شارجہ کے عالمی کتب میلے میں کیا خاص ہے؟

کتب میلے میں کئی قدیم نسخے ہزاروں سال پرانے ہیں۔ فوٹو الامارات الیوم
 شارجہ میں بین الاقوامی کتب جاری ہے۔ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن بھی نمائش دیکھنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
کتب میلے میں نادر کتابیں اور دنیا کے مہنگے ترین قلمی نسخوں کا عجائب گھر لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے ۔
 الامارات الیوم کے مطابق منفرد نوعیت کا یہ عجائب گھر پہلی مرتبہ کتب میلے کے ایک گوشے میں قائم کیا گیا ہے۔ اس میں تاریخی عسکری نقشے بھی رکھے گئے ہیں۔

 عجائب گھرمیں  تاریخی عسکری نقشے رکھے گئے ہیں۔ فوٹو الامارات الیوم

شائقین کا کہناہے کہ کتابوں کے بین الاقوامی میلے میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل یہی نادر کتابوں اور انمول قلمی نسخوں کا گوشہ ہے۔
قلمی نسخے معتبر مورخین اور دنیا بھر کے نامور علماءکے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔ کئی قدیم نسخے ہزاروں سال پرانے ہیں۔
عجائب گھر دسیوں ادبی اور تاریخی کتابوں کا خوبصورت انتخاب سجا ہوا ہے۔ انہیں دیکھتے ہی انسان قدیم دنیاکے تصورات میں کھو جاتا ہے۔ نادر کتابیں اور انمول قلمی نسخے پیش کرنے کا اہتمام آسٹریا کے نبراس ہاﺅس ، متحدہ عرب امارات کے دار اقتناءاور برطانیہ کے پیٹر ہیری نیکٹن نے کیا ہے۔ 
نادر کتابوں اور قدیم قلمی نسخوں کا تعلق سیکڑوں برس پہلے سے ہے۔ یہ نہایت مہنگے ہیں۔ ان میں سے بعض پہلی مرتبہ نمائش میں لائے گئے ہیں۔
انمول قلمی نسخوں اور قدیم کتابوں کے گوشے کے ذمہ داران کا کہناہے کہ تمام ممالک کے شائقین نادر کتابیں اور انمول قلمی نسخے دیکھنے کے لیے آرہے ہیں۔ پذیرائی ہمارے تصور سے کہیں زیادہ ہے۔
قلمی نسخوں اور کتابوں پر اب تک بعض شائقین ، امراءاور مغربی دنیا کے شائقین کی اجارہ داری تھی۔ زیادہ تر یورپی ممالک کے لوگ ان میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اب دلچسپی کا دائرہ خلیجی ممالک تک پھیل گیا ہے۔ 

ابن رشد کی کتاب ’تلخیص الکون والفساد‘ کی قیمت 58ہزار ڈالر ہے۔ فوٹو گلف نیوز

قلمی نسخوں کا تعلق جزیرہ عرب ، اسلام اور طب، فلکیات اور انجینیئرنگ کے شعبوں میں عظیم مسلم سائنسدانوں سے ہے۔
 امارات کے دار اقتناءکے ڈائریکٹر محمد اصاف نے الامارات الیوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ پوری دنیا میں مقبول ترین قلمی نسخے یہاں پیش کئے جائیں۔
کتب میلے میں نمایاں ترین ’الف لیلہ و لیلہ‘ (ہزار راتیں اور رات) کے فرانسیسی نسخے کا ہے۔ یہ انطوان غالان نے تحریر کیا تھا۔ یہ 12جلدوں میں ہے۔ اس کی قیمت کا اندازہ 3لاکھ 50ہزار ڈالر ہے۔
عربی کتاب الف لیلہ و لیلہ کا فرانسیسی زبان میں یہ ترجمان 1706 سے 1719کے درمیان کیا گیا تھا۔ یہ فرانسیسی زبان میں پیش کی جانے والی نادر اور قدیم ترین کتاب ہے۔
محمد اصاف نے بتایا کہ اس سال پہلی مرتبہ الف لیلہ و لیلہ کتاب کے عربی نسخے کی دو جلدیں بھی پیش کی جارہی ہیں۔ یہ قاہرہ کے بولاق پریس نے شائع کی تھی۔ ان کی قیمت 3 لاکھ ڈالر ہے۔ پوری دنیا میں اس کتاب کے 8 نسخے ہیں۔ یہی اس کے نادر ہونے کی وجہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ جب یہ کتاب مصر میں پہلی بار شائع ہوئی تھی تو بعض علماءنے اسکی تمام کاپیاں نذر آتش کرنے کا فتویٰ دیا تھاتھا۔

میلے میں مسلم سائنسدانوں کی نادر کتابوں کا انتخاب بھی پیش کیا گیا ہے۔فوٹوخلیج ٹائمز

محمد اصاف کے مطابق ہمارے ادارے نے طب، فلکیات اور انجینیئرنگ میں مسلم سائنسدانوں کی نادر کتابوں کا انتخاب بھی پیش کیا ہے۔ ان میں 1559 میں ابن رشد کی تصنیف کردہ کتاب ’تلخیص الکون والفساد‘ بھی ہے۔ اس کی قیمت58ہزار ڈالر ہے۔ یہاں جغرافیہ داں ، عثمانی مورخ حلبی حاجی خلیفہ کی کتاب جہاں نامہ بھی ہے۔ اسکی قیمت ایک لاکھ 10ہزار ڈالر ہے۔ یہ کتاب 1732 کی ہے۔
مسلم دنیا کے کئی تاریخی نقشے بھی پیش کئے گئے ہیں ان میں جزیرہ عرب کا ایک نادر اور اہم نقشہ بھی ہے۔
 کتب میلے میں آنے والے فرانسیسی مولف لوئس میتھیو لانگز کی تصنیف ’رحلات السندباد البحری ‘ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یہ 1814 میں عربی میں شائع ہوئی تھی۔ اس کی قیمت 10 ہزار ڈالر ہے۔
                        
اپ ڈیٹ رہیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
 

شیئر: