مظاہروں نے ایرانی نظام کو ہلا دیا

عوامی غیض و غضب پٹرول کے نرخ بڑھانے پر شدت اختیار کرگیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیاپر جتنے نظر آرہے ہیں حقیقت میں ان سے کہیں زیادہ شدید ہیں۔ نظر اس لیے نہیں آ رہے ہیں کیونکہ ایرانی حکمران انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عائد کیے ہوئے ہیں۔ یہ ایران میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
 احتجاجی مظاہروں کا دائرہ سو شہروں تک پھیل گیا ہے۔ 
مظاہروں کا دائرہ پٹرول کے نرخ بڑھانے پر احتجاج سے کہیں آگے ایرانی نظام اور اس کی قانونی حیثیت کو چھونے لگا ہے۔
مظاہروں کے نتائج کیا ہوں گے۔ ایرانی نظام کا انجام کیا ہوگا؟ اس پر گفتگو سے پہلے بہتر ہوگا کہ ایران میں مظاہروں کا مکمل منظر نامہ قارئین کے سامنے رکھ دیا جائے۔
ان دنوں جو مظاہرے ہو رہے ہیں وہ تیسری بار ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں نے ایرانی نظام کو ہلا ڈالا ہے۔
مظاہروں کی پہلی لہر 2009 میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت مظاہرین تہران کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ قیادت خود ایرانی نظام کے دو رہنما موسوی اور کروبی کررہے تھے۔ یہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی دھاندلی کے خلاف آواز بلند کررہے تھے۔ مظاہروں کی پہلی لہر نے اقتدار کے ایوانوں میں موجود کشمکش سے دنیا کو آگاہ کیا تھا۔ مظاہروں کی اس لہر نے ایرانی قیادت اور پیروکاروں کے تعلقات کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی تھی۔
مظاہروں کی دوسری لہر 2016 اور 2017 میں ابھری تھی۔ یہ مظاہرے اشیائے صرف کے نرخ بڑھانے اور خدمات کا معیار بگڑنے پر ہوئے۔ مظاہرے تہران کے باہر دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی ہوئے۔ ایران کے مختلف علاقوں میں پچاس شہر مظاہروں کی گرفت میں آ گئے تھے۔

تہران اور ملک کے دیگر بڑے شہروں کی مڈل کلاس بھی مظاہروں کا حصہ ہے۔ فائل فوٹو

دوسری بار ہونے والے مظاہروں کا اہم پہلو یہ تھا کہ اس میں ایسے لوگ پیش پیش تھے جو پہلی بار ایران میں ہونے والے مظاہروں کا حصہ نہیں تھے۔ اس بار اساتذہ، مزدور، ٹرکوں کے ڈرائیور اور ان جیسے دیگر لوگ احتجاج کررہے تھے۔
مظاہروں کی تیسری لہر جو ان دنوں چل رہی ہے سابقہ دونوں مظاہروں کی لہروں سے کہیں زیادہ وسیع اور کہیں زیادہ بڑی ہے۔ ان میں ایران کے تقریباً تمام طبقے شامل ہیں۔  تہران اور ملک کے دیگر بڑے شہروں کی مڈل کلاس بھی ان مظاہروں کا حصہ ہے۔
اسی پہلو کے پیش نظر ایران کے حکمران سابقہ مظاہروں کی دونوں لہروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی اور زیادہ شدت کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔
 اجتماعات اور وڈیو کلپس کی تقسیم کو روکنے کے لیے سماجی رابطوں کے ذرائع پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کے باوجود مظاہرے جاری ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کا محرک عوامی غصہ ہے اشتعال انگیزی نہیں۔ ایرانی حکمراں اسے اشتعال انگیزی کا غلط نام دے رہے ہیں۔ عوامی غیض و غضب پٹرول کے نرخ بڑھانے پر زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ غصے کا باعث پٹرول کے نرخوں میں اضافے سے ہٹ کر اور بہت کچھ ہے۔

ان مظاہروں میں ملکی املاک کو نقصان پہنچایا گیا (فوٹو:اے ایف پی)

میں نہیں سمجھتا کہ ایران کے حکمرانوں کے لیے عوامی ردعمل ناگہانی تھا۔ دلیل یہ ہے کہ ایرانی حکمرانوں نے پٹرول کے بڑھائے ہوئے نرخ برقرار رکھنے کا متفقہ فیصلہ کیا اور بڑی تیزی کے ساتھ کیا۔ ایران کے بڑے مذہبی پیشوا نے کہا کہ تیل کے نرخوں کے خلاف احتجاج وطن سے غداری ہے۔ یہی بات ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی دہرائی۔ ہوسکتا ہے کہ وہ آگے چل کر قربانی کا بکرا بن جائیں۔
 ایرانی نظام حکومت ایک طرف تو امریکہ کی سخت اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے الگ تھلگ ہوکر رہ گیا ہے۔ اب اس کے پاس اقتدار میں رہنے کے لیے طاقت کے استعمال کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ ایران کے حکمراں عوام کو مطلوبہ خدمات ، ملازمتوں اور سبسڈی والی اشیاءسے پہلے ہی محروم کر چکے ہیں۔
ایران سے باہر آنے والی تصاویر ظاہر کر رہی ہیں کہ اس مرتبہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان محاذ آرائی مظاہروں کی سابقہ لہروں سے کہیں زیادہ سخت ہے۔
میرے خیال میں مظاہروں کی یہ لہر ایرانی نظام حکومت کی بیخ کنی نہیں کرسکے گی۔ وجہ ظاہر ہے کہ حکمران ہیں، جو کام وہ شام میں حکومت کی بقاء کے لیے کرچکے ہیں وہی وہ اپنے یہاں بھی دہرائیں گے۔ البتہ یہ بھی سچ ہے کہ عوامی غصہ اور احتجاجی مظاہرے ایرانی نظام کے ستونوں کو تہہ و بالا کر دیں گے۔ اگر ایران کے ریاستی ادارے مظاہرین کے غیض و غضب سے بچ بھی گئے تو کمزور ضرور ہو جائیں گے۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: