میجر لاریب کے قتل کے الزام میں دو افغان شہری گرفتار

اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول فوجی افسر میجر لاریب حسن کے قاتلوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعہ سٹریٹ کرائم کی ایک واردات تھی۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے  انسپکٹر جنرل پولیس عامر ذوالفقار نے بتایا کہ ’میجر لاریب قتل کیس میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن کا تعلق افغانستان سے ہے۔‘
ایس ایس جی کمانڈو میجر لاریب حسن کو 22 نومبر کو اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن کے ایک پارک میں دو افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ واقعے کے وقت میجر لاریب کے ساتھ ان کی خاتون دوست بھی موجود تھیں، جنہیں پولیس نے واقعے کے اگلے روز گرفتار کرکے عدالت سے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔
پولیس کے مطابق خاتون کا جرم سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا اور انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ آئی جی اسلام آباد کے مطابق ملزمان نے بتایا کہ ’ان کے موٹرسائیکل کا ٹائرپنکچر ہوا تو انہوں نے سوچا ڈکیتی کر لیں۔‘ واقعے کے وقت لاریب اور ایک خاتون پارک میں واک کر رہے تھے۔
ملزمان نے پولیس کو بتایا کہ ’انہوں نے میجر لاریب کے سر پر بندوق رکھ انہیں لُوٹنے کی کوشش کی اور لاریب کے مزاحمت کرنے پر گولی چلا کر قتل کر دیا۔‘
نیوز کانفرنس کے بعد ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات نے اپنی ایک ٹویٹ میں لاریب قتل کیس کے ملزمان کے نام بھی بتا دیے۔ان کے مطابق ’ملزمان کا تعلق افغانستان سے ہے اور ان کے نام بیت اللہ اور گل سلیم ہیں۔‘
 انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک راہزنی کی ایک واردات تھی۔ قاتلوں کو ان کے موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کے ذریعے پکڑا گیا۔‘
پولیس کے مطابق ملزمان کچھ چھیننے میں ناکام رہے تھے۔آئی جی کے مطابق کیس خاصا مشکل تھا اور اس میں ہر پہلو سے تحقیقات کی گئیں۔اس کیس کے لیے ڈی آئی جی کی سربراہی میں دو ٹیمیں بنائی گئی تھیں جنہیں کافی محنت کے بعد کامیابی حاصل ہوئی۔
آئی جی اسلام آباد نے مزید بتایا کہ ’ڈکیتی کی مختلف وارداتوں میں ملوث 16 ارکان پر مشتمل چار گینگز بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں سی ڈی اے کے اہلکار کے قتل میں ملوث ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: