’ہم دستانوں کے بغیر باکسنگ کھیلتے تھے‘

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی باکسر محمد وسیم نے حکومتی سرپرستی نہ ہونے اور وسائل کی کمی سمیت تمام مشکلات کے باوجود عالمی سطح پر باکسنگ کے میدان میں اپنی قابلیت کی بدولت عالمی شہریت حاصل کی۔
وہ پروفیشنل باکسنگ میں ملک کی نمائندگی کرنے والے پہلے پاکستانی بنے، اس کے بعد پانچویں ہی مقابلے میں ورلڈ فلائی ویٹ چمپئن بنے۔ 
یہی نہیں ان کا پروفیشنل باکسنگ کا اب تک کا کیریئر بھی شاندار رہا ہے۔ اپنے11 میں سے 10 مقابلوں میں نہ صرف ناقابل شکست رہے بلکہ سات مقابلوں میں اپنے حریف کو تابر توڑ حملوں سے ناک آﺅٹ بھی کیا۔ 
محمد وسیم کی نظریں اب ورلڈ فلائی ویٹ چیمپئن شپ کے ٹائٹل پر ہیں۔ کوئٹہ میں اپنی رہائشگاہ پر اردو نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں محمد وسیم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ 2020 میں پاکستان کے لیے دوبارہ ورلڈ ٹائٹل جیتیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دبئی میں حالیہ مقابلے کے بعد وہ آرام کررہے ہیں اور اپنے خاندان کو وقت دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تین چار ہفتے بعد میری مینجمنٹ کمپنی اگلے مقابلے کا فیصلہ کرے گی۔ میری اگلی فائٹ ایلیمنٹر فائٹ ہوگی جو ورلڈ ٹائٹل کیلئے ہوگی۔ مجھے یقین ہے کہ میں انشااللہ 2020 میں پاکستان کے لیے ورلڈ چمپیئن بنوں گا کیونکہ میں اتنی سخت محنت کررہا ہوں۔‘

مجھے یہ بات حوصلہ دیتی ہے کہ میں ایک چھوٹے علاقے سے اٹھ کر اتنے بڑے مقام تک پہنچا ہوں: محمد وسیم

محمد وسیم نے 22 نومبر کو دو مرتبہ کے ورلڈ چیمپیئن میکسیکو کے گنیگن لوپز کو سخت مقابلے کے بعد آٹھویں راﺅنڈ میں شکست دی۔ اس مقابلے کے بارے میں محمد وسیم کا کہنا تھا کہ ’میں نے حریف کھلاڑی کو ناک آﺅٹ کرنے کی کافی کوشش کی مگر وہ بڑا ٹرِکی تھا اس کا پروفیشنل باکسنگ کا تجربہ مجھ سے بہت زیادہ تھا، میرے صرف دس مقابلے ہوئے تھے اور اس نے 40 کے قریب مقابلے کھیلے ہیں، و ہ دو مرتبہ کا ورلڈ چمپیئن بھی رہا مگر میں نے اچھی باکسنگ کھیلی اور اسے شکست دی۔‘ 
محمد وسیم نے اس مقابلے کے لیے سکاٹ لینڈ میں سخت ٹریننگ کی۔ اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’میرے ٹرینر ڈینی وارن مجھے تربیت دے رہے ہیں۔ اس مقابلے کے لیے انہوں نے مجھے بھر پور تیاری کرائی۔‘
محمد وسیم اس سے قبل تین سال امریکہ میں بھی رہے جہاں انہوں نے دنیا کی بہترین باکسنگ اکیڈمی میں ٹریننگ لی۔ 2018 میں کورین کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے پر انہوں نے آئرش کمپنی ایم ٹی کے گلوبل کے ساتھ معاہدہ کیا۔ محمد وسیم نے بتایا کہ ان کی مینجمنٹ کمپنی ایم ٹی گلوبل باکسنگ میں دنیا کی سب سے بڑی مینجمنٹ کمپنی ہے جو انہیں بھرپور سپورٹ کررہی ہے۔
محمد وسیم حکومتی سرپرستی نہ ملنے کی وجہ سے کئی مرتبہ عالمی مقابلوں میں شرکت سے محروم رہے۔ کئی بار انہوں نے مایوسی کا اظہار کرکے بیرون ملک کی شہریت لینے کا عندیہ بھی دیا۔ سابق ورلڈ چمپیئن کا کہنا ہے کہ کچھ مسائل تھے وہ حل ہوگئے۔’میں پاکستان کے سبز پرچم کی ہی نمائندگی کروں گا۔ میری مینجمنٹ کمپنی وہ تمام سہولیات اور ضروریات فراہم کررہی ہے ۔ میں پانچ ان باکسرز میں شامل ہوں جس کی میری مینجمنٹ کمپنی سب سے زیادہ خیال کرتی ہے۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ایک ٹریننگ کیمپ پر 70ہزار سے 80ہزار پاﺅنڈ کے اخراجات آتے ہیں۔ پاکستان میں کھیل کے اداروں کے پاس اتنے فنڈز نہیں ہوتے۔‘

محمد وسیم انڈین باکسر وجیندر سنگھ کے ہمراہ 

انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے ایک کمرے میں قائم کوئٹہ یوتھ باکسنگ کلب میں باکسنگ کھیلی، یہی سے باکسنگ سیکھی۔ 50 سال سے یہی کلب چل رہا ہے اور اب بھی اسی طرح ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئٹہ میں ایک بہترین اکیڈمی بناﺅں جس کے لیے حکومت کو میری مدد کرنی چاہیے۔‘ 
وہ بتاتے ہیں کہ ’کوئٹہ میں باکسنگ کا سب سے زیادہ ٹیلنٹ ہے۔ پاکستان میں اس طرح کا ٹیلنٹ کہیں بھی نہیں۔ سب سے اچھے باکسر یہاں کے ہیں۔ میں نئے ٹیلنٹ کو تربیت دینا چاہتا ہوں تاکہ وہ بھی میری طرح باہر جاکر پوری دنیا میں سبز ہلالی پرچم لہرائیں ۔کوئٹہ میں اگر باکسنگ اوپر آئے گی، ہم اور چمپیئن بنائیں گے، پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہوگا۔ میری کوشش ہوگی کہ اپنی مینجمنٹ کمپنی کو پاکستان میں لیکر آﺅں تاکہ وہ میری طرح مزید کھلاڑیوں کو سپورٹ کریں۔‘
محمد وسیم کے مطابق اس سے پہلے جو میرا پروموٹر تھا وہ غیر پیشہ ورانہ تھا جس نے مجھے بہت سخت فائٹ لیکر دیئے لیکن اس کے باوجود میں نے وہ مقابلے جیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کا کوئی ایسا باکسر نہیں جو تین چار مقابلوں میں ڈبلیو بی سی کا چمپیئن بنا ہو۔ میں واحد پاکستانی باکسر ہوں جس نے ایسا کیا۔ میں پانچویں مقابلے میں ہی ورلڈ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آیا۔‘ 

جب ہم کلب جاتے تھے توہمارے پا س جوتے نہیں ہوتے تھے: محمد وسیم (فوٹو اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ بات حوصلہ دیتی ہے کہ میں ایک چھوٹے علاقے سے اٹھ کر اتنے بڑے مقام تک پہنچا ہوں ۔ یہاں پر کوئی بھی سہولیات نہیں تھیں۔ میں چاہتا ہوں میں ایسے مقام تک جاﺅں جہاں آج تک کوئی پاکستانی کیا دنیا کا کوئی بھی باکسر نہیں پہنچا۔
محمد وسیم نے بتایا کہ ’1998 میں جب میں نے آٹھ نو سال کی عمر میں باکسنگ کھیلنا شروع کی تو بہت مشکلات درپیش تھیں۔ کوئی بھی سہولیات نہیں تھیں۔ خاندان کی طرف سے بھی سپورٹ نہیں تھی وہ صرف پڑھائی پر زور دیتے تھے۔ جب ہم کلب جاتے تھے توہمارے پا س جوتے نہیں ہوتے تھے۔ نہ دستانے اور نہ ہی ٹریک سوٹ ہوتا تھا۔ ہم بغیر جوتوں کے باکسنگ کھیلتے تھے۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’جب مقامی سطح کے مقابلے ہوتے تھے تو ہم شرکت کے لیے 30 سے 40 کلومیٹر دور پیدل جاتے تھے۔ ہمارے پاس نہ سائیکل ہوتی تھی اور ہی نہ پیسہ۔ اس وقت گھر آتا تھا تو وہ کہتے کہ آپ پڑھیں۔ سکول جاتا تو استاد بھی کہتے کہ تنقید کرتے۔‘

محمد وسیم نے دو مرتبہ کے ورلڈ چیمپیئن میکسیکو کے گنیگن لوپز کو شکست دی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

محمد وسیم کے مطابق ’کراچی میں کھیلنے جاتے تو وہاں 47 سینٹی گریڈ کی گرمی میں بھی کیمپ میں بجلی نہیں ہوتی، مچھروں کی بہتات ہوتی،کھانا بھی ٹھیک نہیں ملتا تھا۔ ٹیم کے ساتھ ریل کے سفر کے دوران ہم باتھ روموں کے پاس جاکر سوتے تھے ۔ان حالات میں ہم نے باکسنگ کھیلی ۔جنون کی حد تک شوق تھا ، یہ سب پرانی محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج اس مقام تک پہنچا۔ اگر آپ محنت کریں گے اللہ پر سو فیصد یقین کریں گے تو آپ کے راستے بنتے جائیں گے۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’مقامی سطح کے مقابلوں میں ہمارے ساتھ بے ایمانی کی جاتی تھی ، جیتے ہوئے مقابلے میں نتائج بدل کر ہمیں ہرایا جاتا۔ جنہوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ دہی کی، میں ان کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں ذہنی طور پر مزید مضبوط کیا۔ ان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہم مزید محنت کرتے اور اپنی خامیوںکو دور کرکے دوبارہ میدان میں اترتے، اس طرح ہم مزید مضبوط بنتے گئے۔‘ 
وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں اپنی ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو یہ چیزیں مجھے حوصلہ دیتی ہے کہ میں کرسکتا ہوں اور میں کرونگا۔ میں اسی لئے سخت محنت کرتا ہوں اور میں اپنے آپ کو دوبارہ ورلڈ چمپئن دیکھنا چاہتا ہوں۔‘ 
 

شیئر: