نیا سال: چار دنوں میں 400 لاہوریوں کو کتوں نے کاٹ لیا

حکومت آوارہ کتوں سے نمٹنے کی کوئی ٹھوس حکمت عملی نہ بنا سکی۔ فوٹو اے ایف پی
لاہور کے مرکزی اینٹی ریبیز سنٹر کا دورہ کریں تو روزانہ متعدد متاثرین ویکسین کے انتظار میں کھڑے نظر آئیں گے۔ نئے سال کے پہلے دن بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی جب سو کے لگ بھگ لاہوریوں نے کتے کے کاٹنے پر سنٹر کا رخ کیا۔
اینٹی ریبیز سنٹر کی سربراہ ڈاکٹر عائشہ نواب نے اردو نیوز کو بتایا کہ جنوری کے پہلے چار دنوں میں ہی 400 متاثرین کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین لگ چکی ہے۔
’نئے سال کے پہلے دن سو کے لگ بھگ ایسے مریض اس سنٹر میں لائے گئے جن کو کتوں نے کاٹا تھا۔ اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر یہ تعداد سو کے لگ بھگ ہی ہے۔‘
عائشہ نواب نے بتایا کہ عام طور پر متاثرین کی تعداد اس سے زیادہ ہوتی ہے لیکن سردی کے باعث لوگ کا گھروں سے نکلنا کم ہو رہا ہے۔
’ایسا نہیں کہ شہر میں حملہ آور کتوں کی تعداد کم ہو گئی ہے بلکہ سردی میں لوگ باہر کم نکلتے ہیں۔ حتیٰ کہ پارکوں میں بھی کم لوگ نظر آتے ہیں۔‘
ڈاکٹر عائشہ کے مطابق گذشتہ سال جولائی میں ایک دن کے متاثرین کی تعداد 300 سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔
’کیونکہ گرمیوں میں لوگ زیادہ وقت باہر گزارتے ہیں اسی لیے کتوں کے حملوں کی زد میں بھی زیادہ آتے ہیں۔‘
اینٹی ریبیز سنٹر میں موجود 25 سالہ آصف علی نے بتایا کہ وہ گھر سے نکلے تو گلی میں ایک آوارہ کتے نے ان پر حملہ کر دیا۔
’میں نے بھاگ کر جان بچائی تو پھر بھی اس کی زد میں آ گیا اور اس نے پاؤں پر کاٹ لیا۔ اب میں یہاں ریبی سنٹر پہنچا ہوں اور مجھے ویکسین لگائی گئی ہے۔‘

روزانہ سو کے قریب متاثرین اینٹی ریبیز سنٹر کا رخ کرتے ہیں۔ فوٹو: اردو نیوز

سنٹر میں ایک سات سالہ زخمی عمیر بھی لائن میں کھڑا ہوا تھا۔ عمیر کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا گھر کے دروازے پر ہی کھڑا تھا کہ ایک آوارہ کتے نے اس پر حملہ کر دیا۔
’شور کی آواز سن کر ہم باہر بھاگے تو عمیر زخمی ہو چکا تھا، ہم فوری اسے یہاں لے آئے۔‘
ڈاکٹر عائشہ کے مطابق لاہور کے مرکزی اینٹی ریبیز سنٹر میں ویکسین وافر مقدار میں موجود ہے اور یہاں بالکل مفت علاج کیا جاتا ہے۔
پچھلے سال کتے کے کاٹنے کے حادثات اور ان سے نمٹنے میں انتظامیہ کی غفلت کے بعد سے اب ویکسین کی فراوانی تو ہے لیکن آوارہ کتوں کو قابو کرنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔
لاہور شہر میں آوارہ کتوں سے نمٹنے کی ذمہ داری ضلعی محکہ صحت کے پاس ہے۔  
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر میڈیکل سروسز ڈاکٹر عصمت ندیم نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کی پانچ ٹیمیں فیلڈ میں ہوتی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کم از کم سو سے ڈیڑھ سو آوارہ کتوں کو مارا جاتا ہے۔
’ہماری ٹیمیں دو طرح سے کام کرتی ہیں۔ ایک تو روزانہ کی بنیاد پر آنے والی شکایتوں کے ازالے کے لیے یعنی جس علاقے میں کتے نے کاٹ لیا تو ایک ٹیم فوری اس علاقے میں پہنچ کے اپنا کام شروع کر دیتی ہے۔ دوسرا ایک مستقل منصوبے کے تحت لاہور کے نو ٹاؤنز میں مرحلہ وار آوارہ کتوں کو تلف کیا جاتا ہے۔‘

مرکزی اینٹی ریبیز سنٹر میں مفت علاج کیا جاتا ہے۔ فوٹو: اردو نیوز

انہوں نے بتایا کہ آوارہ کتوں کو دو طریقوں سے تلف کیا جاتا ہے، زہر دے کر یا گولی مار کر۔
ڈاکٹر عصمت کے مطابق متاثرین کی تعداد میں کمی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ کتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہے۔
’دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ لاہور کے مضافاتی علاقے دوسرے اضلاع سے جڑے ہوئے ہیں، جیسے نشتر ٹاؤن قصور سے ملتا ہے، راوی ٹاؤن اور شاہدرہ شیخوپورہ سے ملتے ہیں، ان اضلاع میں منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے آوارہ کتے لاہور میں چاروں اطراف سے داخل ہوتے رہتے ہیں۔‘
گذشتہ سال سندھ اور پنجاب میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
یاد رہے کہ ستمبر کے مہینے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جب سندھ میں ایک بچے نے اپنی ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی تھی۔ بچے کو بر وقت ہسپتال تو پہنچا دیا گیا تھا لیکن ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے بچے کی جان نہ بچ سکی تھی۔
اس واقعہ نے ملک کے طول عرض میں اضطراب پیدا کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود وفاقی یا صوبائی سطح پر آوارہ کتوں سے نمٹنے کی کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آئی البتہ ویکسین ضرور وافر مقدار میں منگوا لی گئی ہے۔

شیئر: