’ہمیں مسجد کے لیے خیرات نہیں چاہیے‘

انڈیا میں مسلمانوں کی سرکردہ تنظیم مسلم پرسنل لا بورڈ نے بابری مسجد کیس کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ فیصلہ ہماری امیدوں کے منافی ہے۔‘
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ’ہم نے اپنے مؤقف کے حق میں ٹھوس شواہد پیش کیے۔ ہماری قانونی کمیٹی اس فیصلے کا جائزہ لے گی۔ ہم نے سنجیدگی کے ساتھ منہدم بابری مسجد کی بحالی کے لیے اپنی ذمہ داری نبھائی۔'
اترپردیش سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں بہت سے تضادات ہیں اور یہ مسجد کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ یہ ہماری شریعت میں نہیں ہے لیکن  ہم عدالت کا فیصلہ مانیں گے۔‘
 
مقمای میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم فیصلے کے متعلق مشورہ کریں گے اور بعد میں طے کریں گے کہ اس کے متعلق اپیل کریں یا نہیں۔ اس فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں اس کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔'
مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اسے ’حقائق کے بجائے عقیدے کی جیت‘ قرار دیا ہے۔
مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’مسلمان اپنے قانونی حق کے لیے لڑ رہے تھے۔ وہ غریب ہیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود وہ اتنے گئے گزرے بھی نہیں کہ اپنے اللہ کے لیے پانچ ایکڑ زمین نہ خرید سکیں۔ ہمیں کسی کی خیرات یا بھیک کی ضرورت نہیں۔‘

اترپردیش سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی کا کہنا ہے کہ مشورے کے بعد طے کریں گے کہ اس کے متعلق اپیل کریں یا نہیں (فوٹو:سوشل میڈیا)

جسٹس جے ایس ورما کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سپریم ضرور ہے لیکن غلطی سے مبرا نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے چھ دسمبر کو بابری مسجد گرائی تھی آج انھی کو سپریم کورٹ کہہ  رہی ہے کہ ٹرسٹ بنا کر مندر کا کام شروع کیجیے۔ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر مسجد نہیں گرائی گئی ہوتی تو کورٹ کیا فیصلہ دیتا؟'
اسدالدین اویسی نے کہا: 'میری ذاتی رائے ہے کہ مسلمانوں کو اس تجویز کو مسترد کر دینا چاہیے۔  ملک اب ہندو ملک کے راستے پر جا رہا ہے۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی ایودھیا میں اسے استعمال کرے گی۔ وہاں مسجد تھی اور رہے گی۔ ہم اپنی نسلوں کو یہ بتاتے جائیں گے کہ یہاں 500 سال تک مسجد تھی لیکن 1992 میں سنگھ پریوار اور کانگریس کی سازش نے اسے شہید کر دیا۔'

اجمیر درگاہ کے سربراہ دیوان زین العابدین علی خان نے کہا کہ 'عدلیہ سب سے اوپر ہے اور ہر کسی کو اس کا فیصلہ ماننا چاہیے‘ (فوٹو:سوشل میڈیا)

دوسری جانب بابری مسجد کے سلسلے میں اپیل دائر کرنے والے سب سے معمر فریق ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے سے پوری طرح سے مطمئن ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے جو فیصلہ کیا ہے درست فیصلہ کیا ہے، ہم پہلے بھی عدالت کا احترام کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔‘
انڈیا کے خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق اجمیر درگاہ کے سربراہ دیوان زین العابدین علی خان نے عدالت عظمی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ 'عدلیہ سب سے اوپر ہے اور ہر کسی کو اس کا فیصلہ ماننا چاہیے۔ یہ وقت ہے جب دنیا کے سامنے متحد چہرہ پیش کریں کیونکہ ساری دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے۔'

سیکولر ملک کون؟ سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

دوسری جانب انڈیا کی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کون سا ملک سیکولر ہے اور کونسا مذہبی۔
شاہ اویس نورانی نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ انڈیا میں بابری مسجد ڈھا کر رام مندر بنانے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ انڈین سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ہے۔

ایک اور صارف ابوبکر صدیق نے لکھا کہ ’1947 میں پاکستان مذہب اور انڈیا نے سیکولر ازم کے نعروں پر آزادی حاصل کی لیکن آج پاکستان انڈیا سے زیادہ سیکولر محسوس کررہا ہے۔

ٹوئٹر صارف ناصر خاکوانی نے اپنی ٹویٹ میں بابری مسجد اور کرتار پورہ میں گردوارے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ تصاویر صرف دو مذہبی علامات ہی نہیں بلکہ دو رویوں کی عکاس ہے، ایک تصویر اس ملک کے سیکولر ازم کا منہ چڑا رہی ہے تو دوسری تصویر اس ملک کی اقلیتوں کے لیے وسیع قلبی کی طرف اشارہ دے رہی ہے۔

ٹوئٹر صارف شفاعت علی نے ٹویٹ کی کہ’انڈیا اب ایک ہندو ریاست ہے، ریسٹ ان پیس سیکولر ازم‘۔

شیئر: