ابرار الحق کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن معطل

ابرار الحق کے تقرر کو ہلال احمر پاکستان کے سابق چیئرمین سعید الہی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چلینج کیا۔ فوٹو: فیس بک
اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما اور گلوکار ابرار الحق کا بطور چیئرمین ہلال احمر تعیناتی کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابرار الحق، اٹارنی جنرل، سٹیبلیشمنٹ ڈویژن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک تحریری جواب طلب کیا ہے۔
ابرار الحق کے تقرر کو ہلال احمر پاکستان کے سابق چیئرمین سعید الہی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چلینج کیا تھا۔ درخواست گزار سعید الہی نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کی مدت سنہ 2020 میں پوری ہوگی اور ابرار الحق کے تقرر کا نوٹیفیکیشن غیر قانونی ہے۔ اس کے علاوہ درخواست گزار نے یہ بھی موقف اپنایا کہ ابرار الحق ایک ہسپتال، کالج اور اپنی این جی او  کے لیے فنڈز اکٹھے کرتے ہیں اور ان کا بطور چیئرمین ہلال احمر تقرر مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

 

پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل بھی عدالت میں موجود تھے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ’ہم نے ابھی نوٹس بھی جاری نہیں کیے اور آپ عدالت میں موجود ہیں۔‘
چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا یہ تعیناتی خاص مدت کے لیے ہوتی ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مینیجنگ باڈی نے ہلال احمر کے رولز بنائے ہیں جس کے مطابق چیئرمین کا تقرر تین سال کے لیے ہوتا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ رولز کے مطابق چیئرمین کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ رولز میں چیئرمین کو ہٹانے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔
اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ ایگزیکٹو کے پاس تقرر کا اختیار ہے تو یہ اختیار بھی ہے کہ کسی بھی وقت چیئرمین کو برطرف کر دے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رولز کے ہوتے کیسے چیئرمین کو برطرف کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے آئندہ سماعت تک ابرار الحق کے تقرر کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: