خواتین سائبر کرائم سے کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں؟

سائبر دنیا میں خود کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ فائل فوٹو: پکسابے
اب ٹیکنالوجی کا دور ہے اور تقریباً ہر چیز سمٹ کر موبائل، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ میں سما گئی ہے۔ جہاں ان تمام تبدیلیوں کا مثبت استعمال ہورہا ہے وہیں کچھ لوگ اس کا منفی اور مجرمانہ استعمال کر کے دوسروں کی زندگی اجیرن بنا رہے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہوتی ہیں۔ سائبر سپیس ان کے لیے جہاں فائدہ مند ہے وہاں پرخطرہ بھی ہے۔ خواتین کو صرف سوشل میڈیا پر ہی نہیں عام زندگی میں بھی لوگ متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت سی خواتین اس صورتحال کا سامنا بہادری سے کرتی ہیں لیکن کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ نجی معلومات افشا ہونے پر خوفزدہ ہوکر خود کشی تک کر لیتی ہیں۔
 اس لیے آپ کے سرکل میں جو خواتین سائبر کرائم کی زد میں آئیں آپ فوری طور پر ان کی مدد کریں۔ مختلف طریقے اپنا کر خواتین خود کو، اپنے ڈیٹا اور تصاویر وغیرہ کو سوشل میڈیا اور عام زندگی میں محفوظ رکھ سکتی ہیں۔

 

 باتھ روم، بیڈ روم یا اپنے نجی وقت کی غیر ضروری تصاویر نہ لیں۔ نجی تقریب کی تصاویر پبلک نہ کریں نا ہی اس کے البم میں سب کو ٹیگ کریں کیونکہ اگر کسی ایک بھی فرینڈ کی ٹیگ سیٹنگز پبلک ہیں تو تصاویر تمام فیس بک صارفین کو نظر آنا شروع ہو جائیں گی۔ فیس بک یا واٹس ایپ پر گروپ بنا کر تصاویر شیئر کریں۔
ڈی پی اپ لوڈ کرتے وقت اس پر اپنا نام لکھ دیں تا کہ یہ دوسرے کی استعمال میں نہ آسکیں۔ خواتین کی تصاویر فوٹوگرافرز کے فیس بک اور انسٹاگرام پیجز سے چوری کی جاتی ہیں تقریبات میں انہیں منع کر دیں کہ آپ کی تصاویر اپ لوڈ نہ کی جائیں۔ اپنی تصاویر صرف فرینڈز کی پرائیویسی سیٹنگز پر رکھیں۔ انسٹاگرام پر اکاؤنٹ پرائیوٹ کردیں لیکن ٹوئٹر کے لیے مدنظر رکھیں کہ وہاں یہ سہولت میسر نہیں اس لیے وہاں تصاویر اور پوسٹس سب پبلک ہوتی ہیں۔
اگر کوئی آپ سے غیر مناسب تصاویر یا ویڈیو کا مطالبہ کرے تو سمجھ جائیں کہ وہ آپ کے ساتھ سنجیدہ نہیں۔ کوئی بھی مرد اگر عورت کا احترام کرتا ہے تو وہ اس سے ایسا مطالبہ نہیں کرے گا۔ اگر ایسا مواد موجود ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کو ڈیلیٹ کرنے کے باوجود ڈیٹا دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ویب کیم پر غیر مناسب حلیے میں چیٹ نا کریں۔ اپنی تصاویر گوگل فوٹو اور آئی کلاؤڈز وغیرہ کے ساتھ سنک نہ کریں بلکہ انہیں پاس ورڈ لاک ڈرائیو یا لیپ ٹاپ میں محفوظ رکھیں۔
اپنی حفاظت کی ذمہ داری اور دوسروں کی پرائیویسی سب سے پہلے خود آپ پر عائد ہوتی ہے۔ اپنے فون کو تین طرح سے لاک کریں۔ ہندسوں والا پاسورڈ، انگوٹھے سے بائیو میٹرک اور چہرہ کی شناخت والا پاس ورڈ لگا کر اسے محفوظ کریں تا کہ کوئی بھی آپ کا نجی ڈیٹا حاصل نہ کر سکے۔ اگر نیا فون لے رہے ہوں تو پرانے فون میں سے سم اور میموری کارڈ نکال لیں اور اپنا سابقہ فون فروخت کرنے کے بجائے اپنے چھوٹے بہن بھائی یا بچوں کو دے دیں۔ ایسا کرنے سے پہلے فون کو فیکٹری سیٹنگ پر کردیں۔ یہ عمل دو تین بار دہرائیں۔
اگر فون کو بیچنا ہے تو اپنا ڈیٹا ڈیلیٹ کریں، فون کو فیکٹری سیٹنگ پر لے جائیں اور گوگل اکاؤنٹ یا آئی کلاؤڈ لاگ آوٹ کرکے ڈیلیٹ کردیں۔ اس میں دوبارہ ویڈیوز وغیرہ ڈاؤن لوڈ کریں جب میموری فل ہو جائے تو اسے پلے کریں پھر ڈیلیٹ کرکے فون کو دوبارہ فیکٹری سیٹنگ پر لے جائیں۔ اس عمل کو دہرائیں۔ اس سے امکان ہے آپ کا ڈیٹا محفوظ رہے گا۔ تاہم گھر کی خواتین کے فون نہ بیچے جائیں ان کو توڑ دیں تو اچھا ہے۔
اگر آپ کا فون گم جائے تو فائنڈ مائی ڈیوائس آپشن سے آپ سارا ڈیٹا ڈیلیٹ کر سکتے ہیں، پولیس کو اطلاع کریں، آئی ایم ای ائی نمبر سے وہ فون تلاش کر سکتے ہیں۔ اپنے تمام اکاؤنٹس کے پاس ورڈ احتیاطاً بدل دیں۔

جی میل پر ای میل اکاؤنٹ بناتے وقت اس کو فون سے منسلک کر دیں۔ فوٹو سوشل میڈیا

جی میل پر ای میل اکاؤنٹ بناتے وقت اس کو فون سے منسلک کر دیں۔ اگر کوئی آپ کا اکاؤنٹ کہیں اور سے اوپن کرنے کی کوشش کرے گا تو آپ کے فون پر کوڈ آ جائے گا۔ وہ کوڈ کسی کو نہ بتایں اور جی میل کو بتائیں کہ یہ آپ نہیں ہیکر ہے۔ اسی طرح فیس بک اور ٹوئٹر بھی اپنے فون نمبر سے منسلک کردیں۔ اپنے سارے پاس ورڈز، ای میل، ان کے ساتھ منسلک فون اور متبادل ای میل ایک جگہ پر لکھ کر رکھ لیں لیکن یہ بات کسی شخص کے علم میں نہ ہو کیونکہ کچھ بار انسان خود بھی ای میل اور پاس ورڈ بھول سکتا ہے۔
یاد رکھیں ویب کیم، فون، لیپ ٹاپ، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور واٹس ایپ ہیک کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے استعمال کا فون اور لیپ ٹاپ کسی شخص کو نہ دیں۔ اپنی ای بینکنگ کو بھی محفوظ بنائیں۔ جو پاس ورڈ اور لاگ ان بینک آپ کے لیے جنریٹ کرے اس کو بعد میں تبدیل کر لیں۔ کسی بھی فرد کو اپنا پاس ورڈ اور ای میل نہ بتائیں۔ ہر چند ماہ بعد پاس ورڈ تبدیل کریں اور اپنی ای بینکنگ پر نظر رکھیں رقم میں بلاوجہ کمی ہونے کی صورت میں بینک کو مطلع کریں۔
اپنا اے ٹی ایم کسی کو نہ دیں اگر کبھی آپ کو یہ شک ہو کہ آپ کے کارڈ سے رقم کم ہوئی ہے تو بینک فون کر کے کارڈ کو کچھ دیر کے لیے معطل کرائیں اور پاس ورڈ تبدیل کرلیں۔ اے ٹی ایم پن بھی ہر چھ ماہ بعد تبدیل کرلیں تو بہتر ہے۔ شاپنگ کرتے وقت اگر دوکاندار بار بار آپ کا کارڈ چارج کرے تو بینک فون کرکے پوچھیں کہ ڈبل رقم تو چارج نہیں ہوئی۔ ہمیشہ دکان دار سے بل کی ڈیمانڈ کریں۔ بینک سے سروس حاصل کریں کہ جب بھی آپ کے اکاؤنٹ سے رقم خرچ ہو یا رقم وصول ہو تو آپ کے فون پر ایس ایم ایس آئے۔
لوگوں سے سوشل میڈیا پر غیرضروری دوستی اور ان باکس چیٹ سے پرہیز کریں۔ کچھ افراد پہلے خواتین کو دیکھ کر بہت ہمدردی جتاتے ہیں بعد میں  چیٹ کے سکرین شاٹ لے کر بلیک میل کرکے ملنے کا مطالبہ کرتے ہیں یا رقم مانگتے ہیں، ایسی صورت میں فوری طور پر گھر والوں اور پولیس سے مدد لی جائے۔ جس وقت آپ کا لیپ ٹاپ، ٹیب اور فون استعمال میں نہ ہو اس کا رابطہ انٹرنیٹ سے کاٹ دیں۔ اپنا ویب کیم کبھی کھلا نہ چھوڑیں۔ چیک ان، جی ٹیگ اور لائیو لوکیشن پبلک سے شیئر کرنے سے گریز کریں۔ مہنگی خریداری کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ نہ کریں۔ سوشل میڈیا کے دوستوں کے ساتھ نجی مسائل زیر بحث نہ لائیں اور ان سے کبھی اکیلے نا ملیں۔

 

ہر ڈیوائس میں اینٹی وائرس انسٹال کریں اور غیر مناسب ویب ہرگز بھی نہ کھو لیں۔ کچھ پیغامات آتے ہیں کہ لنک پر کلک کریں آپ کی غیر مناسب تصاویر یہاں موجود ہیں یا آپ کو فری گفٹس ملیں گے ان لنکس پر کبھی کلک نہ کریں یہ سپیم، سپائی ویئر اور وائرس ہوتے ہیں۔ یہ اکاؤنٹ ہیک کر لیتے ہیں، کبھی غلطی سے ایسا ہو جائے تو اپنا اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کر دیں، لاگ آؤٹ کر کے تھوڑی دیر بعد لاگ ان کریں یا انٹرنیٹ بند کر دیں۔ کوئی بھی انجان شخص آپ کے ساتھ گالی گلوچ کرے یا غیر مہذب پیغام ان باکس/ڈی ایم کرے تو اسے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر کو رپورٹ کر کے بلاک کر دیں۔ گروپس میں غیرضروری لوگوں کے ساتھ بحث نہ کریں۔
آن لائن خریداری میں بھی محتاط رہیں صرف بڑے برینڈز کے پیجز نسبتا محفوظ ہیں۔ خریداری کے وقت رقم کی ادائیگی کیش آن ڈیلیوری کے ذریعے کرنا بہتر ہے، غیر ضروری کریڈٹ کارڈ کا استعمال آن لائن نہ کریں۔ انسٹاگرام اور فیس بک پر تمام سٹورز قابل اعتبار نہیں، خریداری سے پہلے ریویوز ضرور دیکھ لیں۔ جو آاپ سے پہلے رقم کا مطالبہ کرے اس آن لائن سٹور سے خریداری نہ کریں۔ گھر میں موجود پرنٹر، اسکینرز صرف استعمال کے وقت آن کریں۔ گھر کے وائی فائی پر پاس ورڈ لگائیں۔ اپنا ای میل، فیس بک اور ای بینکنگ کبھی بھی نیٹ کیفے، کسی اور لیپ ٹاپ یا آفس میں نا کھولیں۔
اگر پبلک لائف میں ہیں تو سوشل میڈیا پر فیس بک اکاؤنٹ پر فیملی کو ایڈ کریں اور فیس بک پیج پر فینز کو انگینج کریں۔ اگر کوئی آپ کی تصویر کے ساتھ انسٹا گرام، فیس بک یا ٹوئٹر پر فیک اکاؤنٹ چلا رہا ہے تو محتاط رہیں۔ ایسے معاملے میں آپ خود اور اپنے اہل خانہ یا احباب کے ساتھ مل کر اس اکاؤنٹ کو متعلقہ فورم پر رپورٹ کریں تا کہ وہ ڈی ایکٹو کیا جا سکے، اپنے اصل اکاؤنٹ سے اعلان بھی کر دیں کہ آپ کا کوئی اور اکاؤنٹ نہیں ہے۔ کسی کی جانب سے اپنا جعلی اکاؤنٹ چلتا دیکھ کر آپ سائبر کرائم ونگ جیسے اداروں کو بھی شکایت کر سکتے ہیں۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں/فیچرز اور بلاگز کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: