’پاکستان کے حالات بالکل ٹھیک ہیں‘

اعصام الحق کا کہنا ہے کہ ابھی وہ مزید کچھ برس پاکستان کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ٹینس کھلاڑی اعصام الحق کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے یہ بالکل نہیں کہا کہ وہ انڈیا جا کر نہیں کھیل رہے، بات یہ ہے کہ پاکستان میں بھی ڈیوس کپ ٹائی ہونا تھی، انڈین کھلاڑیوں نے پاکستان آنا تھا 29 یا 30 نومبر کو، تو انہوں نے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی ٹی ایف) کو اپیل کی کہ وہ پاکستان نہیں آ سکتے کیونکہ انہیں پاکستان کے سکیورٹی کے انتظامات پر بھروسہ نہیں ہے۔‘
انڈین کھلاڑیوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف یہ میچز کسی نیوٹرل مقام پر کھیلنا چاہتے ہیں تو میں نے اس کے خلاف سٹینڈ لیا کہ ’اگر تو یہ میچز کسی نیوٹرل مقام پر ہوتے ہیں تو میں نہیں کھیلوں گا۔‘
اعصام الحق نے اردو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرے حساب سے پاکستان کے حالات بالکل ٹھیک ہیں، اگر کرتارپور میں ہر روز سینکڑوں انڈینز آ رہے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرکے واپس جا رہے ہیں تو مجھے کوئی سمجھ نہیں آرہی کہ انڈیا کی پانچ رکنی ٹیم پاکستان آ کر کیوں نہیں کھیل سکتی؟

پاکستانی ٹینس سٹار سمجھتے ہیں کہ ڈیوس کپ ٹائی پاکستان سے منتقل کرنا غلط فیصلہ تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ ’ابھی گذشتہ ماہ ہی برطانوی رائل فیملی پاکستان آئی تھی، انٹرنیشنل میچز پاکستان میں ہوتے ہیں۔ ابھی نیشنل گیمز پاکستان میں بہت ہی اطمینان کے ساتھ پشاور میں ہوئے ہیں، تو مجھے کوئی ایسی وجہ سمجھ نہیں آرہی کہ کیوں انڈین ٹیم پاکستان کھیلنے نہیں آئی؟‘
انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے یہ انڈین حکومت ہی ہے جو سارے غلط اقدامات کر رہی ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ اگر انڈین کھلاڑی ان اقدامات کے ردِعمل کے خوف سے یہاں نہیں آئے کہ تو اس کی سزا ہمیں نہیں ملنا چاہیے تھی۔‘
’میں نے اس ساری صورت حال کے خلاف سٹینڈ لیا جیسا کہ میں اپنے ملک سے بہت محبت کرتا ہوں، اسی کے لیے ساری دنیا میں کھیلتا ہوں۔ یہ ایک ایسا وقت تھا کہ مجھے لگا کہ کسی کو تو آئی ٹی ایف اور انڈین حکومت کے اس تعصب پر مبنی فیصلے کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔‘

 

’اس ٹائی کا پاکستان سے باہر نیوٹرل مقام (قازقستان) پر منتقل ہونا پاکستان کے خلاف بہت ہی غلط فیصلہ تھا۔‘
اعصام الحق کا مزید کہنا تھا کہ’ 2019 میں انہوں نے جو اہداف مقرر کیے تھے بدقسمتی سے وہ سارے تو حاصل نہیں کر سکے، لیکن وہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ان کے لیے 2018 سے یہ سال کافی بہتر رہا ہے۔‘
’سنہ 2018 میرے کیرئیر کا ایسا سال تھا جس میں کوئی بھی بین الاقوامی ٹائٹل نہیں جیت سکا۔ رواں سال میں نے تین ٹائٹلز جیتے ہیں حالانکہ میں زخمی بھی رہا ہوں، لیکن میں پریشان نہیں ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ ہار جیت زندگی کا حصہ ہے۔‘
اعصام الحق نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرا ابھی مزید کچھ سال کھیلنے کا ارادہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مجھ میں ابھی مزید ٹینس کھیلنے کی صلاحیت ہے اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا۔‘
’مجھے لگتا ہے کہ ٹینس کے میدان میں مجھے ابھی مزید بہت کچھ حاصل کرنا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک کھیل رہا ہوں، اللہ مجھے مزید حوصلہ اور ہمت دے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے کھیل کے ذریعے امن کے پراجیکٹس کرتا رہتا ہوں ۔ابھی انڈیا اور پاکستان کے حالات اتنے اچھے تو نہیں ہیں لیکن بطور امن کا سفیر میں انڈین کھلاڑیوں ،انڈین ٹینس ایسوسی ایشن سے درخواست کرتا رہتا ہوں کہ پاکستان آ کر کھیلیں۔‘

اعصام کا کہنا ہے کہ وہ انڈین کھلاڑیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ پاکستان آ کر کھیلیں۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کے ٹینس سٹار نے کہا کہ انہوں نے ٹینس اکیڈمی بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے لیے انہیں حکومت کی سپورٹ چاہیے۔ ’گذشتہ حکومت کے نمائندوں سے میری دو بار ملاقات ہوئی تھی لیکن مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا اور یہی وجہ ہے کہ میں ابھی تک اکیڈمی نہیں بنا سکا۔ اب مجھے امید ہے کہ نئی حکومت کے آنے سے اکیڈمی کے معاملات آگے بڑھیں گے اور اس کھیل کو مزید اعصام الحق اور عقیل خان ملیں گے۔‘
کرکٹ کے علاوہ کوئی اور کھیل پاکستان میں کیوں مقبول نہیں ہو سکا؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’کرکٹ واحد ایسا کھیل ہے جس سے حکومت پیسہ کماتی ہے اس لیے اس کو ہر وقت پروموٹ بھی کیا جاتا ہے لیکن حکومتوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جتنا ہم باقی کھیلوں کو پروموٹ کریں گے اور دوسری گیمز کے میچز پاکستان میں کروائیں گے تو پاکستان دوسری کھیلوں سے بھی پیسہ بنانا شروع کر دے گا۔‘

اعصام الحق کہتے ہیں کہ انہیں ٹینس اکیڈمی قائم کرنے کے لیے حکومت کے تعاون کی ضرورت ہے۔ فوٹو: ٹوئٹر

’ہمیں تمام کھیلوں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی بالکل بھی کمی نہیں ہے۔ یہ نئی حکومت کھیلوں کے معاملے میں صورت حال کو شاید تبدیل کر سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گراس روٹ لیول پر  ٹینس کو پروموٹ کیا جانا چاہیے۔‘
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ سپورٹس میں ڈرگ کا استعمال بہت زیادہ ہونا شروع ہوگیا ہے لیکن ابھی بھی ٹینس میں اس حوالے سے کافی سختی ہے، ہمارے سارا سال باقاعدہ چیک اپس ہوتے رہتے ہیں، سارے قانون اور ضابطے موجود ہیں ان کے مطابق ہی ساری چیزیں کھاتا پیتا ہوں۔‘
’آئی ٹی ایف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت محنت کرتی ہے کہ ٹینس میں ڈرگ کا استعمال نہ ہو۔‘

شیئر: