’پاکستانی انڈیا آ سکتے ہیں، ہم بیلگام نہیں جا سکتے‘

سنجے راوت کے بقول پابندی لگی تو جو ہوگا دیکھا جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں شیو سینا کے رہنما سنجے راوت نے کہا ہے کہ شہریت کے نئے قانون میں ترمیم کے تحت پاکستانیوں کو انڈیا کی شہریت دی جا سکتی ہے تو ان کے انڈین ریاست کرناٹک کے شہر بیلگام میں داخلے پر پابندی کیوں لگائی جا رہی ہے؟
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق شیو سینا کے رہنما نے صوبائی حکومت پر طنز کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ’پاکستانی، بنگلہ دیشی اور روہنگیا انڈیا میں داخل ہو سکتے ہیں لیکن مہاراشٹر کے لوگ بیلگام نہیں جا سکتے، یہ غلط ہے۔ ہمارے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ایک دوسرے پر پابندیاں لگا دیں۔‘
انڈین حکومت کا دعویٰ ہے کہ انڈیا میں شہریت کے قانون میں ترمیم کے ذریعے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے آنے والے افراد کو شہریت دی جا رہی ہے۔
تاہم دوسری طرف انڈیا میں بیشتر حلقے شہریت کے نئے قانون کو مسلم مخالف قرار دے رہے ہیں اور اس حوالے سے انڈیا بھر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں اب تک 28 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
سنجے راوت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’بیلگام میں ادبی اور کلچرل پروگرام ہو رہا ہے اور میں وہاں لوگوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ اگر پابندی لگانی ہے تو پھر دیکھا جائے گا جو ہوگا۔‘
خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ روز مہاراشٹر کے وزیر راجندرا پٹیل کے ساتھ مبینہ طور ہاتھا پائی اور انہیں کرناٹک کے ضلع بیلاگوی میں خطاب سے روک دیا گیا تھا۔

شیئر: