Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہیلتھ انشورنس کمپنیاں 30 منٹ کے اندر جواب دینے کی پابند‘

60 منٹ گزرنے کے بعد جواب نہ آئے تو یہ انشورنس کمپنی کی طرف سے منظوری شمار ہوگا (فوٹو: سبق)
سعودی ہیلتھ انشورنس کونسل نے کہا ہے کہ میڈیکل انشورنس کمپنیاں 30 منٹ اندر ہسپتالوں کی طرف سے موصول ہونے والی درخواست پر جواب دینے کی پابند ہیں۔ 60 منٹ گزر جانے کے بعد جواب موصول نہ ہوا تو اسے منظوری شمار کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں میڈیکل انشورنس کارڈ کے حامل شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو بعض حالات میں علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ہسپتال انتظامیہ انشورنس کمپنیوں سے منظوری کی درخواست بھیجتے ہیں۔
بعض اوقات انشورنس کمپنیوں کی طرف سے جواب دینے میں کافی وقت لگ جاتا ہے جس کے باعث مریض کو نہ صرف انتظار کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض حالات میں تاخیر کی وجہ سے مریض کی حالت گمبھیر ہوجاتی ہے۔

انشورنس کمپنی کی طرف سے جواب دینے میں تاخیر سے مریضوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے (فوٹو: الریاض)

ہیلتھ انشورنس کونسل نے انشورنس کمپنیوں کو تاکید کی ہے کہ ہسپتالوں کی طرف سے موصول ہونے والی درخواست پر فوری طور پر جواب دیا جائے۔ 
کونسل نے کہا ہے کہ ’انشورنس کمپنیاں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ 30 منٹ کے اندر اندر ہسپتال کو منظوری یا نا منظوری کا جواب دیں یا وضاحت طلب کریں‘۔
کونسل نے کہا ہے کہ ’انشورنس کمپنی کی طرف سے جواب موصول ہونے میں 60 منٹ سے زیادہ دیر ہو جائے تو یہ منظوری شمار کیا جائے گا۔ اس صورت میں ہسپتال مریض کو علاج معالجے فراہم کرسکتا ہے ‘۔
کونسل نے بتایا ہے کہ ’ہیلتھ انشورنس کے ضوابط کے مطابق انشورنس کارڈ کے حامل آؤٹ پیشنٹ کو اس صورت میں انشورنس کمپنی سے منظوری لینی ہوگی جب علاج پر 500 ریال سے زیادہ اخراجات لگتے ہوں یا مریض کو ہسپتال میں داخل کرنا ہو یا پھر آپریشن کی ضرورت ہو‘۔
کونسل نے کہا ہے کہ ’ایمرجنسی میں مریض کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے انشورنس سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے‘۔

شیئر: