’اپنے لیڈر کی ایک جھلک کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتا تھا‘

سرکار کے وزیر اعظم بننے پر خود چاشنی بنا کر پورے گاؤں میں تقسیم کی (فوٹو:اے ایف پی)
میں بہت جذباتی تھا بچپن سے ہی ایسا تھا، اپنے لیڈر کے خلاف کوئی بات نہیں سنتا تھا۔ لیڈر اپنے والد کی برسی پر گاؤں آتا تھا اس کے بعد بڑے جلسے اور لنگر کا اہتمام ہوتا تھا الیکشن بھی یہاں سے لڑتا تھا۔ میں سارا دن کرسیاں خود صاف کرکے لگاتا تھا۔
پنڈال میں تمبو کے لیے میخیں خود ٹھونکتا، بلا معاوضہ سب کام کرتا کیونکہ لیڈر اور پارٹی سے مجھے عقیدت تھی۔ اس دن مجھے کیا پورے گاؤں کو پیٹ بھر کر مفت کھانا ملتا ایسا شاندار کھانا انہیں کہاں نصیب ہوتا تھا بس سال میں ایک بار ایسا کھانا ملتا تھا ورنہ تو پیاز پانی سے روٹی کھاتے تھے۔ 
اپنے لیڈر کی ایک جھلک کے لیے میں کچھ بھی کرسکتا تھا اس بار تو صرف چند گز کے فاصلے پر تھا کہ لیڈر کو چھو کر سلام کرسکوں لیکن  کالی وردی والے محافظ نے میرا ہوائی چپل والا پیر اپنے بوٹ تلے کچل دیا۔ میرے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی لیکن  دل نہیں ٹوٹا اس محافظ کو کیا پتہ کہ میں اپنے لیڈر کو کتنا پیار کرتا ہوں۔
بیساکھی کے سہارے چلنے لگا زخم بڑھتا گیا، پیر مفلوج ہو گیا اتنے پیسے نہیں تھے کہ علاج ہوتا، لوگوں نے میرا نام ہی لنگڑا مستانہ رکھ دیا۔ میں پھر بھی مست اپنے لیڈر کی تصویریں چومتا پارٹی کے نغموں پر رقص کرتا لوگ اتنے سکے نچھاور کردیتے کہ دو وقت کی روٹی آجاتی۔
پھر ایک منحوس دن میرے لیڈر کو کوئی قتل کر گیا اور قاتل نامعلوم۔ کارکنوں نے ہر چیز کو آگ لگا دی جنازے پر بہت دنیا روئی۔ ایصال ثواب کے لیے اتنا بڑا لنگر پہلے پورے گاؤں نے نہیں دیکھا تھا لیکن مجھ سے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا گیا سب غریب تھیلی بھر بھر کر کھانا لے جا رہے تھے۔ میں بس بڑے سرکار کی قبر کی صفائی کرتا رہتا زندگی میں ان کا قرب نصیب نہیں ہوا لیکن اب اس غلام کو ان کی قبر کے پاس جگہ مل گئی۔ لوگ مجھے مجذوب سمجھنے لگے اور دعائیں کرنے کا کہنے لگے۔

’سرکار اس بار جب وزیر اعظم بن کر گاؤں آئے تو میں ان کی گاڑی کے سامنے رقص کرنے لگا۔‘ (فوٹو:اے ایف پی)

 میں اس کیفیت سے تب باہر آیا جب میرے لیڈر کی پارٹی کی کمان ان کے بیٹے اور بہو نے سنبھال لی۔ یہ دونوں چاند سورج کی جوڑی تھے۔ باہر سے پڑھے، فرفر انگریزی بولتے اور ایسا لباس پہنتے تھے جیسے بادشاہ ملکہ ہوں۔ ان  کے جوتے اتنے چمکدار کہ ہم غریب ان میں اپنا چہرہ دیکھ سکیں۔ جب وہ بولتے تو پھول جھڑتے تھے میں پھر سے زندہ ہوگیا۔ اپنے مفلوج پیر کے ساتھ پھر ناچنا شروع ہو گیا۔
ماں نے بھی میری شادی کروا دی، گھر پر بہت غربت تھی لیکن بچوں کی قطار لگ گئی۔ اب میں اپنے پانچ بچوں کو بھی لے کر جلسوں میں جاتا تھا ان سے نعرے لگواتا۔ وہ بھی لنگوٹ میں ناک صاف کرتے میرے لیڈر کے لیے نعرے لگاتے، میں بھی خوشی سے ناچ پڑتا۔ میں اور بچے خوب پیٹ بھر کر صرف دو بار کھانا کھاتے جب سال میں دو بار سرکار اور بیگم صاحبہ برسی کی وجہ سے گاؤں آتے۔ اس دن تو گاؤں پہچان میں نہیں آتا۔ ہر طرف صفائی، مفت کھانا پینا اور اس دن تو سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر بھی ہوتا۔

ایک منحوس دن میرے لیڈر کو کوئی قتل کر گیا اور مجھ سے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا گیا۔ (فوٹو:اے ایف پی)

چھوٹے سرکار نے جب گاؤں سے الیکشن لڑا تو اس نے دن رات کام کیا چھ دن تو گھر ہی نہیں گیا۔ سرکار نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ جیت گئے تو گاؤں میں بجلی آئے گی اور بچوں کے لیے سکول بنے گا۔  میں سب سے زیادہ تالیاں بجاتا کہ ’دیکھو! میرے گاؤں میں تبدیلی آئے گی۔‘
میرے سرکار پھر وزیراعظم بن گئے، میں نے اپنے ہاتھوں سے چاشنی بنا کر پورے گاؤں میں تقسیم کی۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ مہنگی مٹھائی بانٹ سکتا بس جتنا ناچ کر کمایا سب سرکار پر نچھاور کردیا۔ پارٹی کے دفتر جا کر خوب کام کیے، سارے گاؤں کو لیڈر کی تصویر والے پوسٹر سے بھر دیا۔ میں نے کبھی اس کام کا معاوضہ نہیں لیا پیار کا کوئی مول نہیں ہاں سرکار کا لنگر ضرور کھایا پیٹ کی دوزخ کی آگ بجھتی نہیں۔

جب سرکار اور بیگم صاحبہ برسی کی وجہ سے گاؤں آتے تو مفت کھانا ملتا۔ (فوٹو:اے ایف پی)

سرکار اس بار جب وزیر اعظم بن کر گاؤں آئے تو میں ان کی گاڑی کے سامنے رقص کرنے لگا۔ ان کے ڈرائیور کو شاید میں نظر نہیں آیا وہ تیزی میں گاڑی کے ٹائر سے میرے واحد ٹھیک پیر کو کچل گیا۔ ہر طرف شور مچ گیا لوگ مجھے بڑے ہسپتال لے گئے میرے لیڈر کو پتہ نہیں چلا ورنہ وہ گاڑی روک کر میرے پاس آتے مجھے خود ہسپتال لے کر جاتے۔
میرے پاس پیسے نہیں تھے اس لیے ہسپتال سے نکال دیا گیا۔ اب میں مکمل لنگڑا تھا بھیک مانگنے پر آگیا۔ اس بار جب سرکار جلسے کے لیے آئے تو میں بستر سے اٹھ بھی نہیں پا رہا تھا۔ میرے بچے لنگر تھیلی میں بھر کر لائے لیکن اس کا دل نہیں کیا کہ ایک لقمہ بھی لوں۔ لنگڑا مستانہ کو سب بھول گئے تھے۔ پھر میرے سرکار کی حکومت چلی گئی ان پر الزام لگا کہ انہوں نے سرکاری خزانہ لوٹا، وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
نہ گاؤں میں بجلی آئی نہ ہی سکول بنا اور نہ ہسپتال میں دوائی ڈاکٹر ہے اور نہ ہی میری جیب میں ایک دمڑی ہے۔ پانچ بچے بھیک مانگ کر لاتے ہیں تو روٹی پانی کے ساتھ کھاتے ہیں۔ اب میں دو بوسیدہ بیساکھیوں کے ساتھ گاؤں کی کچی گلی میں بیٹھا سوچ رہا ہوں۔
ووٹ بڑا نہ کارکن بڑا
یہاں صرف ہے نوٹ بڑا 

شیئر: