یمنی وزیر اعظم عدن پہنچ گئے

یمنی حکومت اور عبوری کونسل کے درمیان 5 نومبر کو معاہدہ طے پایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
یمن کے وزیراعظم معین عبدالملک ریاض معاہدے کے بعد پیر کو سعودی عرب سے عدن پہنچ گئے۔ ان کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
الشرق الاوسط کے مطابق عدن پہنچنے پروزیراعظم معین عبدالملک نے ٹویٹ کیا کہ ’عدن پہنچ گئے۔ ہمارے سامنے بہت سارے چیلنجز ہیں۔ حکومت ریاض معاہدے پر عمل درآمد کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ تمام قومی فریقوں کے تعاون سے ریاست اور اس کے اداروں کا نیا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔‘

جنوبی یمن کے تمام صوبوں میں سکیورٹی فورسز کی تنظیم نو ہوگی (فوٹو: اے ایف پی)

وزیراعظم ڈاکٹر معین عبدالملک کے ہمراہ ریاض سے ان کے وزرا بھی عدن پہنچے ہیں۔ ان میں وزیر خزانہ، گورنر سینٹرل بینک، وزیر بجلی، وزیر مواصلات و تربیت  اور تعلیم شامل ہیں۔
یمنی وزیراعظم نے واضح کیا کہ ریاض معاہدہ یمن میں امن و استحکام کی جڑیں مضبوط بنانے والا معاہدہ ہے۔ اس کی  بدولت یمن کے ریاستی ادارے اپنا وقار بحال کریں گے اور ملک کی تعمیر نو میں حصہ لیں گے۔
یاد رہے کہ ریاض معاہدہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان 5 نومبر 2019 کو طے پایا تھا۔ اس پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی، ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید اور عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کی موجودگی میں دستخط ہوئے تھے۔

وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر عدن میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

 ریاض معاہدے کے مطابق یمن میں 24 رکنی نئی حکومت تشکیل دی جائے گی۔ یہ ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ اس میں 12 وزیر جنوبی یمن اور 12 شمالی یمن کے ہوں گے۔
 معاہدے کے مطابق جنوبی یمن کے تمام صوبوں میں سکیورٹی فورسز اور فوج کی تنظیم نو ہوگی۔
 

شیئر: