چترال میں مارخور کا ایک لاکھ 40 ہزار ڈالر میں شکار

شکار کیے گئے مارخور کے سینگوں کا سائز تقریباً 50 انچ ہے۔ (تصویر بشکریہ جو والورن)
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ایک امریکی شہری نے ایک لاکھ 40 ہزار ڈالر کے عوض مارخور کا قانونی شکار کیا ہے۔ 
محکمہ جنگی حیات کے مطابق یہ اب تک کسی مارخور کے شکار کے لیے ادا کی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ 
فارسٹ ڈویژن آفیسر حیات محمد ادریس نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچر کو 82 سالہ امریکی شہری جو والورن نے توشی ون کے علاقے میں کشمیر مارخور کا شکار کیا، جس کے سینگوں کا سائز تقریباً 50 انچ تھا جو گذشتہ 10 برسوں میں شکار کیا جانا والا سب سے بڑا مارخور ہے۔ 
انہوں نے بتایا کہ جو والورن نے مارخور کے شکار کا پرمٹ ایک لاکھ 40 ہزار ڈالر کے عوض حاصل کیا تھا جو اب تک کی سب سے زیادہ رقم ہے۔
حیات محمد ادریس کے مطابق 13 دسمبر کو گہریت کے علاقے میں ایک اور امریکی شکاری سٹین فورڈ ہوپر نے بھی ایک مارخور کا قانونی شکار کیا تھا جس کے لیے انہوں نے 95 ہزار ڈالر کا پرمٹ خریدا تھا۔ 
اس سے قبل 12 دسمبر کو گلگت بلتستان میں سکردو میں ایک اطالوی شہری نے رواں سیزن میں استور مارخور کا شکار کیا تھا جو رواں سیزن کا پہلا قانونی شکار تھا۔ اس شکار کے لیے انہوں نے 83500 امریکی ڈالر میں پرمٹ حاصل کیا تھا۔ 

اطالوی شہری نے سکردو میں رواں سیزن کا پہلا شکار کیا تھا۔

ٹرافی ہنٹنگ سکیم

حکومت پاکستان کی ٹرافی ہنٹنگ سکیم کے مطابق ہر سال مارخور کے شکار کے 12 پرمٹ نیلامی کے ذریعے جاری کیے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے لیے جاری کیے جانے والے چار پرمٹ میں سے تین چترال کے علاقے اور ایک کوہستان کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چار پرمٹ گلگت بلتستان کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ 
رواں سال مارخور کے شکار کا ایک پرمٹ 80 ہزار امریکی ڈالر سے زائد رقم میں نیلام کیا گیا تھا۔ 
محکمہ جنگی حیات اور جنگلات کا کام جنگلات اور جنگلی جانوروں کا تحفظ ہے جبکہ محکمے کی جانب سے جانوروں کے شکار کی اجازت دینے کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے حیات محمد ادریس نے بتایا کہ قانونی شکار کا مقصد غیرقانون شکار کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، اور پرمٹ کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقوم مقامی آبادی کو فراہم کی جاتی ہے جو اپنے طور پر جانوروں کی حفاظت کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جانوروں کے بچاؤ کا ایک طریقہ کار ہے جس سے مقامی آبادی کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور جانوروں کی نسل بھی محفوظ رہتی ہے۔ 
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق پرمٹ سے ملنے والی رقم کا 80 فیصد حصہ مقامی آبادی پر خرچ کیا جاتا ہے اور باقی 20 فیصد اس نایاب جانور کی افزائش نسل اور ناپید ہونے سے بچانے  کے اقدامات پر صرف کیا جاتا ہے۔

مارخور کے علاوہ آئی بیکس اور بلیو شیپ کا قانونی شکار بھی کیا جاتا ہے (فائل فوٹو: شکار سفاریز)

مارخور کا شکار

پاکستان میں مارخور کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں جن میں کشمیر مارخور، استور مارخور،چلتن مارخور اور سلیمان مارخور شامل ہیں۔ پاکستان کے علاوہ یہ افغانستان اور انڈیا کے پہاڑی علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ جانوروں کا تحفظ کرنے والے کچھ ملکی و غیر ملکی ادارے اب بھی اسے ان جانوروں میں شمار کرتے ہیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ کو بھی تنقید کا سامنا رہتا ہے۔ 
حیات محمد ادریس  نے بتایا کہ چترال میں 1996 میں مارخور کی تعداد صرف 200 کے قریب رہ گئی تھی لیکن حالیہ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ان کے مطابق  ایک مارخور کی اوسط عمر 14 سے 15 سال ہوتی ہے اور قانونی طور پر کیے جانے والے شکار میں اتنی عمر کا جانور ہی منتخب کیا جاتا ہے جبکہ مادہ جانوروں اور ان کے بچوں کا شکار نہیں کیا جاتا۔ 
محکمہ جنگی حیات کے مطابق مارخور کے شکار کے پرمٹ کا دورانیہ تین ماہ تک ہوتا ہے اور اس دوران شکاری پہاڑی علاقوں میں پرمٹ کے مطابق شکار کے لیے آتے ہیں۔
مارخور کے شکار پر پورا سال پابندی ہوتی ہے اور مقامی آبادی پر مشتمل نایاب جانوروں کے تحفظ اور بچاؤ کے لیے کام کرنے والی کمیٹیاں اس جانور کے شکار پر پابندی کے اطلاق میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں جبکہ پرمٹ فیس سے حاصل ہونے والی رقم مقامی آبادی میں تعلیم، صحت، صاف پانی اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ 

شیئر: