Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایرانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے سینکڑوں ہلاک‘

ایران میں تیل کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافے پر ملک گیر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ فوٹو روئٹرز
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں کے دوران 143 شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے بیشتر ایران سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ’معتبر اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 143 ہے۔‘
’تمام ہلاکتیں اسلحے کے استعمال کی وجہ سے ہوئیں۔‘
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چند ہلاکتیں آنسو گیس کی شیلنگ اور سکیورٹی فورسز کے مظاہرین پر تشدد کی وجہ سے بھی ہوئیں۔
واضح رہے کہ ایران میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف 15 نومبر سے ملک گیر احتجاج جاری ہے۔ ایرانی حکومت نے اچانک تیل کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔ حکومتی اعلان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ تصدیق شدہ ویڈیوز سے واضح ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کر غیر مسلح مظاہرین کو قریب سے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ جب کہ کچھ کیسز میں مظاہرین پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ احتجاجی ریلی سے بھاگ رہے تھے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی طاقتوں سے مظاہرین پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے اور ایرانی حکومت کے اقدام کی مذمت کرنے کو کہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ہلاکتیں سیکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ کی وجہ سے ہوئیں۔ فوٹو اے ایف پی

ایمنسٹی کے اعلیٰ افسر فلپ لوتھر کا کہنا تھا کہ مظاہرین کی غیر قانونی ہلاکتوں پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی اور محتاط رد عمل افسوسناک ہے۔
پیر کو ایران کے دارالحکومت تہران میں حکومت حمایتی مظاہرے بھی ہوئے جن سے اسلامی پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے خطاب کرتے ہوئے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کو مظاہرین کی پشت پناہی کرنے کا الزام لگایا۔
ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ بیرونی قوتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے احتجاج میں شدت آئی۔  
حمایتی ریلی میں شرکت کرنے والے شہریوں نے امریکہ مخالف نعرے بازی کی اور ایران کی معاشی بدحالی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

حکومت کے ہمایتیوں نے بھی تہران میں ریلی نکالی اور معاشی بدحالی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا۔ فوٹو اے ایف پی

گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کے 2015 کے ایرانی جوہری معاہدے سے لاتعلقی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی، جس کے بعد امریکہ نے ایران پر مزید معاشی پابندیاں لگا دی تھیں۔
یکم نومبر کو امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب سے جڑے تعمیراتی شعبے پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کے مطابق ایران پر پابندیاں اس کے جوہری پروگرام کی نگرانی، اس کے پھیلاؤ سے بچاؤ، اور ایران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول میں رکاوٹ بنیں گی۔

شیئر: