’اسلام آباد سے ایسے ہی واپس نہیں آئے‘

مولانا فضل الرحمان کے مطابق حکومت کا بیرون ملک 200 ارب ڈالر ہونے کا دعویٰ غلط نکلا، فوٹو: اے ایف پی
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ’ہم اسلام آباد ایسے ہی نہیں گئے اور  نہ ایسے ہی واپس نہیں آئے۔‘
 منگل کو بنوں میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’حکومت کی جڑیں کٹ چکی ہیں، اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔‘
ایسے ملک نہیں چلتے، قوم کو دوبارہ الیکشنز کی طرف جانا پڑے گا

 

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ’ہم ملک میں جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے نکلے ہیں۔‘
حکمران غیر اخلاقی زبان کو سیاست سمجھتے ہیں، ان کے پاس گالیوں کے سوا کچھ نہیں
انہوں نے وزیراعظم کو کردار کے تقابل کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ’آؤ میرے اور اپنے کردار کا مقابلہ کرو، میرے والد اور دادا کا اپنے والد اور دادا کے ساتھ مقابلہ کرو۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ’موٹروے کو پاکستان کی تباہی قرار دینے والوں نے کل نواز شریف کے بنائے گئے موٹروے کا افتتاح کیا۔ ’سب کو چور کہنے والا کسی کو کیا منہ دکھائے گا۔‘
انہوں نے وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان کے بیرون ملک اثاثوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے ایمنسٹی سکیم کے تحت اپنی بہن کو این آر او دیا۔‘
سلائی مشین کی کمائی 70 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے، ایسی مشین کوئی ہمیں بھی دے دے تاکہ ہم بھی 70 ارب روپے حاصل کر لیں۔‘

مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ موٹروے کو تباہی قرار دینے والوں نے موٹروے کا افتتاح کیا، فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ ’یہ کہتے تھے کہ پاکستان کے 200 ارب ڈالر بیرون ملک بینکوں میں پڑے ہیں جبکہ چیئرمین ایف بی آر کا کہنا کہ کوئی پیسے باہر نہیں پڑے۔ ہم چوری کے ووٹ سے آنے والوں کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت کے پاس کوئی منصوبہ ہے نہ نظریہ۔‘
جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ’یہ پہلے مدارس کے بچوں کو شدت پسند کہتے تھے، دھرنے پر کہنا شروع کیا کہ اس میں مدارس کے معصوم بچے آئے ہیں، چلو ان سے طلبہ کو معصوم تو منوا لیا۔‘
’حکومت نے دس سالہ قرضوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جس کی رپورٹ کے مطابق ایک پیسے کی خرد برد نہیں ہوئی، حکومت کو جانا ہو گا، یہ عوام کا راستہ نہیں روک سکتی۔‘
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پیر کو حویلیاں میں موٹروے سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدارس کے طلبہ کو شدت پسند کہنے والوں نے انہیں معصوم قرار دیا، فوٹو: اے ایف پی

 ان کا کہنا تھا کہ ’ایک شخص اسلام کے نام پر سیاست کر رہا ہے، ڈیزل کے پرمٹ پر بکنے والا، کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ پر بکنے والا حکومت گرانے کی باتیں کر رہا ہے۔‘
عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’حالیہ دھرنے کا مقصد انہیں بلیک میل کرنا تھا تاکہ وہ دباؤ ڈال کر اپنے مقدمات ختم کرا لیں۔‘
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ 'ان کے لیے سب سے مشکل گھڑی وہ تھی جب بارش میں مدرسے کے بچے باہر اور مولانا فضل الرحمان اپنے گھر کے گرم کمرے میں بیٹھے تھے'۔
ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے پہلے کہہ دیا تھا کہ سب کرپٹ افراد اپنے مفادات کی خاطر اکٹھے ہو جائیں گے اور ان لوگوں نے کنٹینر پر چڑھ کر ثابت کیا کہ ان کے اور پاکستان کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔‘

شیئر: