لبنان میں بیٹی کی فرمائش نے والد کی جان لے لی 

قرض اتنا چڑھ چکا تھا کہ بیٹی کی معمولی فرمائش بھی پوری نہ کرسکا۔ فوٹو: عاجل نیوز
 غربت و افلاس سے مجبور ہو کر لبنانی شخص نے خودکشی کر لی۔ بیٹی نے فرمائش کی تھی کہ اسے پیزا کھانا ہے مگر مفلس والد اس کی فرمائش پوری نہ کر سکا۔ خالی ہاتھ بیٹی کا سامنا کرنے سے  دلبراشتہ ہو کر گلے میں پھندا لگا کر جان دے دی۔
عاجل نیوز نے لبنانی میڈیا کے حوالے سے لکھا ہے کہ لبنانی دارالحکومت سے 122 کلومیٹر مسافت پر عرسال قصبے میں رہنے والا ناجی نامی شہری کافی عرصے سے بے روزگار تھا۔
محلے کی دکانوں سے قرض لیکر اپنے گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا کرتا تھا۔ ناجی کو دکانداروں نے قرض دینا بند کر دیا تھا کیونکہ اس پر تقریباً سات لاکھ لبنانی لیرا (تقریباً 460 امریکی ڈالر) قرض چڑھ چکا تھا جسے ادا کرنا اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔

بیٹی نے پیزا کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ فوٹو: لبنان ڈاٹ کوم

لبنانی میڈیا کے مطابق قرض کی کثیر رقم نے ناجی کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو منجمد کر دیا تھا۔
گھر کے اخراجات کسی طرح سے پورا کرنے کے لیے ہر کوشش کر کے دیکھ لی مگر کوئی وسیلہ نہ بن سکا۔
ناجی کی چھوٹی  بیٹی جس سے وہ بے حد پیار کرتا تھا، نے ’منقوشہ زعتر‘ ( لبنانی پیزا) کھانے کی فرمائش کی جسے پورا کرنے کے لیے وہ محلے کی کئی دکانوں پر گیا مگر ہر جگہ سے اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ناجی کو کہیں سے پیزا نہ ملا جس کی قیمت آدھا ڈالر تھی۔
بیٹی پیزا کھانے کے انتظار میں تھی وہ اس حقیقت سے غافل تھی کہ اسکا مجبور و بے بس والد اس کی فرمائش پوری نہیں کر سکتا۔ ناجی اپنی کم سن بیٹی کی فرمائش کو پورا کرنے کے لیے قصبے کی تمام دکانوں پر گیا مگر ہر دکاندار نے اس سے سابقہ قرض کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے  مزید رقم دینے سے منع کر دیا۔
مجبور و بے بس والد خالی ہاتھ گھرجانا نہیں چاہتا تھا مگر کوئی اسے آدھا ڈالر تک دینے کا روا  دار نہ تھا کہ وہ اس سے اپنی بیٹی کی فرمائش پوری کر سکے۔
ہر طرف سے ناکام لوٹنے کے بعد ناجی نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کا سامنا نہیں کرے گا۔ گھر کے عقبی حصے میں آ کر ناجی نے ایک درخت سے رسی باندھ کر خود کو لٹکا لیا۔ 

شیئر: