بابری مسجد: فیصلہ ہندوؤں کے حق میں

انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کی زمین کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں دیا ہے جبکہ مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی کسی نمایاں مقام پر پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پانچوں ججز نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر انڈین میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا کہ ’وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمن نہیں ہیں۔‘
سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’متنازع زمین ایک ٹرسٹ کے حوالے کی جائے اور یہ ٹرسٹ مرکزی حکومت تین ماہ کے اندر تشکیل دے۔‘
سنیچر کو فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ’قانونی بنیاد پر اراضی کا فیصلہ ہو گا نہ کہ عقائد کی بنیاد پر۔‘
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’عدالت نے کئی دہائیوں سے لٹکے معاملے کو احسن طریقے سے نمٹا دیا ہے۔ ہر فریق اور ہر طرح کا نقطہ نظر رکھنے والوں کی بات کو تسلی سے سنا گیا ہے۔ یہ فیصلہ لوگوں کے دل میں عدالتی نظام پر یقین کو مزید بڑھائے گا۔‘
انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ 'رام جنم بھومی پر اتفاق رائے سے آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کا میں خیر مقدم کرتا ہوں۔ میں تمام برادری اور مذہب کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس فیصلہے کو قبول کرتے ہوئے پرامن اور خوش گوار ماحول برقرار رکھیں اور 'ایک بھارت شریسٹھ (عظیم) بھارت' کے اپنے عہد کے پابند رہیں۔‘
بابری مسجد رام مندر فیصلے پر کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ 'کانگریس بھگوان شری رام کے مندر کی تعمیر کے حق میں ہے۔'
کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کی ہے کہ ’سپریم کورٹ نے ایودھیا معاملے پر جو فیصلہ دیا ہے، تمام فریقین، برادریوں اور شہریوں کو اس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہماری صدیوں سے چلی آ رہی میل جول کی ثقافت کو بنائے رکھنا چاہیے۔ ہم سب کو ایک ہو کر آپسی خیرسگالی اور بھائی چارے کو مضبوط کرنا ہو گا۔'

سپریم کورٹ نے مسلمانوں کو مسجد کے لیے پانچ ایکڑ اراضی فراہم کرنے کی ہدایت کی، فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ’ایودھیا میں متنازع زمین پر مندر قائم کیا جائے گا جبکہ مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لیے 5 ایکڑ زمین فراہم کی جائے‘۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ بابری مسجد کے نیچے ایک ایسا ڈھانچہ ملا ہے جو اپنی شکل و صورت میں اسلامی نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق آثار قدیمہ کے پیش کردہ شواہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے کے ابتدائی حصے میں عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کے مقام پر نرموہی اکھاڑے اور شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کر دیا۔
فیصلے سے قبل کسی ناگہانی صورت حال سے بچنے کے لیے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور ریاست اتر پردیش میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔
واضح رہے کہ انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی سمیت پانچ رکنی بینچ نے مسجد اور مندر کے مقدمے کی سماعت 16 اکتوبر کو مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
اترپردیش پولیس کے سربراہ او پی سنگھ نے اکنامک ٹائمز کو بتایا تھا کہ ’انڈیا بھر میں سکیورٹی سخت کی گئی اور 500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔‘

بابری مسجد کیس میں کب کیا ہوا؟

یہ مقدمہ 1961 میں سنی وقف بورڈ نے ایودھیا میں 277 ایکڑ اراضی کی ملکیت کے لیے کیا تھا جس پر 16ہویں صدی سے بابری مسجد تعمیر تھی۔
ہندو شدت پسند یہاں مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہاں رام کی پیدائش ہوئی تھی۔
1980 میں انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی مضبوط ہونا شروع ہوئی اور اس نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی جدوجہد تیز کر دی۔
6 دسمبر 1992 میں قریباً دو لاکھ ہندو شدت پسندوں نے 460 برس قدیم مسجد کو مسمار کر دیا۔

فسادات سے بچنے کے لئے انڈین حکومت نے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے، فائل فوٹو: اے ایف پی

اس کے بعد ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے تھے جن کے نتیجے میں لگ بھگ دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔
اس کے 10 برس بعد ایودھیا سے گجرات جانے والی ٹرین میں آگ لگنے سے 59 ہندو سماجی کارکن ہلاک ہو گئے جس سے گجرات میں فسادات پھوٹ پڑے جن میں ایک ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ اس دوران انڈیا کے موجودہ وزیراعظم نریند مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔
2010 میں انڈیا کی ایک ہائی کورٹ نے بابری مسجد کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دینے کا حکم دیا لیکن دونوں فریقین اس فیصلے پر راضی نہیں تھے۔
لہٰذا 2011 میں مسلانوں اور ہندوؤں نے اس فیصلے کے خلاف انڈین سپریم کورٹ سے حکم امتناعی لے لیا اور یہ کیس تب سے سپریم کورٹ میں سنا جا رہا تھا۔

ہندو تنظیموں نے حامیوں سے اپیل کی کہ فیصلہ حق میں آنے پر جشن نہ منائیں، فوٹو: اے ایف پی

بی جے پی کا کردار

انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی گذشتہ کئی دہائیوں سے بابری مسجد کی جگہ ہندوؤں کے حق میں کرنے کے لیے سرگرم تھی اور سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس کی جیت ہے۔
اس فیصلے نے انڈیا میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے جو سمجھتے ہیں کہ بی جے پی انڈیا کو ہندو ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ کے ذریعے پیغام دیا کہ ’فیصلہ جس کے بھی حق میں بھی آئے وہ برداشت کا مظاہرہ کرے۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دیتی ہے اسے کسی کی جیت یا ہار نہ سمجھا جائے۔‘

احتیاط کی اپیل

انڈین حکومت نے گذشتہ دنوں مسلم اور ہندو مذہبی رہنماؤں سے کہا کہ وہ ملک میں امن وامان برقرار رکھنے کی اپیل کریں۔ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی حال میں مسلم رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔
ہندو تنظیموں نے بھی اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو وہ کوئی جشن نہ منائیں اور نہ ایسا کوئی بیان دیں جس سے کسی دوسرے فرقے کو تکلیف پہنچے اور اگر فیصلہ مندر کے حق میں نہیں آتا تو وہ حکومت پر بھروسہ رکھیں۔
مسلمانوں کے رہنما ایک عرصے سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر نظر رکھنے کے لیے ایک علیحدہ سیل قائم کیا ہے اور شر انگیز پیغامات پر مؤثر کارروائی کی بات کی جا رہی ہے۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: