شہزادی اور پاکستانی برانڈز کی چاندی

شاہی جوڑے کیٹ مڈلٹن اور شہزادہ ولیم کے پاکستان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی ان دورے کے بارے میں باتیں ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ کہیں ان کی آمد پر شہروں میں رنگ و روغن کیا جا رہا تھا تو کہیں ذکر ہو رہا تھا ان مقامات کا جہاں دونوں جائیں گے۔ ایسے میں کیٹ مڈلٹن نے پاکستانی ڈیزائنرز کے بنائے ہوئے ملبوسات زیبِ تن کر کے لوگوں کے حیران کر دیا۔
جن برانڈز کے لباس انہوں نے پہنے ہیں انہیں نہ صرف تین دن کے اندر شہرت ملی بلکہ شاہی خاندان سے ان کے نام منسلک ہونے کے بعد سے ان چیزوں کی مانگ بھی آسمان کو چھونے لگی۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بونینزا سترنگی کے ای کامرس کی سینئر مینیجر ندا صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے وقت کیٹ مڈلٹن نے جو ڈوپٹہ اوڑھ رکھا تھا وہ بونینزا سترنگی کا تھا اور وہ ان کے پاس ہے اس کا علم ان کی ٹیم کو تب ہوا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر کیٹ مڈلٹن کی تصاویر دیکھیں۔
انہوں نے بتایا کہ تصویریں سوشل میڈیا پر آتے ہی انہوں نے کراچی کی تمام دکانوں سے اس ڈوپٹے کا سٹاک منگوا کر اسے بونینزا سترنگی کی ویب سائٹ پر فروخت کرنے کے لیے ڈال دیا۔ ’اس کے بعد 24 گھنٹے کے اندر اندر تقریباً تمام سٹاک فروخت ہو گیا۔‘
اسلام آباد کے سکولوں کے دورے کے دوران کیٹ نے نیلے رنگ کا جوڑا پہنا تھا وہ کراچی کی ڈیزائنر ماہین خان کا تھا۔ اس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ کیٹ کی تصاویر گردش کرنے کے بعد سے اس کی قیمت بڑھا دی گئی ہے۔
تاہم اردو نیوز کے نامہ نگار توصیف رضی ملک سے بات کرے ہوئے ماہین خان کا کہنا تھا کہ کیٹ نے جو نیلا جوڑا پہنا تھا وہ ان کے پاس اس نوعیت کا ایک ہی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کاروباری ماڈل مختلف ہے تو ان کے پاس کسی جوڑے کے متعدد پیس سٹاک میں نہیں ہوتے۔
انہوں نے اس بارے میں مزید بتایا کہ کیٹ کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد سے ان کو بہت سے آرڈر موصول ہو رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر برطانیہ سے ہیں۔
اس کے علاوہ جن دو لباس میں کیٹ کی زیادہ تر تصاویر گردش کر رہی ہیں ان میں سے دو بیرون ملک کی برانڈز کے ہیں، جن میں سے ایک ان کے جہاز سے اترتے وقت کا ہے اور دوسرا پاکستان مانومنٹ کے دورے کے وقت کا۔
دیکھا جائے تو کیٹ نے پاکستان آنے سے قبل ہی پاکستانی فیشن کے حلقوں میں جوش و ولولہ پھیلا دیا تھا، جب انہوں نے پرنس کرین آغا خان سے ملاقات کے موقع پر پاکستانی برانڈ زین کے کانوں کے بندے پہنے تھے۔  
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر:

متعلقہ خبریں