عادل الجبیر:’ایرانی جارحیت مزید برداشت نہیں‘

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ ایران خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے فوٹو: عرب نیوز
سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے پھر کہا ہے ’ ایران پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔ اب اس کی جارحیت برداشت سے باہر ہوگئی ہے‘۔ 
 روم میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ ایران کے خلاف انتہائی سخت دباﺅ کے حامی ہیں‘۔ 
عاجل ویب سائٹ کے مطابق عادل الجبیر نے زور دے کر کہا ’ ایران کو ایسے تمام وسائل سے محروم کرنا ضروری ہے جن کی بنیاد پر وہ خطے اور پوری دنیا کو دھمکیاں دے رہا ہے‘۔
عادل الجبیر کے مطابق’ ایران انقلاب برآمد کرنے کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔ ریاستوں کی خودمختاری کا احترام نہیں کرتا‘۔

عادل الجبیر کے مطابق ایران انقلاب برآمد کرنے کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔فوٹو: عرب نیوز

’ ہمیں ایران کے ساتھ فیصلہ کن سختی سے کام لینا ہوگا۔ کوئی جنگ نہیں چاہتا‘۔
عادل الجبیر نے یمن کے حوالے سے کہا ’ یمن کے مسئلے کا واحد حل سیاسی ہے۔ جنگ حوثیوں نے شروع کی ہے ہم نے نہیں۔حوثیوں سمیت ہر یمنی کا مستقبل یمن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ہر ایک کو یمن کے مستقبل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا‘۔
’ یمن میں حالات معمول پر لائے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد یمنی بحران کا تصفیہ ہوگا۔
سعودی وزیر مملکت کا کہنا تھا’ یمن ہمارے کے لیے بے حد اہم ہے اور یمن میں ایرانی مداخلت تباہ کن ہے۔
 امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے الجبیر نے کہا ’ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں۔ کوئی بھی حکمراں جماعت کو اس سے فرق نہیں پڑے گا۔ امریکہ کے ساتھ مل کر ایرانی مداخلت سے نمٹنے کی کوشش کریں گے ۔ امریکہ کے ساتھ مل کر ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ہے‘۔
 عادل الجبیر نے کہاکہ امیر قطر کو آئندہ ہفتے ریاض میں ہونے والی جی سی سی سربراہ کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ بھیج دیا گیا ہے۔ قطر کے ساتھ موقف کی تبدیلی دوحہ کے اقدامات سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوںنے کہا کہ سعودی عرب خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کے حامی تھے، ہیں او ررہیں گے۔
امریکہ کو بتا دیا کہ امن سے متعلق اس کے رویے دو ریاستی حل کے فارمولے کو بے اثر کردیں گے۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: