امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں مزید افواج کی تعیناتی، ایران کے خلاف آپریشنز جاری
امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشنز کے پیشِ نظر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اضافی افواج اور فوجی ساز و سامان بھیجے گا۔
جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے پیر کو پینٹاگون میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘کے نام سے منسوب یہ مہم تاحال جاری ہے اور یہ جلدی ختم نہیں ہو گی۔
ڈین کین نے کہا کہ ’یہ راتوں رات مکمل ہونے والا کوئی واحد آپریشن نہیں ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکامۃ اور مشترکہ افواج کو جو فوجی اہداف سونپے گئے ہیں، انہیں حاصل کرنے میں کچھ وقت لگے گا اور بعض صورتوں میں یہ کام مشکل اور کٹھن ہو گا۔‘
انہوں نے اعتراف کیا کہ اب تک چار امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور خبردار کیا کہ مہم جاری رہنے کے ساتھ مزید جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
ڈین کین نے مزید کہا ’ہمیں مزید نقصان کی توقع ہے اور حسبِ روایت ہم امریکی نقصانات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن جیسا کہ وزیر دفاع (ہیگستھ) نے کہا یہ ایک بڑے پیمانے کی جنگی کارروائی ہے۔‘
انہوں نے تصدیق کی کہ مزید افواج پہلے ہی خطے کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔
انہوں نے امریکی سینٹکام کے چیف بریڈ کوپر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ایڈمرل کوپر کو آج بھی اضافی افواج موصول ہوں گی۔‘
انہوں نے تیزی سے بڑھتی ہوئی اس فوجی قوت کو امریکی مسلح افواج کی اس صلاحیت کا ثبوت قرار دیا جس کے ذریعے وہ تیزی سے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے اور ’اپنی قوم کے منتخب کردہ وقت اور مقام پر‘ طاقت کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
