Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ نہ ہو سکا

پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے اس پر کوئی دباؤ نہیں، فوٹو: اے ایف پی
قانونی پیچیدگیوں اور کابینہ میں اختلافات کی وجہ سے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کا نام پیر کو ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکا۔ یہ معاملہ اب منگل کو کابینہ کے سامنے آئے گا جہاں اس کے سیاسی، تکنیکی اور قانونی پہلوؤں پر بات چیت کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہو گا۔
اس سے قبل نیب نے بظاہر نواز شریف کو رعایت دینے کے فیصلے کے بوجھ سے بچنے کے لیے وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ طے کرے کہ کیا کرنا ہے۔
تاہم اردو نیوز کو پتا چلا ہے کہ ’کابینہ کے کئی ارکان نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کے مخالف ہیں۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا کہ ’کابینہ کی اکثریت اس خیال کی حامل ہے کہ قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔‘سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام تاحال ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نہیں نکالا گیا۔
اردو نیوز کو موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کے کم سے کم آٹھ ارکان نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے مخالف ہیں، ان میں سے دو وفاقی وزرا اپنی ٹویٹس کے ذریعے سوشل میڈیا پر اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔
اس معاملے پر وفاقی حکومت نے اب قانونی پہلوؤں پر غور کے لیے وزارت قانون سے بھی رائے مانگ لی ہے۔
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم سے بھی رائے طلب کی گئی ہے۔‘
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ’ای سی ایل سے نام نکالنے کا معاملہ ابھی تک کابینہ کے ایجنڈے میں شامل نہیں، منگل کو کابینہ کے اجلاس میں اگر یہ معاملہ آیا تو پھر اس پر وہ اپنی رائے دیں گے۔‘
ایک اور وفاقی وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’وفاقی کابینہ کے آٹھ ارکان نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حامی نہیں اور ان کی رائے ہے کہ ’نواز شریف سزا یافتہ شخص ہیں اور ان کی سزا معطل نہیں ہوئی، ایسے شخص کا نام ای سی ایل سے نکالنے پر احتساب کے عمل پر سوالات اٹھیں گے۔‘
اسلام آباد سے اردو نیوز کے نامہ نگار وسیم عباسی کو نیب کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ واپس وزارت داخلہ کو بھیج دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر خود فیصلہ کر لے۔ ماضی میں بھی وزارت داخلہ اس حوالے سے خود فیصلہ کرتی رہی ہے۔‘
دوسری جانب کابینہ کمیٹی برائے ای سی ایل کا اجلاس منگل کی صبح 10 بجے طلب کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ زیر غور آئے گا۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کابینہ کمیٹی برائے ای سی ایل کے اجلاس کی صدارت کریں گے، فوٹو: اے ایف پی

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ’عطا اللہ تارڑ اور ڈاکٹر عدنان اجلاس میں صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کی نمائندگی کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ امید ہے حکومتی سطح پر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے امور کو جلد نمٹایا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر آٹھ ہفتے کی ضمانت دے رکھی ہے۔ جمعے کے روز شہباز شریف نے وزارت داخلہ کو سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی تھی جس پر وزارت داخلہ نے نیب اور میڈیکل بورڈ سے سفارشات طلب کی تھیں۔
پیر کو گورنر چوہدری سرور نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’نواز شریف کا نام آج ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔ نواز شریف علاج کے لیے جہاں جانا چاہتے ہیں جا سکتے ہیں، جتنی جلدی بھی ہم ان کو ملک سے باہر بھجوا سکیں اتنا ہی بہتر ہو گا۔‘

گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا نام پیر کو ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا، فوٹو: اے پی پی

پیر کو ہی لاہور میں صوبہ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ’وزارت داخلہ نے ان کی وزارت کے ذریعے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ منگوائی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ’ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ ہمیں موصول ہوگئی تھی مگر وہ ناکافی تھی اس لیے واپس بھیج کر مزید تفصیلات شامل کرنے کے لیے کہا ہے۔‘
وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ نواز شریف ہائی پروفائل مریض ہیں، ان کی جانب سے ضمانت کے بعد علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی درخواست دی گئی۔‘

 

انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف جہاں سے چاہیں علاج کروا سکتے ہیں، ان کی بیماری کی تشخیص ہو گئی ہے، تاہم ان کی شوگر کنٹرول نہیں ہو رہی۔ نواز شریف کو سٹیرائیڈز اور مختلف ادویات دی جا رہی ہیں۔‘
’ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد کم تھی، علاج کے لیے کراچی کے ڈاکٹر شمسی کو بھی بلایا گیا اور دوسرے ڈاکٹرز سے بھی مدد لی گئی۔‘
کسی سیاسی دباؤ کے حوالے سے پوچھے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ’ایسی کوئی بات نہیں، بورڈ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں، بورڈ مکمل طور پر خود مختار ہے، اور نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے وہ آج پھر ایک میٹنگ کرنے جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف بیمار ہیں، نیب اور جیل کے دنوں میں بھی ایمبولینس اور ڈاکٹر سٹاف کو چوبیس گھنٹے تیار رکھا گیا، جب طبعیت ناساز ہوئی تو پہلے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور پھر سروسز ہسپتال بھیجا گیا، اس کے بعد وہ گھر منتقل ہوئے۔‘

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ نواز شریف ہائی پروفائل مریض ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی 

یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کے خط کا جواب لکھا تھا مگر اب میڈیکل بورڈ سے تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ ’اگر ادھوری رپورٹ وزارت داخلہ کو بھیجتے تو ہمارا مذاق اڑایا جاتا۔‘
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک لے جانے کے لیے ایئر ایمبولینس کا انتظام کر لیا گیا ہے جو بدھ کو پاکستان پہنچے گی۔‘
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس فیصلے میں سات سال کی سزا بھگت رہے تھے۔
گذشتہ ماہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے چودھری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کو ملزم نامزد کرنے کے بعد احتساب عدالت سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔
جیل سے نیب کی تحویل میں جانے کے بعد نواز شریف علیل ہو گئے اور ان کو طبی معائنے کے لیے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے خون میں پلیٹ لیٹس کی کمی کا معاملہ سامنے آیا اور ڈاکٹروں نے ان کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کیا۔

نواز شریف کے علاج کے لیے جاتی امرا کی رہائش گاہ میں آئی سی یو قائم کیا گیا، فوٹو: مسلم لیگ ن

نواز شریف کا علاج جاری رکھنے کے لیے ان کے بھائی اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ جبکہ العزیزیہ ریفرنس فیصلے میں سزا کی معطلی اور ضمانت پر رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔
اکتوبر کی 24 تاریخ کو وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی دعائیں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: