ایران میں مظاہرے، تین سکیورٹی اہلکار قتل

ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں ’بلوائیوں‘ نے تین سکیورٹی اہلکاروں کو چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ’اسنا‘ اور ’فارس‘ نیوز ایجنسیوں نے خبر دی ہے کہ دارالحکومت کے مغربی علاقے میں چھریوں سے لیس حملہ آوروں نے گھات لگا کر حملے میں ایک انقلابی گارڈ اور بسیج ملیشیا کے دو اہلکاروں کو قتل کیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق جمعہ کو پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق قتل کیے گئے ایک سکیورٹی اہلکار کی شناخت مرتضیٰ ابراہیمی کے نام سے ہوئی ہے، جو اسلامی انقلابی گارڈ کی کور کے کمانڈر تھے۔

امریکہ نے ایران میں مظاہرین کے خلاف ’طاقت کے استعمال‘ اور انٹرنیٹ کی بندش کی مذمت کی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی

مارے جانے والے دیگر دو اہلکاروں میں ایک 22 سالہ ماجد شیخی اور دوسرے 33 سالہ مصطفیٰ رضائی ہیں۔ دونوں مقتول اہلکار ریاست کی رضا کار فورس بسیج ملیشیا کا حصہ تھے۔

 

اے ایف پی کے مطابق سرکاری ٹی وی نے کہا ہے کہ مقتول اہلکاروں کی آخری رسومات منگل کو بعد از دوپہر تہران میں ادا کی جائیں گی۔
اتوار کو ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرین اور پولیس کے درمیان چھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا جبکہ حکام نے پرتشدد مظاہروں کے بعد انٹرنیٹ تک شہریوں کی رسائی محدود کر دی تھی۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے مظاہرین کو حکومت کا فیصلہ تسلیم کرنے کے لیے کہا تھا۔
امریکہ نے ایک بیان میں ایران میں مظاہرین کے خلاف ’طاقت کے استعمال‘ اور انٹرنیٹ کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے عوام کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے۔

شیئر: