’گوگل اور فیس بک مفت مگر ایک خاص قیمت وصول کرتے ہیں‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گوگل اور فیس بک صارفین کو سودے بازی پر مجبور کرتے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ گوگل اور فیس بک کا صارفین کا ڈیٹا حاصل کر کے کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنا دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ لوگوں کو مفت آن لائن سروسز دے کر ان کے کوائف کو استعمال کرکے اشتہارات کے ذریعے رقم کمانا ان کے حقوق خاص طور پر اظہار اور رائے کی آزادی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
ایمنسٹی نے کہا ہے کہ ’باوجود اس کے کہ گوگل اور فیس بک اپنی خدمات مفت فراہم کرتے ہیں یہ پلیٹ فارم ایک مخصوص قیمت وصول کرتے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق ’ان کمپنیوں کا نگرانی کے نظام پر مبنی کاروباری ماڈل لوگوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک خاص سودے بازی کریں جس میں وہ آن لائن اپنے انسانی حقوق ایک ایسے نظام کے حوالے کرتے ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔‘
صارفین کے آن لائن ڈیٹا کی حفاظت اس وقت دنیا میں ایک اہم موضوع ہے۔ امریکہ اور یورپ میں اس بارے میں سماجی اور سرکاری سطح پر بحث جاری ہے کہ آن لائن ڈیٹا یا صارفین کے کوائف کو کاروباری یا سیاسی مقاصد کے استعمال کیے جانے سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔

شیئر: