پوپ فرانسس کو تھائی لینڈ میں کیا اچھا نہیں لگا؟

تھائی لینڈ کی حکومت ملک کے منفی تاثر سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے، فوٹو: روئٹرز
تھائی لینڈ کا نام سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلا خیال سیاحت کا آتا ہے اور کیوں نہ آئے۔ ہر سال یہ ملک دو کروڑ سے زائد سیاحوں کی میزبانی کرتا ہے لیکن اپنے ساحلوں اور مندروں کی خوبصورتی کے علاوہ تھائی لینڈ ایک اور چیز کے لیے بھی مشہور ہے اور جس سے وہاں کی حکومت چھٹکارا بھی پانا چاہتی ہے، وہ ہے جسم فروشی۔
اس ملک کے اسی پہلو کی مذمت کرتے ہوئے جمعرات کو کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے تھائی لینڈ کے دورے کے دوران کہا کہ ’وہاں عورتوں اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی، ان کی غلامی اور جسم فروشی ایسی برائیاں ہیں جنہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔‘
اپنے دورے کے دوران پوپ نے سیاست دانوں اور سفارت کاروں سے وزیراعظم کے دفتر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بھی ان سب عورتوں اور بچوں کے بارے میں سوچتے ہیں جن کو استحصال اور بدسلوکی کی ہر قسم سے گزارا جاتا ہے۔‘

پوپ فرانسس نے تھائی لینڈ میں جسم فروشی کے کاروبار کی مذمت کی، فوٹو: روئٹرز

تھائی لینڈ کی حکومت نے ملک کو اس ساکھ سے چھٹکارا دلانے کی کوششیں کی ہیں۔ دارالحکومت بینکاک میں بھی کئی بار مساج پارلرز اور ایسے بارز پر کریک ڈاؤن کیا گیا لیکن اب تک جسم فروشی کا کاروبار تھائی لینڈ میں کم نہیں ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایڈز کی 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق ’تھائی لینڈ میں قریباً ایک لاکھ 23 ہزار 530 افراد جسم فروشی کے کاروبار کا حصہ ہیں۔‘
تاہم پوپ نے تھائی حکومت کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ’ہر اس شخص اور ادارے کا کام قابل تعریف ہے جو ملک سے ان برائیوں کو ختم کرنے کا کام کر رہے ہیں اور اس کا شکار افراد کی مدد کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔‘
پوپ نے تھائی لینڈ میں مہاجروں کی حالت کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ ’انہیں اپنا ملک بھی چھوڑنا پڑتا ہے اور اس کے بعد دیگر مشکلات سے بھی دو چار ہوتے ہیں۔‘
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: