا یا کسی بھی حکومت کا معاملہ جو ہوگا، گورنمنٹ چھوٹی ہوتی جارہی ہے دنیا بھر میں حکومتیں چھوٹی ہوتی جارہی ہے، تو انجنیئرنگ ایجوکیشن اور وائس چانسلرز یہاں بیٹھے ہیں لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی ضرورت ہیں کہ نوکریوں کے لیے حکومت کی طرف نہیں دیکھیں۔‘
فواد چودھری کے بیان پر سوشل میڈیا میں دلچسپ اور طنزیہ تبصرے ہو رہے ہیں۔
باباجی نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’ لنگر کے لیے تو دیکھ سکتے ہیں ناں؟‘

آر پک نامی صارف نے لکھا ’ کہ حکومت بھی ٹیکس کے لیے ہماری طرف نہ دیکھیں۔‘
نعیم کاکر نام کے صارف نے فواد چودھری کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ لنگر خانہ کھولنے کے بعد عوام کو نوکری کی ضرورت بھی نہیں ہے۔لنگر خانہ مزاروں پر بنتے ہے حکمران نہیں بناتے ملک چلا رہے ھو کہ عوام کو ذلیل کررہے ھو۔‘

  بعد میں فواد چودھری نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’ حیران ہوں ہر بیان کو کیسے سیاق و سباق کے بغیر سرخی بنا دیا جاتا ہے، کہا تھا نوکریاں حکومت نہیں پرائیویٹ سیکٹر دیتا ہے حکومت نے ماحول پیدا کرنا ہے جہاں نوکریاں ہوں یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکری ڈھونڈے۔‘
اس پر ثنا اللہ خان نامی صارف نے فواد چودھری کو جواب دیا کہ ’آپ کا ویڈیو بیان چلا رہے ہیں جو آپ نے کہا ہے وہی چل رہاہے۔۔اپنی طرف سے کچھ نہیں چلایا جا رہا ہے۔‘

ابو عرش نامی صارف نے فواد چودھری کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ ‘فواد چوہدری نے اندھوں کے شہر میں آئینہ بیچنے کی بات کی ہے ، فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ہر شخص کو سرکاری نوکری نہیں دی جا سکتی ہمیں پرائیویٹ سیکٹرز کو بہتر بناکر ملازمت اور کاروبار کے مواقع بڑھانے ہوں گے ، نئے آئیڈیا پر کام کرنے کی ضروری ہے ، میڈیا کی رپورٹنگ افسوسناک ہے ۔‘
عرفان عارفی نامی صارف نے فواد چودھری کے ٹویٹ کے جواب میں سوال کیا کہ ’ مواقع اہل مریخ آکر پیدا کریں گے؟‘

نعمان احمد نے لکھا کہ ’ اگر فواد چوہدری اپنی زبان بند رکھیں تو یہ ان کا حکومت پر عظیم احسان ہو گا۔‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: