’نواز شریف کو بیرون ملک جانا چاہیے‘

مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ ان دنوں نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے حوالے سے مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کا فیصلہ عدالت کرے گی۔
جمعے کو عدالت میں حاضری کے بعد صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے دوران نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اس ضمن میں انتظام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس ادویات سے بھی بہتر نہیں ہو رہے اور روزانہ کی بنیاد پر پلیٹ لیٹس اوپر جانے کی بجائے نیچے آ رہے ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کے والد کی صحت کافی خراب ہے اور ان کی بیماری کی تشخیص ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست پوری زندگی چلتی رہتی ہے لیکن والدین دوبارہ نہیں ملتے۔ 
نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لیے درخواست کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ اس معاملے کو شبہاز شریف دیکھ رہے تھے اور وہ ان سے پوچھ کر اس کے بارے میں کچھ بتا سکتی ہیں۔
نواز شریف اگر علاج کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں تو کیا آپ(مریم نواز) بھی ساتھ جاتی ہیں؟
اس پر مریم نواز نے کہا کہ  ظاہر ہے کہ میں ابھی فوری سفر نہیں کر سکتی کیونکہ میرا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے۔
’یہ بڑا مشکل ہے کہ میاں صاحب علاج کے لیے باہر چلے جائیں اور میں نہ جا سکوں۔ یہ میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گا کیونکہ ان کے بارے میں بڑی فکر اور تشویش ہوتی ہے لیکن میاں صاحب کو زندگی کا مسئلہ ہے اور صحت تشویشناک ہے تو انھیں دنیا میں جہاں بھی علاج ممکن ہے وہاں سے کرانا چاہیے۔‘
مسلم لیگ کی رہنما نے کہا کہ وہ دن رات نواز شریف کی تیمارداری کے فرائض نبھا رہی ہیں اور وہ بڑی مشکل سے آج عدالت میں پیش ہوئیں۔
اس سے قبل لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی آج کے لیے حاضری سے استثنٰی کی درخواست منظور کر لی۔

مریم نواز نے کہا کہ سیاست پوری زندگی چلتی رہتی ہے لیکن والدین دوبارہ نہیں ملتے۔ فوٹو اے ایف پی

 عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کو چودھری شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کے الزام میں ریفرنس داخل ہونے تک عدالت میں پیشی سے استثنٰی دینے کے معاملے پر فریقین کے وکلا کو بحث کے لیے 22 نومبر کو طلب کیا ہے۔
مریم نواز کے وکیل نے استدعا کی جب تک نیب ریفرنس عدالت میں داخل نہیں کرتا اس وقت تک مریم نواز اور نواز شریف کو عدالت میں حاضری سے استثنٰی دیا جائے. وکیل کے مطابق ریفرنس داخل ہونے تک نواز شریف اور مریم نواز کا عدالت میں پیش ہونا بلاجواز ہے.
خیال رہے کہ گذشتہ برس ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف نے لندن سے آ کر گرفتاری دی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں کی سزا معطل کر دی تھی۔
اس سال آٹھ اگست کو  نیب نے انہیں اور ان کے کزن یوسف عباس کو چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے وقت وہ اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں تھیں۔

مریم نواز نے 24 اکتوبر کو  دوبارہ انسانی بنیادوں پر ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ فوٹو اے ایف پی

بعد ازاں ستمبر کی 25 تاریخ کو احتساب عدالت نے نیب کی طرف سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد انہیں جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے پہلی درخواست 30 ستمبر کو عدالت میں دائر کی تھی۔
تاہم اپنے والد کی علالت کے بعد مریم نواز نے 24 اکتوبر کو  دوبارہ انسانی بنیادوں پر ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے متعدد سماعتوں کے بعد 31 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جسے پیر کو سنایا گیا۔
دوسری طرف چوہدری شوگر مل کیس میں نیب کی زیر حراست نواز شریف کی طبعیت خراب ہونے پر انہیں گذشتہ ماہ سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اس دوران ان کے بھائی شہباز شریف کی درخواست پر پہلے لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کی پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی العزیزیہ کیس میں آٹھ ہفتوں کی ضمانت منظور کی تھی۔
 

شیئر:

متعلقہ خبریں