مصر میں دریافت ہونے والے تابوت کس کے؟

یہ تابوت لگ بھگ تین ہزار سال پرانے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
مصر کے حکام نے دریائے نیل کے مغربی کنارے سے ہزاروں برس قدیم لکڑی کے 30 تابوت دریافت ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مردوں، خواتین اور بچوں کے 30 سجے ہوئے تابوتوں کو زمین میں صرف ایک میٹر (تین فٹ) کی گہرائی سے کھودا گیا جن کو دو قطاروں میں رکھا گیا تھا۔
مصر کی وزارت نوادرات نے ہفتے کو بتایا ہے کہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تابوت ان افراد کے ہیں جن کا تعلق مصری پادریوں کے اعلیٰ خاندان سے تھا۔
مصری وزارت نوادرات کی سپریم کونسل کے سربراہ مصطفیٰ الوزیری کے بقول یہ اساسیف کے علاقے میں تابوتوں کی پہلی دریافت ہے جو مقامی ماہرین آثار قدیمہ اور مزدوروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔

لوگ تابوتوں کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہو رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

وزیر نے وضاحت کی کہ 19ویں صدی میں اس جگہ کی کھدائی سے شاہی مقبرے دریافت ہوئے تھے تاہم اس تازہ ترین دریافت سے پادریوں کے تابوتوں کا ایک بڑا مجموعہ برآمد ہوا ہے۔
واضح رہے کہ یہ تابوت مصر کے اساسیف نامی علاقے سے دریافت ہوئے تھے جو دریائے نیل کے مغرب میں واقع آثار قدیمہ پر مشتمل ایک ’قبرستان‘ ہے۔
منگل کو مصری وزارت قدیم نوادرات نے محفوظ اور سربمہر تابوتوں کی تصاویر ٹویٹر پر شیئر کی تھیں۔
یہ تابوت ایک بڑے مقبرے میں موجود تھے جبکہ ان کے چہروں اور ہاتھوں پر بنایا گیا نقش و نگار اور مختلف رنگوں سے بنے پھول وغیرہ اب بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔
مصر کے محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق یہ تابوت لگ بھگ تین ہزار سال پرانے ہیں۔
وزارت نوادرات کے مقامی اہلکار صالح عبدل نے رپورٹرز کو بتایا کہ یہ تابوت اتنی اچھی حالت میں تھے کہ انہوں نے ان کی صفائی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

حکام کے مطابق انہیں میوزیم میں منتقل کر دیا جائے گا۔ فوٹو: اے ایف پی

وزیر نوادرات خالد العنینی کے مطابق 2011 کے بعد سے تاریخی تابوتوں اور قدیم مصر کے حوالے سے دیگر اشیا کی دریافت میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ان کے بقول ’کچھ لوگ جن کا میں نام نہیں لینا چاہتا، چاہتے ہیں کہ ہم یہ دریافتیں نہ کریں۔ اس سے دنیا حیران ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ مصر کی شہرت کے لیے یہ دریافتیں بہت انمول ہیں۔‘
خالد کے مطابق اساسیف سے ملنے والے 30 تابوتوں کو آئندہ سال حال میں کھلنے والے ملک کے سب سے بڑے میوزیم میں منتقل کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مصر اپنے تاریخی مقامات اور ملک سے دریافت ہونے والی یاناب اشیا کی بنیاد پر ملک میں سیاحت کو فروغ دینا چاہتا ہے تاہم اس کے ان اداروں کو ملک میں سیاسی عدم استحکام سے نقصان پہنچا ہے۔
ناقدین الزام لگاتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے آثار قدیمہ اور میوزیمز کی دیکھ بھال اچھے طریقے سے نہیں کی جاتی۔

شیئر: