عراق میں مظاہرے، ایرانی قونصلیٹ کا گھیراﺅ

مظاہرو ں میں اب تک 270 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔فوٹو اے ایف پی
 بغداد میں پیر کو بھی حکومت مخالف مظاہرے جار ی رہے۔ مظاہرین وزیر اعظم کے دفتر اور سرکاری ٹی وی ہیڈکوارٹر کی عمارت تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ 
 امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور شیلنگ سے بغداد میں مزید پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔اس سے قبل کربلا میں ایرانی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ سے 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عراقی دارالحکومت بغداد میں الرشید اسٹریٹ میدان جنگ بنا رہا۔فوٹو اے ایف پی

 اسکائی نیوز کے مطابق عراقی مظاہرین نے کربلا میں ایرانی قونصلیٹ کی ایک سے زائد مرتبہ ناکہ بندی کی ہے۔ قونصلیٹ کی طرف جانے والی تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
مظاہرین اور اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایرانی قونصلیٹ کی ناکہ بندی کرکے اس کی دیواروں پر چڑھ گئے تھے۔ انہوں نے ایرانی پرچم اتار کر قو نصلیٹ پر عراقی پرچم لہرا دیا تھا۔
 عراقی عہدیداروں کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ایرانی قونصلیٹ کو نذر آتش کرنے کی کوشش پر فائرنگ کی۔فورسز نے ایرانی قونصلیٹ کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔
 دوسری طرف عراقی دارالحکومت بغداد میں الرشید اسٹریٹ میدان جنگ بنا رہا ۔

صورتحال سول نافرمانی کی جانب بڑھ رہی ہے۔فوٹو اے ایف پی

بغداد میں اسکائی نیوز کے رپورٹر نے بتایا کہ مظاہرین الرشید اسٹریٹ پرموجودہیں اور الاحرار پل عبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ صورتحال سول نافرمانی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اکتوبر میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرو ں میں اب تک 270 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ مظاہرین حکومت سے استعفے ، پارلیمنٹ تحلیل کرنے، نئے صاف شفاف انتخابات، معاشی حالات کی بہتری اور بے روزگاری کے خاتمے کے مطالبے کررہے ہیں۔
 عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے احتجاجی مظاہرے ختم کرنے کی اپیل کی تھی کیونکہ ا س سے قومی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہورہا ہے اورروزمرہ کی زندگی معطل ہورہی ہے۔ اسکے باوجود ہزاروں مظاہرین بغداد میں سڑکوں پر ہیں۔

شیئر:

متعلقہ خبریں