بغداد میں حکومت مخالف مظاہرے، مزید پانچ افراد ہلاک

حکومت نے متعدد سینیئر عہدیداروں کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات شروع کردی ہیں فوٹو روئٹرز
عراق میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جن میں مزید پانچ افراد ہلاک جبکہ 108 زخمی ہوگئے ہیں۔ سنیچر کو سیکیورٹی فورسز نے بغداد میں دریائے دجلہ کے تین اہم پلوں کو حکومت مخالف مظاہرین سے خالی کر الیا۔
 امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق گذشتہ رات جھڑپوں کے دوران جنوبی شہر بصرہ میں مزید تین مظاہرین ہلاک ہو گئے۔
دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی اور دستی بموں کا استعمال کیا۔

جنوبی شہر بصرہ میں مزید تین مظاہرین ہلاک ہو گئے۔ فوٹو رویٹر

ایک عراقی اہلکار نے سیناک پل پر کنٹرول کے لیے سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ کو شدید ترین قرار دیا ہے۔ اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جھڑپ کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے۔
سکیورٹی فورسز نے مزید دو پلوں سے بھی مظاہرین کو پیچھے دھکیل کر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ دریائے دجلہ پر واقع پل سخت سیکیورٹی والے گرین زون کو شہر کو ملاتے ہیں۔
یاد رہے کہ مظاہروں کے دوران اب تک 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

 مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی اور دستی بموں کا استعمال کیاگیا فوٹو روئٹرز

مظاہرین نے محدود معاشی اصلاحات کی حکومتی تجاویز کو مسترد کردیا ہے اور وہ وزیر اعظم سمیت سیاسی قیادت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرر ہے ہیں۔
ادھر عراقی وزیر اعظم نے سنیچر کو ایک بیان میں اعتراف کیا کہ’سیاسی جماعتوں نے ملک چلانے میں غلطیاں کیں۔ سیاسی قوتیں اور جماعتیں کسی بھی جمہوری نظام میں اہم ادارے ہیں انہوں نے قربانیاں دی ہیں لیکن بہت سی غلطیاں بھی کیں‘۔
بیان میں کہا گیا کہ مظاہروں سے سیاسی گروپوں اور حکومت پر اصلاحات کے لیے دباو پڑا ہے تاہم مسلسل مظاہروں سے متاثر ہونے والے معمولات زندگی کو بحال ہونے دیا جائے۔ اس سے مظاہرین کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

مظاہرین وزیر اعظم سمیت سیاسی قیادت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرر ہے ہیں فوٹو روئٹرز

العربیہ نیٹ کے مطابق عراقی حکومت نے متعدد سینیئر عہدیداروں کے خلاف بدعنوانی کے متعدد مقدمات کی تحقیقات شروع کی ہے۔ حکومت کے ترجمان سعد الحدیثی نے ایک بیان میں کہا کہ ’عراقی حکومت ملک میں کئی اصلاحاتی قوانین نافذ کرنے پر بھی کام کر رہی ہے‘۔
’نئے انتخابی قوانین اور دولت کی منصفانہ تقسیم پر بھی کام کیا جا رہاہے‘۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: