سعودی جیلوں سے 1594 پاکستانی رہا 

وہ قیدی شامل ہیں جنہیں ولی عہد کی طرف سے اعلان کے تحت رہا کیا گیا۔  فائل فوٹو
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن شازیہ مری کے سوال پر اپنے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران سعودی عرب کے مختلف جیلوں سے 1594 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔
رواں برس فروری میں دورہ پاکستان کے موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان کے وزیراعظم نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو قیدیوں کی رہائی کے لیے درخواست کی تھی۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا تھا مجھے ’سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں۔ فائل فوٹو: ای پی اے

 وزیرخارجہ نے وضاحت نہیں کی کہ کتنے قیدی ولی عہد کے اعلان کے نتیجے میں رہا ہوئے اور کتنے قیدی اپنی سزا کی مدت مکمل ہونے پر رہا ہوئے ہیں۔ 
یاد رہے کہ اس سال فروری میں سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم عمران خان نے تین ہزار پاکستانیوں کی رہائی کی درخواست کی تھی جس کے جواب میں محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ وہ انہیں ’سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں، سعودی عرب پاکستان کو انکار نہیں کر سکتا۔‘
وزیرخارجہ نے اپنے جواب میں قومی اسمبلی کومزید بتایا کہ پاکستان کی بہتر سفارتکاری کے باعث گذشتہ ایک سال کے دوران دنیا کے مختلف ممالک سے 4637 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ سب سے زیادہ 1873 پاکستانی قیدیوں کو متحدہ عرب امارات سے رہائی ملی جبکہ ملائیشیا سے 782 اور لیبیا سے 167 قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔
گذشتہ ایک سال کے دوران انڈیا سے 50 پاکستانی قیدیوں کو رہائی ملی جبکہ قطر سے 53، امریکہ سے 25 اور ایران سے تین اور چین سے چار قیدیوں کو رہائی ملی ہے۔
وزیر خارجہ نے اس تاثر کی نفی کی کہ پاکستان ان قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں بنا سکا جن کے بارے میں مختلف مواقع پر اعلانات کیے گئے تھے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: