’شہزادیوں کا سنا تھا، اب دیکھ بھی لیا‘

کیلاشیوں کو امید ہے کہ شاہی جوڑے کے دورے سے دنیا کو اچھا پیغام جائے گا، فوٹو: فیس بک
برطانوی شاہی خاندان کے جوڑے شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ نے دورہ پاکستان کے تیسرے دن کا آغاز صوبہ خیبر پختونخوا میں چترال کے دورے سے کیا۔
شاہی جوڑے کی پاکستان آمد پر ضلع چترال اور بالخصوص کیلاش کے بمبریت کے باشندے ان کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ ان کی بے چینی اور جوش و خروش کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ آنجہانی شہزادی ڈیانا کا بیٹا اور بہو ہیں۔
مقامی باشندوں کے مطابق چترال کے زیادہ تر نوجوان شہزادی ڈیانا سے اس لیے بھی واقف ہیں کہ ہر اہم جگہ پر ان کی تصویر موجود ہے۔
کیلاشی رقص کے موقع پر شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کے ساتھ موجود مقامی شخص یاسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر اور پھر اپنی ثقافت کے بارے میں بات کرکے بہت اچھا لگا۔
’ میں ایک سوشل ورکر ہوں اور اپنی ثقافت اور علاقے کے بارے میں جانتا بھی ہوں، ان کے ساتھ بیٹھنے کی الگ خوشی ہے، میں بہت زیادہ خوش تھا، بچپن میں شہزادوں اور شہزادیوں کے بارے میں سنا تھا، اب دیکھ بھی لیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ شاہی جوڑے نے ثقافت اور رقص کے بارے میں سوالات پوچھے۔ ’ان کا یہ دورہ بہت مختصر تھا، پلک جھپکتے گزر گیا، لیکن وادی میں سب خوش تھے۔‘

کیلاشی باشندوں کے مطابق بچے شاہی جوڑے کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے، فوٹو: اے ایف پی

کیلاش کے محکمہ آثار قدیمہ کی ایک افسر سید گل کیلاش ملاقات کے بارے میں کہتی ہیں کہ شاہی جوڑے کے ساتھ ملاقات کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں تھا جس سے وہ اداس ہو گئی تھیں۔
’مجھے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ آپ شرکا کے طور پر آئیں اور شرکت کریں، تو جب ہماری کمیونٹی میں شہزادہ ولیم اور ڈچز آف کیمبرج آئے تو ان سے بات چیت کا موقع ملا، میری ان سے ملاقات اچانک ہوئی جس کی مجھے توقع نہ تھی، ملاقات کا یہ دورانیہ تین منٹ کا بھی نہیں تھا لیکن میری خواہش پوری ہو گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ شہزادے اور شہزادی نے ان سے کیلاش قبیلے کی تاریخ، ثقافت اور روایتی کپڑوں کے بارے میں پوچھا۔
’ان کو ہمارے کپڑوں سے ایسے لگا جیسے ان کو یہ محسوس ہوا کہ یہ ان کے آنے پر پہنے گئے ہوں، لیکن ہم نے ان کو بتایا کہ یہ کپڑے ہم ہر روز پہنتے ہیں، یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ تین ہزار برس سے ہم اس ثقافت کی حفاظت کرتے آئے ہیں۔‘

یاسر کہتے ہیں کہ شاہی خاندان کے جوڑے سے ملنے کی ایک الگ ہی خوشی ہے، فوٹو: اے ایف پی

یاسر کا مزید کہنا تھا ’ پھر ہم نے ان کو یہ بھی کہا کہ ہم یہ کپڑے اس وقت نہیں پہنتے جب کوئی قریبی عزیز مر جاتا ہے، تو انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ آیا مرد بھی ایسا کرتے ہیں تو ہم نے ان کو کہا کہ نہیں یہ صرف خواتین ہی ایسا کرتی ہیں۔ مردوں کو لیے ایسا کچھ نہیں وہ پہنے یا نہ پہنے ایسا کچھ ان کے لیے نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کے چہروں سے عیاں تھا کہ وہ کتنے خوش ہیں، ہماری کمیونٹی سے مل کر ان کے تاثرات ان کے چہروں سے نظر آرہے تھے۔
شاہی جوڑا کیلاش کی گلیوں میں بھی گھوما پھرا اور وہاں ان کو وہ روایتی ہار اور ٹوپیاں دی گئیں جو کیلاشی ہر مہمان کو دیتے ہیں۔

شاہی جوڑے کو بمبریت کی گلیوں میں بھی گھمایا پھرایا گیا، فوٹو: روئٹرز

سید گل کیلاش کے مطابق ہماری ثقافت کے بارے میں سوالات سے ہمیں یہ لگا کہ انہیں ہمارا کلچر منفرد لگا۔ ہم نے انہیں بہت دوستانہ  پایا۔ وہ بہت اچھے طریقے سے بات چیت کر رہے تھے۔
1991 میں شہزادی ڈیانا کا دورہ ابھی بھی مقامی باشندوں کے ذہنوں پر نقش ہے۔


سید گل کیلاش اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام کرتی ہیں، فوٹو: فیس بک

سید گل کیلاش کہتی ہیں کہ شہزادی ڈیانا کا استقبال ان کی والدہ نے کیا تھا اور ان کے بچوں کا استقبال ان کی والدہ نے دیگر خواتین کے ساتھ کیا۔
’ امی نے ان سے کہا کہ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، آپ شہزادی ڈیانا کے بچے ہیں، ہمیں بہت اچھا لگا کہ آپ لوگوں نے ہمیں یاد کیا، امی نے کہا کہ وہ کافی خوش ہوئے تھے، انہوں نے امی کے ساتھ تصویریں بھی بنوائیں۔‘
کیلاشیوں کو امید ہے کہ شاہی جوڑے کے دورے سے دنیا کو ایک اچھا پیغام جائے گا اور یہاں سیاح آتے رہیں گے، انہیں امید ہے کہ اس سے دنیا میں ان کا اچھا تاثرجائے گا۔

 

واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: